30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وہ غُنّہ ہے جو ایک الف کی مقدار کے برابرادا کیا جائے ۔ اسے ’’ غُنّہ فرعی‘‘بھی کہتے ہیں ۔
میم اور نو ن مُشَدَّد کا غُنّہ :
’’میم مشدد ‘‘ اور’’ نو ن مُشَدَّد‘‘ میں ہمیشہ غُنّہ ہوتاہے یہ غُنّہ واجب ہے اس کی مقدار ایک الف کے برابر ہے ۔
{۱}… غُنَّہ کا لغوی اور اصطلاحی معنٰی بیان کیجئے ؟
{۲} …غُنَّہ کی کتنی قسمیں ہیں نیز نام بتایئے ؟
{۳ }… غُنَّہ آنی کسے کہتے ہیں اور غُنَّہ آنی کی مقدار بیان کیجئے ؟
{۴}… غُنَّہ زمانی کیا ہے ؟
{۵}… میم مشدّد ، نون مُشَدّد میں غُنَّہ کرنے کا حکم بیان کیجئے ؟
سبق نمبر ۱۶
تفخیم کے معنی : حرف کو پُرپڑھنا ۔ جو حرف پُر پڑھاجائے اسے ’’ مُفَخَّم‘‘ کہتے ہیں ۔ اورترقیق کے معنی : حرف کو باریک پڑھنا ۔ جو حرف باریک پڑھا جائے اسے ’’ مُرَقَّق‘‘ کہتے ہیں ۔ تفخیم وترقیق کے اعتبار سے حروف کی تین قسمیں ہیں :
(1… بعض حروف ہمیشہ ہرحا لت میں پر پڑھے جاتے ہیں یہ حروف مستعلیہ
ہیں جن کا مجموعہ ’’ خُصَّ ضَغْطٍ قِظْ‘‘ ہے ۔
(2… بعض حروف ہمیشہ ہر حالت میں باریک پڑھے جاتے ہیں یہ ’’ ا ، ل، ر‘‘ کے علاوہ با قی تمام حروفِ مستفلہ ہیں ۔
(3… بعض حروف کہیں پُر اورکہیں باریک پڑھے جاتے ہیں یہ حروف تین ہیں ’’ ا، ل، ر‘‘ ۔
’’الف‘‘ کی تفخیم و ترقیق کے قواعد :
’’الف ‘‘ ہمیشہ اپنے ماقبل کے تابع ہوتاہے ۔ اگر ماقبل حرف پُر ہو تو الف بھی پُر ہوگاجیسے قَالَ اور اگر ماقبل حرف باریک ہو تو الف بھی باریک ہوگا جیسے کَانَ ۔
’’لام‘‘ کی تفخیم و ترقیق کے قواعد :
٭… اسمِ جلالت ’’اللّٰہ‘‘کے ’’لام‘‘ سے پہلے اگر حرف مفتوح یا مضموم ہوتو اسمِ جلالت ’’اللّٰہ‘‘کا لام پُر پڑھاجائے گاجیسے اِنَّ اللّٰہَ ، رُسُوْلُ اللّٰہِ
٭… اور اگر اسمِ جلالت ’’ اللّٰہ‘‘ کے ’’لام‘‘ سے قبل حرفِ مکسور ہوتو اسمِ جلالت ’’اللّٰہ‘‘ کا ’’لام‘‘ باریک پڑھاجائے گاجیسے بِسْمِ اللّٰہِ
نوٹ… : اسمِ جلالت یعنی لفظ ’’اللّٰہ‘‘کے ’’لام‘‘ کے علاوہ ہر ’’لام ‘‘ ہر حالت میں باریک ہی پڑھاجائے گا ۔
را کی تفخیم و ترقیق کے قواعد :
’’را‘‘ کی تفخیم و ترقیق کے اعتبار سے چھ صورتیں بنتی ہیں : (1) ’’را‘‘ متحرکہ (2) ’’را ‘‘ساکنہ (3) ’’را‘‘ موقوفہ (4) ’’را‘‘مشدَّدہ (5)’’را ‘‘ مُرامہ(6) ’’را‘‘ مُمالہ ۔
(1) ’’راء‘‘ متحرکہ کی تفخیم وترقیق کے قواعد :
٭… ’’را‘‘ پر زبر …َدو زبر…ًپیش …ُ دو پیش…ٌ کھڑا زبر …ٰاور اُلٹاپیش …ٗ ہوتو ’’را‘‘ پُر ہوگی جیسے رَبَّ، رُبَمَا، اَجْرًا، اَجْرٌ، اِبْرٰھِیْم
٭…اور اگر ’’را‘‘ کے نیچے زیر …ِدوزیر…ٍکھڑی زیر…ٖہوتو’’را‘‘ باریک ہوگی جیسے شَرِبَ، نُوْرٍ، رٖ
(2) راساکنہ کی تفخیم وترقیق کے قواعد :
٭’’را‘‘ ساکن سے پہلے حرف مفتوح یا مضموم ہوتو’’را‘‘ پُر ہوگی جیسے قُرْاٰنٌ ، فَرْدًا ٭’’را‘‘ ساکن سے پہلے کسرہ ٔعارضی ہوتو’’را‘‘پُر ہوگی جیسے اِرْجِعْ ٭’’را‘‘ ساکن سے پہلے کسرہ دوسرے کلمہ میں ہوتو ’’راء‘‘ پُر ہوگی جیسے رَبِّ ارْجِعُوْن٭’’را‘‘ساکن سے پہلے کسرہ ہواور مابعد حُرُوفِ مُستعلیہ میں سے کوئی حرف اسی کلمہ میں ہوتو’’را‘‘ پُر ہوگی جیسے مِرْصَادٍ، قِرْطَاسٍ
نوٹ… ؑ : لفظِ ’’ فِرْقٍ‘‘ کی ’’را‘‘ پُر یاباریک دونوں طریقے سے پڑھ سکتے ہیں ۔ ٭’’را‘‘ساکن سے پہلے کسرہ ہواور ’’ حروفِ مستعلیہ ‘‘ میں سے کوئی حرف دوسرے کلمے میں ہوتو’’را‘‘باریک ہوگی جیسے فَاصْبِرْ صَبْرًا ٭’’ را‘‘ساکن سے پہلے کسرہ ٔ اصلی اسی کلمہ میں ہوتو ’’را‘‘ باریک پڑھی جائے گی جیسے فِرْعَوْن
(3) را موقوفہ کی تفخیم وترقیق کے قواعد :
’’را‘‘ موقوفہ کی تعریف : راموقوفہ یعنی وہ ’’ را ‘‘ جس پرسکون کے ساتھ وقف کیاجائے ۔ اسکے مندرجۂ ذیل چند قواعد ہیں :
٭… ’’را‘‘ موقوفہ سے پہلے زبر …َیا پیش …ُہوتو’’را‘‘ پُر ہوگی جیسے وَانْحَرْ، قَمَرْ، نُذُرْ، زُبُرْ
٭… ’’را‘‘موقوفہ سے پہلے حرف ساکن ہواور اس ساکن حرف سے پہلے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع