30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہیں انیاب چار اور باقی رہے بیس کہ کہتے ہیں قراء اَضراس سب کو
ضَواحِک ہیں چار اور طواحِن ہیں بارہ نواجِذ بھی ہیں ان کے بازو میں دو دو
دانتوں کا نقشہ

ساتواں مخرج : حا فۂ لسان( یعنی زبان کا وہ بغلی کنارہ جو داڑھوں کے مقابل ہے ) اوردائیں یابائیں داڑھوں کی جڑیں ۔ اس سے حرف’’ ض‘‘ادا ہوتاہے ۔ اس کو
’’حرفِ حافِیَّہ‘‘ کہتے ہیں ۔
آٹھواں مخرج : طرفِ لسان مع ا دنائے حافہ اور ضواحک سے ثنایا تک مقابل کے مسوڑھے ۔ اس سے ’’ ل‘‘ ادا ہوتاہے ۔
نواں مخرج : طرفِ لسان اور انیاب سے لے کر ثنایا تک کے دانتوں کی جڑیں ، اس سے ’’ ن‘‘اداہوتاہے ۔
دسواں مخرج : رأسِ لسان مع پُشتِ لسان اور مقابل کا تالو ۔ اس سے ’’ر‘‘ ادا ہوتی ہے ۔ ’’ل، ن، ر‘‘کو ’’حروف طرفِِیَّہ یاذَلَقِیہ ‘‘ کہتے ہیں ۔
گیارہواں مخرج : زبان کی نوک اور ثنایا علیا کی جڑیں ۔ اس سے ’’ط ، د ، ت‘‘ ادا ہوتے ہیں ۔ ان حروف کو’’حروف نِطْعِِیَّہ ‘‘ کہتے ہیں ۔
بارہواں مخرج : زبان کا سرا اور ثنایا علیاکے اندرونی کنارے ۔ اس سے ’’ظ، ذ، ث‘‘ اداہوتے ہیں ۔ ان حروف کو’’حروف لِثَوِیَہ ‘‘ کہتے ہیں ۔
تیرہواں مخرج : زبان کی نوک اور ثنایا سفلی کے کنارے مع اتصال ثنایاعلیا کے ۔ اس سے ’’ ص، ز، س‘‘ اداہوتے ہیں ۔ ان حروف کو’’حروف اَسْلِیَّہ ‘‘ کہتے ہیں ۔
چودہواں مخرج : ثنایا علیاکے کنارے اورنچلے ہونٹ کا تر حِصّہ ۔ اس سے ’’ف ‘‘ ادا ہوتا ہے ۔
پندرہواں مخرج : دونوں ہونٹ ۔ یہاں سے تین حُروف ادا ہوتے ہیں ۔ ’’ب، م، وغیر مدّہ‘‘ ان کی ادائیگی کی تفصیل کچھ یوں ہے :
(1)… دونوں ہونٹوں کے تر حصّے سے ’’ ب ‘‘ ادا ہوتاہے ۔
(2)…دونوں ہونٹوں کے خشک حصّے سے ’’ م ‘‘ اداہوتاہے ۔
(3)…دونوں ہونٹوں کو گول کرکے ناتمام ملانے سے ’’و‘‘غیر مدّہ ادا ہوتا ہے ۔ ’’ف، ب، م، و‘‘ کو’’حروفِ شَفوِیَّہ‘‘ کہتے ہیں ۔
سولہواں مخرج : جوفِ دہن، یعنی مُنہ کا خلاء ۔ اس سے حُرُوفِ مَدّہ اداہوتے ہیں ۔ جیسے اُوْذِیْنَا ۔
سترہواں مخرج : ’’خیشوم ‘‘ ناک کا بانسہ یہ ’’ غُنّہ ‘‘ کا مخرج ہے ۔ (اس سے مراد نون اور میم مُخْفٰی اور نون مدغم بادغام ناقص ہے ) (فوائد مکیہ مع حاشیہ لمعات شمسیہ ص۳۸ ، بتصرف )
تعدادِمخار ج میں اختلافِ ائمّہ
مخارج کی تعداد کے بارے میں ائمّہ قُراء کا اختلاف ہے : ٭امام خلیل بن احمد فراہیدی اور اکثر قُرّاء کے نزدیک سترہ ۱۷ مخارج ہیں ۔ ٭ امام سِیْبَوَیْہ کے نزدیک سولہ۱۶ مخارج ہیں ۔ ٭ امام فرّاء بن زیاد کے نزدیک چودہ۱۴ مخارج ہیں ۔ لیکن مختاریعنی پسندیدہ مذہب سترہ کا ہے ۔
امام خلیل بن احمد فراہیدی رحمۃ اللّٰہ تعالی علیہ نے ’’ ل ، ن ، ر‘‘ میں قرب کا لحاظ نہ کرتے ہوئے ہر ایک کا الگ الگ مخرج بیان کیا ہے اور ’’ حُروفِ مدّہ ‘‘ کا مخرج ’’ جوفِ دہن ‘‘ بیان کیا ہے ۔ امام سِیْبَوَیْہ نے جوفِ دہن کو کسی بھی حرف کا مخرج شمار نہیں کیا ۔ امام فرّاء رحمۃ اللّٰہ تعالی علیہ نے بھی جوفِ دہن کو کسی بھی حرف کا مخرج شمار نہیں کیا اور’’ل ، ن ، ر‘‘ میں قرب کا لحاظ کرتے ہوئے ان کا مخرج ایک شمار کیا ہے ۔ اسلئے امام فرّا ء بن زیاد کے نزدیک چودہ مخارج ہیں ۔
{۱ }… مخرج کا لغوی اور اصطلاحی معنی بیا ن کیجئے ؟
{۲}… مخرج کی اقسام مع تعریفات بیان کیجئے ؟
{۳}… حلقی مخارج کتنے ہیں نیز ان سے ادا ہونے والے حروف مع لقب بیان کیجئے ؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع