30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صفاتِ لازمہ کی اقسام : صفاتِ لازمہ کی دو قسمیں ہیں :
(1)صفاتِ لازمہ متضادہ (2) صفاتِ لاز مہ غیرِ مُتَضادہ
صفاتِ لازمہ مُتَضادہ کی تعریف :
صفاتِ لازمہ متضادہ وہ صفات ہیں جو آپس میں ایک دوسرے کی ضدہوں جیسے ’’ ہمس ‘‘کی ضد’’ جہر ‘‘ اور’’ شدّت ‘ ‘ کی ضد ’’ رخاوت ‘‘ ہے ۔
صفاتِ لازمہ مُتَضادہ دس۱۰ ہیں ۔ جن میں سے پانچ ، پانچ کی ضد ہیں ۔
{1}… ہمس {2} … جہر
{3}…شدّت {4} … رخاوت
{5}… استعلاء {6} … استفال
{7}… اطباق {8} … انفتاح
{9}… اذلاق {10}… اصمات
(1)…ہمس :
لغوی معنی : ’’پستی ‘‘ ۔ اصطلاحی معنی : اصطلاحِ تجویدمیں ’’ضعف کی وجہ سے آواز کے پست ہونے ‘‘ کو کہتے ہیں ۔ جن حُرُوف میں یہ صفت پائی جاتی ہے انہیں ’’ حُرُوفِ مہموسہ‘‘کہتے ہیں اور یہ دس۱۰ ہیں جن کا مجموعہ ’’فَحَثَّہ شَخْصٌ سَکَتْ ‘‘ ہے ۔
طریقۂ ادائیگی : حُروفِ مہموسہ کو ادا کرتے وقت آواز اُن کے مخرج میں اس قدر ضعف یعنی کمزوری سے ٹھہرتی ہے کہ سانس جاری رہتا ہے اور آواز پست ہو جاتی ہے ۔
(2)…جہر :
یہ صفت ہمس کی ضد ہے ۔ لغوی معنی : ’’بلندی ‘‘اصطلاحی معنی : اصطلاحِ تجویدمیں ’’ قُوّت کی وجہ سے آواز کے بلند ہونے ‘‘ کو کہتے ہیں ۔ جن حُرُوف میں یہ صفت پائی جاتی ہے انہیں ’’ حُرُوفِ مجہورہ‘‘ کہتے ہیں ۔ حروف مہموسہ کے علاوہ باقی انیس ۱۹ حروف مجہورہ ہیں ۔
طریقۂ ادائیگی : حُرُوفِ مجہورہ کو ادا کرتے وقت آواز اُن کے مخرج میں اس قدر قُوّت سے ٹھہرتی ہے کہ اس کے اثر سے سانس کا جاری ہونا موقوف ہوجاتاہے اور آواز بلند ہوجاتی ہے ۔
(3)…شدّ ت :
لغوی معنی : ’’سختی‘‘ اصطلاحی معنی : اصطلاحِ تجوید میں ’’ قُوّت کی وجہ سے آواز کے سخت ہونے ‘‘ کو کہتے ہیں ۔ جن حُرُوف میں یہ صفت پائی جاتی ہے انہیں ’’حُرُوفِ شدیدہ‘‘ کہتے ہیں اور یہ آٹھ۸ ہیں جن کا مجموعہ’’ أَجِدُ قَطٍ بَکَتْ‘‘ہے ۔
طریقۂ ادائیگی : حُرُوفِ شدیدہ کو ادا کرتے وقت آواز اُن کے مخرج میں اتنی قُوّت سے ٹھہرتی ہے کہ فوراً بند ہوجاتی ہے اورسخت ہوجاتی ہے ۔
(4)…رخاوت :
یہ صفت’’شدّت ‘‘کی ضد ہے ۔ لغوی معنی : ’’نرمی‘‘، اصطلاحی معنی : اصطلاحِ تجویدمیں ’’ ضعف کی وجہ سے آواز کے نرم ہونے ‘‘ کو کہتے ہیں ۔ جن حُرُوف میں یہ صفت پائی جاتی ہے انہیں ’’ حُرُوفِ رخوہ‘‘ کہتے ہیں اور یہ سولہ۱۶ ہیں ۔ جوحُرُوفِ شدیدہ اور حُرُوفِ مُتَوسّطہ کے علاوہ ہیں ۔
طریقۂ ادائیگی : حُرُوفِ رخوہ کو ادا کرتے وقت آواز اُن کے مخرج میں اتنے ضعف سے ٹھہرتی ہے جس کی وجہ سے آواز جاری رہتی ہے اور نرم ہوجاتی ہے ۔
٭…(توسط) : لغوی معنی : ’’درمیان‘‘اصطلاحی معنی : اصطلاحِ تجوید میں ’’ شدّت اور رخاوت کی درمیانی حالت کے ساتھ پڑھنے ‘‘ کو کہتے ہیں ۔ جن حُرُوف میں یہ صفت پائی جاتی ہے انہیں ’’ حُرُوفِ مُتَوَسّطِہ‘‘ کہتے ہیں اور یہ پانچ ہیں جن کا مجموعہ’’ لِنْ عُمَرْ ‘‘ ہے ۔
طریقۂ ادائیگی : حُرُوفِ متوسطہ کو ادا کرتے وقت آواز اُن کے مخرج میں نہ تو مکمل بند ہوتی ہے کہ شدّت پیدا ہوجائے اور نہ ہی مکمل جاری رہتی ہے کہ رخاوت پیدا ہوجائے بلکہ اس کی درمیانی حالت رہتی ہے ۔
(5)…استعلاء :
لغوی معنی : ’’بلندی چاہنا‘‘ اصطلاحی معنی : اصطلاحِ تجویدمیں ’’ زبا ن کی جڑ کے تالو کی جانب بلند ہونے ‘‘ کو کہتے ہیں ۔ جن حُرُوف میں یہ صفت پائی جاتی ہے انہیں ’’حُرُوفِ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع