30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{۲}… صفاتِ عارضہ بالصّفت کی تعریف بیان کیجئے ؟
{۳}… صفاتِ عارضہ بِالْحرف کی تعریف بیان کیجئے ؟
{۴} …صفاتِ عارضہ مع تعریفات و امثلہ بیان کیجئے ؟
سبق نمبر ۱۳ :
نون ساکن، نون تنوین اورمیم ساکن کا بیان
نون ساکن کی تعریف : ہر وہ نون جس پر علامتِ جزم( …ْ) ہو اسے ’’نون ساکن‘‘ کہتے ہیں جیسے اَنْ ۔
نونِ تنوین کی تعریف : تنوین کی ادائیگی میں جو نون کی آواز پیدا ہوتی ہے ۔ اسے ’’ نونِ تنوین ‘‘ کہتے ہیں جیسے ب دوزیر …ٍ بِنْ
نون ساکن اور نونِ تنوین کا فرق
نون ساکن اور نونِتنوین میں چار اعتبار سے فرق ہے
نون ساکن نونِ تنوین
(۱)نون ساکن کلمے کے درمیان اور آخر میں آتاہے جیسے اَنْعَمْتَ، مَنْ (۱) نونِ تنوین کلمے کے آخر ہی میں آتاہے جیسے عَفُوٌّ، غَفُوْرٌ
(۲) نون ساکن اسم ، فعل ، حرف تینوں میں آتاہے جیسے الانْبیاء، یَنْؤنَ، مِنْ (۲) نونِ تنوین صرف اسم کے آخر میں آتاہے جیسے کَلِیْمٌ
(۳)نون ساکن لکھا بھی جاتاہے اور پڑھا بھی جاتاہے جیسے وَانْحَر (۳) نونِ تنوین لکھا نہیں جاتا پڑھا جاتا ہے جیسے مُسْلِمَاتٍ
(۴) نون ساکن وقف میں بھی پڑھا جاتاہے اور وصل میں بھی جیسے سَاُنْزِلَ، رَبِّ الْعٰلَمِیْنْO (۴) نونِ تنوین وصلاًپڑھاجاتاہیجیسے سَوَائٌ عَلَیْھِمْ اور وقف کی صورت میں دو زبر…ًہوتوالف سے بدل جاتا ہے جیسے اَبَدًا سے اَبَدَا اور اگر دوزیر …ٍیا دوپیش …ٌ ہوتوتنوین حذف ہو جاتاہے جیسے کَلِمٰتٍ سے کَلِمٰتْ، وَسِیْلَۃٌ سے و َسِیْلَہ
نون ساکن اورتنوین کے چار قاعدے ہیں :
٭… اظہار ٭… ادغام ٭…اقلاب ٭…اخفاء
{1}…اظہار کی تعریف :
لغوی معنٰی : ’’ظاہر کرنا‘‘ اصطلاحی معنٰی : اصطلاحِ تجوید میں ’’ حرف کو اس کے مخرج سے جمیع صفات (یعنی تمام صفات) کے ساتھ بغیر کسی تَغَیُّر (یعنی تبدیلی) کے اداکرنے ‘‘کو کہتے ہیں جیسیمَنْ اٰمَنَ ۔
نون ساکن یاتنوین کے بعد ’’ حُرُوفِ حلقی ‘‘ میں سے کوئی حرف آجائے تو وہاں ’’ اظہار ‘‘ ہوگا جیسے مِنْ خَیْرٍ، مُلٰقٍ حِسَابِیَہ، اِس کو ’’ اظہارِ حلقی‘‘ کہتے ہیں ۔
{2}…ادغام کی تعریف :
لغوی معنٰی : ’’ ملانا‘‘ اصطلاحی معنٰی : اصطلاحِ تجوید میں ’’ایک ساکن حرف کو دوسرے مُتحرک حرف میں اِس طرح ملانے ‘‘کو کہتے ہیں کہ دونوں حُرُوف مل کر ایک ’’ مُشَدَّد ‘‘ حرف پڑھاجائے جیسے مِنْ رَّبِّکَ ۔ پہلا حرف جسے ملایا جائے اُسے ’’مُدْغَم ‘‘ اور دوسرا حرف جس میں (پہلاحرف) ملایاجائے اسے ’’ مُدْغَم ْ فِیْہ‘‘ کہتے ہیں ۔
نون ساکن یاتنوین کے بعد حُرُوفِ ’’یَرْمَلُوْن ‘‘ میں سے کوئی حرف آجائے تو وہاں ’’ ادغام ‘‘ ہوگا’’ لام‘‘اور ’’راء‘‘میں بغیر غُنّہ کے اور باقی چار حُرُوف ’’یُوْمِنُ‘‘ میں غُنّہ کے ساتھ ادغام ہوگا جیسے مَنْ یَّقُوْلُ، صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً، اِنْ لَّم، مِنْ رَّبِّک ، اسے ’’ ادغامِ یرملون‘‘ کہتے ہیں ۔
ادغامِ یرملون کے لئے ضروری ہے کہ نون ساکن اور تنوین کے بعد حروفِ یرملون دوسرے کلمہ میں ہوں ۔
مندرجہ ذیل چار کلمات میں نون ساکن کے بعد حُرُوفِ ’’یَرْمَلُوْن ‘‘ کے ایک کلمے میں آنے کی وجہ سے ’’ ادغام ‘‘ نہیں بلکہ ’’ اظہارِ مُطْلَق ‘‘ ہوگا اس لئے ان چاروں کلمات میں غُنّہ نہ کریں گے :
دُنْیَا …بُنْیَانٌ… صِنْوَانٌ… قِنْوَان
{3}…اقلاب کی تعریف :
لغوی معنٰی : ’’ بدلنا ‘‘ اصطلاحی معنٰی : اصطلاحِ تجوید میں ’’ایک حرف کو دوسرے حرف سے بدلنے کو ’’ اقلاب ‘‘ کہتے ہیں ۔
نون ساکن یاتنوین کے بعد حرف’’ ب ‘‘ آ جائے تو نون ساکن اور تنوین کومیم سے بدل کر ’’ اخفاء ‘‘ کرکے پڑھیں گے جیسے مِنْْمبَعْدِ ، حِلٌّمبِھٰذَا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع