30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حرف مفتوح یا مضموم ہوتو’’را‘‘ پُر ہوگی جیسے وَالْعَصْرْ، وَالطُّوْرْ ، اَلنَّارْ ، نُوْرْ
٭… ’’را‘‘موقوفہ سے پہلے اگر کسرہ ہوتو’’را‘‘ باریک پڑھی جائے گی جیسے فَاصْبِرْ ، فَاَنْذِرْ ، یَغْفِرْ
٭… را موقوفہ کا ماقبل حرف ساکن ہواور اس ساکن حرف سے پہلے حرف مکسور ہوتو ’’راء‘‘ باریک ہوگی جیسے اَلسِّحْرْ ، حِجْرْ ، ذِکْرْ ، فِکْرْ
٭… ’’را‘‘ موقوفہ سے پہلے یا ساکن ہوتو’’را‘‘ باریک پڑھی جائے گی جیسے خَیْرْ، قَدِیْرْ
(4) را مشدَّدہ کی تفخیم وترقیق کے قواعد :
رامشدَّدہ کی تعریف : وہ’’ را‘‘ جس پر تشدید ہو ۔ ’’ را‘‘ مُشَدَّدہ اپنی حرکت کے مطابق پُر یاباریک پڑھی جائے گی یعنی اگر اس پر زبر یاپیش ہو تو پُر اور اگر زیر ہو تو باریک پڑھی جائے گی، پہلی ’’را‘‘ دوسری ’’را‘‘ کے تابع ہوگی جیسے ذُرِّیَّۃٍ، فَفِرُّوْا
(5) رامرامہ کی تفخیم وترقیق کے قواعد :
’’را‘‘ مُرامہ کی تعریف : ’’ را مُرَامَہ ‘ ‘ اس ’’ را ‘‘ کو کہتے ہیں جس پر ’’ وقف بالرّوم ‘‘ کیاگیا ہو ۔ ٭…’’ را مُرَامَہ ‘ ‘ بھی اپنی حرکت کے مطابق پُر یاباریک پڑھی جائے گی مثلاً ’’ وَالْفَجْر‘‘ کی ’’ را مکسور ‘‘پر ’’ وقف بالرّوم ‘‘ کیاگیا تورا باریک اور نُوْرٌ کی ’’را‘‘پر ’’ وقف بالرّوم ‘‘ کیاگیا تو ’’ را‘‘ پُرپڑھی جائے گی ۔
(6) را مُمالہ کی تفخیم وترقیق کے قواعد :
’’را‘‘ مُمالہ کی تعریف : ’’را مُمالہ ‘ ‘ وہ جس میں ’’ امالہ ‘‘ کیاگیاہو ۔
٭…’’ را مُمالہ ‘ ‘ زیر …ِ اور ’’ ی‘‘ کی طرف مائل ہونے کی وجہ سے باریک پڑھی جاتی ہے جیسے مَجْرٖ ھَا
{۱}… تفخیم وترقیق کے معنی بیان کیجئے ؟
{۲}… تفخیم وترقیق کے اعتبار سے حُروف تہجی کی کتنی قسمیں بنتی ہیں ؟
{۳}… ا لف کی تفخیم وترقیق کاقاعدہ بیان کیجئے ؟
{۴}… لام کی تفخیم وترقیق کا قاعدہ بیان کیجئے ؟
{۵}… را کی تفخیم وترقیق کے اعتبار سے کتنی قسمیں بنتی ہیں ، ان کے نام بتائیے ؟
{۶}… را متحرکہ کی تعریف اور تفخیم وترقیق کے قواعد بیان کیجئے ؟
{۷}… را ساکن کی تعریف اور تفخیم وترقیق کے قواعد بیان کیجئے ؟
{۸}… را موقوفہ کی تعریف اور تفخیم وترقیق کے قواعد بیان کیجئے ؟
{۹}… را مشدَّدہ کی تعریف اور تفخیم وترقیق کے قواعد بیان کیجئے ؟
{۱۰}… را مُرامہ کی تعر یف اور تفخیم وترقیق کے قواعد بیان کیجئے ؟
{۱۱ }… را ممالہ کی تعریف اور تفخیم وترقیق کے قواعد بیان کیجئے ؟
سبق نمبر ۱۷ :
لغوی معنی : حرکت کے لغوی معنی ٰ ’’ ہلنے ‘‘کے ہیں ۔ اصطلاحی معنی : اصطلاحِ تجوید میں زبر …َزیر…ِ پیش…ُکو’’ حرکات‘‘ کہتے ہیں ۔ حرکات، حرکت کی جمع ہے ۔
(۱)زبر…َ کو ’’ فتحہ ‘‘ ، جس حرف پر زبر ہو اسے ’’ مفتوح ‘‘کہتے ہیں ۔
(۲)زیر…ِکو ’’ کسرہ ‘‘ ، جس حرف کے نیچے زیر ہو اسے ’’ مکسور ‘‘ کہتے ہیں ۔
(۳)پیش …ُکو ’’ضمّہ‘‘ ، جس حرف پر پیش ہواسے ’’ مضموم ‘‘ کہتے ہیں ۔
حرکات کو بغیر کھینچے ، بغیر جھٹکا دیئے معروف یعنی عربی لب ولہجہ کے مُطابق پڑھنا چاہیے ۔ اور مجہول ادائیگی سے بچنا چاہیے ۔
فتحہ : یہ حرکت مُنہ اور آوازکھول کراداہوتی ہے ۔ جیسے تَ
کسرہ : یہ حرکت مُنہ اور آواز جھکاکر اداہوتی ہے جیسے تِ
ضَمّہ : یہ حرکت ہونٹوں کو گول کرکے ناتمام مِلانے سے اداہوتی ہے جیسے تُ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع