30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

{۱}… تعوذ کی تعریف ، محل اور حکم بیان کیجئے ؟
{۲}… تسمیہ کی تعریف ، محل اور حکم بیان کیجئے ؟
{۳}… تلاوت شروع کرنے میں ابتداء اور وسط کی صورتیں اور ہر ایک کا حکم بیان کیجئے ؟
{۴}… ابتدائے تلاوت میں تعوذ اور تسمیہ کے وصل و فصل کی کتنی صورتیں بنتی ہیں ۔ ہرایک کی تعریف مع امثلہ بیان کیجئے ؟
{۵}… تلاوت کے درمیان اگر سورت آجائے تو اس کی کتنی صورتیں بنتی ہیں ؟
{۶}… تلاوت کا آغاز اگر درمیانِ سورت سے ہو تو اس کی کتنی صورتیں بنتی ہیں ؟
{۷}… درمیانِ تلاوت سورۂ توبہ شروع کرنے کی کتنی وجہیں بنتی ہیں ؟
سبق نمبر ۸ :
مخار ج کی اہمیّت : حُرُوف کو دُرست ادا کرنے کے لئے مخارج کا جاننا ضروری ہے ۔ مخارج ، مخرج کی جمع ہے ۔
مخر ج کا لُغوی معنی : مخرج کا لُغوی معنی ہے ’’ نکلنے کی جگہ ‘‘
مخر ج کا اصطلاحیمعنی : اصطلاح تجوید میں منہ کے وہ حِصّے جہاں سے حروف ادا ہوتے ہیں ۔ اُسے ’’ مخرج‘‘ کہتے ہیں ۔
مخار ج کی تعداد : مخارج کی تعداد سترہ17 ہے جیساکہ امام محمد بن محمدجزری شافعی علیہ رحمۃُ اللّٰہ الکافی فرماتے ہیں :
مَخَارِجُ الْحُرُوْفِ سَبْعَۃَ عَشَرْ عَلَی الَّذِیْ یَخْتَارُہ‘ مَنِ اخْتَبَرْ
ترجمہ : حروف کے مخارج سترہ 17 ہیں ۔ اُس قول پرجس کو پرکھنے والا ( محقق ) اختیار کرتا ہے ۔ (یعنی امام خلیل بن احمد فراہیدی نحوی رحمۃُاللّٰہ تعالی علیہ کے قول کے مطابق حُروف کے مخارج 17ہیں ) (شرح طیبۃ النشر لابن الجزری، مبحث التجوید، ص۲۷)
مخار ج کی اقسام
بنیادی طورپرمخارج کی دوقسمیں ہیں :
٭مخارجِ مُحَقَّقَہ ٭ مخارجِ مُقَدَّرَہ
مخارجِ مُحَقَّقَہ کی تعریف : جومخارج حلق ، لسان اور شفتین میں ہوں انہیں مخارج محققہ کہتے ہیں ۔
مخارجِ مُقَدَّرَہ کی تعریف : وہ مخارج جن کا تعلق حلق، لسان اور شفتین سے نہ ہوں جیسے جوف دہن اور خیشوم ان کو مخارج مقدرہ کہتے ہیں ۔ حلق ، لسان، شَفَتَیْن، جوفِ دہن اور خَیشوم کو ’’اُصُولِ مخارج‘‘ کہتے ہیں ۔

حلقی مخارج : حلق میں تین مخارج ہیں :
{ 1} …اقصائے حلق
{2} …وسطِ حلق
{3} …ادنائے حلق
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع