30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
8.افسوس ہے ایسے شخص پر جو دنیا مل جانے پر اس میں مشغول ہوجاتاہے اور چھن جانے پرحسرت کرتاہے ۔
9.اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کی علامت یہ ہے کہ اولیاءُاللہکے علاوہ تمام مخلوق سے وحشت ہو کیونکہ اولیا سے محبت اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت ہے ۔
10.ہمارا طریقہ تین چیزوں پر مشتمل ہے : نہ تو کسی سے مانگو ،نہ کسی سائل کو منع کرو اور نہ ہی کچھ جمع کرو ۔
11.مرید کےلئے سب سےزیادہ نقصان دہ بات یہ ہےکہ وہ اپنے نفس کےلئے رخصت اورتاویلات قبول کرنےمیں چشم پوشی سے کام لے۔([1])
حضرت سَیِّدُنااحمد کبیررفاعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی اللہعَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں اس قدر مقبول تھے کہ اللہعَزَّ وَجَلَّنے اپنی مخلوق کے دل ان کی طرف پھیر دئیے تھے جہاں جہاں مسلمان آبادتھے وہاں آپ کے متبعین ومریدین پائے جاتے تھے عقیدت مندوں کی کثرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ کی حیات میں صرف آپ کے خلفاء اورخلفاء كےخلفاءکی تعداد ہی ایک لاکھ اسی ہزار تک پہنچ چکی تھی ۔([2]) ان میں شیخ عمر فاروثی ،شیخ ابو شُجاع فقیہہ شافعی ،شیخ یوسف حسینی سمر قندی،عارف باللہ عبدالملک بن حماد مَوْصِلی،قطبِ کبیرابو عبد الرَّحیم بن محمد بن حسن براعی وغیرہ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی آپ کے مشہور خُلفاءو تلامذہ میں شامل ہیں۔ ([3])
حضرت امام کبیر مُحْی الدین ،سیِد ابواسحاق ابراہیم اعزب رفاعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی سلسلۂ رفاعیہ کےسجادہ نشین بنائے گئے۔ ہند میں سب سے پہلے آپ کا فیضان آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے خلیفہ حضرت شیخ عبداللہانصاری بدایونی رفاعیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی المعروف جھنڈے والے پیرنے تقسیم فرمایا جن کا مزاراندرونِ شہر بدایوں (یوپی) ہند میں ہے۔([4])
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی تصانیف
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے متَعَدَّد کتابیں تحریر فرمائیں لیکن اکثرکتب تاتاریوں کے حملے میں ضائع ہوگئیں البتہ جو کتابیں زیورِ طباعت سے آراستہ ہوئیں ان میں سے چند کے نام یہ ہیں ۔
(1) حَالَۃُ اَھْلِ الْحَقِیْقَۃِ مَعَ اللہِ (3)ا َلسِّرُ الْمَصُوْن
(2) رَاتِبُ الرَّفَاعِی (4) اَلْبُرھَانُ الْمُؤیَّد([5])
اللہعَزَّ وَجَلَّنے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو ایک بیٹے اور دو بیٹیوں سے نوازا تھا بیٹےکا انتقال تو سترہ سال کی عمر میں ہی ہوگیا تھالہٰذا صاحبزادیوں سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا سلسلہ نسل چلا جن کی اولاد میں بڑے بڑے عالم ،فاضل اور باکمال بزرگ ہوئے۔([6])
زندگی کے آخری ایام
آپ کے خادمِ خاص حضرت ىعقوب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہىں : وصال سے پہلے سىدى احمد کبیر رفاعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی مرضِ اسہال (پىٹ کى بىمارى )میں مبتلا ہوئے،اىک ماہ تک اسی تکلىف میں مبتلا رہے اوربىس دن تک نہ کچھ کھاىانہ پىا ۔ نیز زندگی کے آخری لمحات میں آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ پر نہایت رقت طاری تھی اپنا چہرہ اور داڑھی مبارک مٹى پر رگڑتے اور رو تے رہتے ،لبوں پریہ دُعائیں جاری تھیں ”یااللہ عَفْوودرگزر فرما، یااللہ مجھے مُعاف فرمادے،ىا اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے اس مخلوق پر آنے والى مصىبتوں کے لىے چھت بنادے۔“ ([7])
بالآخر۶۶ سال اس دارِ فانی میں رہ کر مخلوقِ خدا کی رُشد وہدایت کا کا م سرانجام دینے کے بعدبروزجمعرات ۲۲جمادی الاولی ۵۷۸ھ بمطابق 13ستمبر 1182ء بوقتِ ظہر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس عالمِ فنا سے عالمِ بقا کا سفر اختیار کیا،آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی زبانِ مبارک سے ادا ہونے والے آخریکلمات یہ تھے :
اَشۡھَدُ اَنۡ لَّا اِلٰهَ اِلَّااللّٰهُ وَاَشۡھَدُ اَنَّ مُحَمَّداً رَّسُوۡلُ اللهِ
تھوڑی ہی دیر میں بستی اُمِّ عَبیدہ کے گرد و نَواح میں آپ کے وصالِ پُر ملال کی خبر مشہور ہوگئی ،بس پھر کیا تھا! آپ کے آخری دیدار اور نمازِ جنازہ میں شرکت کے لئے لوگ دور دور سے جمع ہونے لگے یہاں تک کہ نمازِ جنازہ کے وقت کئی لاکھ کا مَجمَع موجود تھا،بعدنمازِ جنازہ خانقاہ ِاُمِّ عَبیدہ ہی میںآپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کیتدفین کی گئی۔ آج آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے وصال مُبارک کو صدیاں ہوچکیں مگر اس کے باوجود جنوبی عراق میں آپ کا مزارمبارک بے شمار عقیدت مندوں کی اُمیدوں کا مرکز بنا ہواہے۔ ([8])
[1] طبقات الصوفیة للمناوی ، ۲/ ۲۲۱ تا ۲۲۷، ملتقطاً
[2] سیرت سلطان الاولیا ، ص۷۷، بتغیر قلیل
[3] سیرت سلطان الاولیا، ص۷۹ ، ۸۰، ملتقطاً
[4] تاریخ مشائخ قادریہ، ص۴۴، وغیرہ
[5] سیرت سلطان الاولیا ، ص۸۱، ملتقطاً
[6] سیرت سلطان الاولیا، ص۸۲، ملخصاً
[7] طبقاتِ کبریٰ للشعرانی ، ص۲۰۲، بتغیر
[8] طبقاتِ کبریٰ للشعرانی ، ص۲۰۲ ، ملتقطاً، وغیرہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع