30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللّٰہُ‘‘ پڑھنا ۔ (3) …حرکت کو حرکت سے بدل دینا جیسے ’’اَرَءَ یْتَ‘‘کو ’’اَرَءَ یْتُ‘‘ پڑھنا ۔ (4) …کسی حرف کو بڑھا دینا جیسے ’’خَلَقَ‘‘ کو ’’خَلَقاَ ‘‘یا گھٹادینا جیسے ’’ لَمْ یُوْ لَدْ‘‘ کو ’’لَمْ یُلَدْ‘‘پڑھنا ۔
(2) لحنِ خفی کی تعریف و حکم :
لحنِ خفی چھوٹی اور پو شید ہ غلطی کو کہتے ہیں یعنی ان قواعد کا ترک کر دیناجو تحسینِ حُرُوف سے تعلق رکھتے ہیں ، لحن خفی سے معنی فاسدیعنی بگڑتے نہیں ۔ لحنِ خفی مکروہ ہے شرعاًاس غلطی سے بچنا مستحب ہے ۔
لحنِ خفی صفاتِ عارضہ میں غلطیاں کرنے سے پیدا ہوتی ہے مثلاً : اِدغام، اِقلاب، اِخفاء ، مَدّات وغیرہ میں غلطی کرنا ۔
{۱}… لحن کے لغوی اور اصطلاحی معنی بیان کیجئے ؟
{۲}… لحن کی بنیادی طور پر کتنی اقسام ہیں ؟
{۳}… لحنِ جلی کا لغوی اور اصطلاحی معنی اور حکم بیان کیجئے ؟
{۴}…لحن جلی کن کن صورتوں میں واقع ہو تی ہیں ؟ مثالیں دے کر وضاحت کیجئے ؟
{۵}…لحنِ خفی کا لغوی اور اصطلاحی معنی اور حکم بیان کیجئے ؟
{ ۶}… لحن خفی کن کن صورتوں میں ہو تی ہیں ؟ کوئی مثال دے کر وضاحت کیجئے ؟
سبق نمبر ۷ :
’’ تَعَوُّذْ ‘‘ ان کلمات کو کہتے ہیں جن کلمات کے ذریعے شیطان سے پناہ مانگی جائے جیسے ’’اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم‘‘ ۔ اِ س کو ’’ اِسْتِعَاذَہ ‘‘بھی کہتے ہیں ۔
قُرآن شریف کی تلاوت شروع کرنے سے پہلے استعاذہ شرعاًمستحب ہے اور اس کے پسندیدہ الفاظ ’’ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم‘‘ ہیں ۔ تعوذ کا محل یعنی پڑھنے کی جگہ ابتدائے قراء ت ہے ۔ اگر درمیانِ قراء ت میں کوئی کلامِ اجنبی ( وہ کلام جس کا تعلق قراء تِ قرآن سے نہ ہو) ہو گیااگرچہ سلام کا جواب ہی کسی کو دیا ہو تو پھر تَعَوُّذْ دوبارہ پڑھنا چاہیئے ۔
’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم‘‘ پڑھنے کو تسمیہ کہتے ہیں ۔
سوائے سورت توبہ کے ہر سورت کے شروع میں تسمیہ ضرورپڑھنا چاہیے کہ مستحب ہے ۔ امام عاصم کوفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْقَوِیْ( جوکہ قُرّاء سَبْعَہ یعنی
سات مشہور قاریوں میں سے ہیں )کے نزدیک سورۂ براء ت کے علاوہ ہر سورت کے شروع میں تسمیہ ضرور پڑھنا چاہیے ۔ [1] (فوائد مکیہ مع حاشیہ لمعاتِ شمسیہ، ص : ۲۷)
تلاوت کرنے سے پہلے تَعَوُّذ و تسمیہ پڑھنے کی صورتیں :
جب کلامِ پاک کی تلاوت کا آغاز کیا جائے تو قراء ت کی ابتداء ، شروعِ سورت سے ہو گی یا سورت کے وسط( درمیا ن) سے یا دورانِ قراء ت کسی دوسری سورت کا آغاز ہوگا ۔ اس لحاظ سے ان کی مندرجہ ذیل تین صورتیں ہیں :
٭… ابتدائے قراء ت ، ابتدائے سورت ۔
٭… ابتدائے سورت ، درمیانِ قراء ت ۔
٭… ابتدائے قراء ت ، درمیانِ سورت ۔
تلاوت کی ابتداء شروعِ سورت سے ہو تو تَعَوُّذ و تسمیہ دونوں پڑھنا چاہیے ۔ اس لئے کہ دونوں کا محل ہے ، لہذا دونوں ضروری ہیں اور پڑھنے میں وصل یعنی ملا کر پڑھنا اور فصل یعنی وقف کر کے پڑھنا دونوں جائز ہیں ۔
تلاوت کے درمیان اگرایک سورت ختم کرکے دوسری سورت شروع کی جائے تو صرف بِسْمِ اللّٰہ شریف پڑھی جائے گی ۔
[1] بہار شریعت میں یہ مسئلہ یوں درج ہے : سورئہ براء ت سے اگر تلاوت شروع کی تواَعُوْذُ بِاللّٰہ ، بِسْمِ اللّٰہکہہ لے اور جو اس کے پہلے سے تلاوت شروع کی اور سورت براء ت آگئی تو تسمیہ کی حاجت نہیں ۔ (بہارِ شریعت، ۱/۵۵۱)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع