30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پاس کی بستی والے اپنى چھتوں پر بىٹھ کرآپ کابیان سنتے اور انہیں ایک ایک لفظ صاف سُنائی دیتا تھا،جب بہرےآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کى گفتگوسننے کے لىے ان کے کان کھول دىتا اورمشائخِ طرىقت حاضر ہوتے تو دورانِ بیان اپنے دامن پھیلائے رکھتے جب امام رفاعیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی بیان سے فارغ ہوتے تویہ حضرات اپنادامن سىنے سے لگالىتےاورواپس آکر اپنے مرىدوں کے سامنے ہر بات بیان کردیتے ۔([1])
جب کوئی آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے تعویذ لینے آتا اور آپ کے پاس سیاہی نہ ہوتی تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ درخت کا پتَّا لیتے اور بغیر سیاہی(انگلی سے ) لکھ دیتے ۔ ایک مرتبہ ایک شخص کو سیاہی کے بغیرتعویذ لکھ کر دیا ،اس نے پتَّا لیا اور عرصۂ دراز کے بعد آپ کی خدمت میں وہی پتا لے کر حاضر ہوا اور بطورِ امتحان آپ کی خدمت میں تعویذ لکھنے کے لئے پیش کیا، جب آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نےپتا دیکھا تو اسے جِھڑکنے کے بجائےنہایت نرمی کے ساتھ ارشاد فرمایا : بیٹا !یہ تو پہلے ہی لکھا ہوا ہے اور پھروہ پتا اسے واپس کردیا۔([2])
(4) پتھر روٹی بن گئے!
حضرت سَیِّدُنا امام احمد کبیر رفاعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کے بھانجے حضرت سیِّدنا ابو الفرج عبد الرحمن رفاعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں : ایک مرتبہ میں ایسی جگہ چھپ کر بیٹھا تھاکہ جہاں سے امام رفاعی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہکودیکھ کر ان کی باتیں سن سکتاتھاکہ یکایک فضا سےایک آدمی زمین پر اُترااورآپ کے سامنےآکر بیٹھ گیا،آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا : مشرق سے آنے والے کو خوش آمدید ،اس نے عرض کی : بیس دن سے میں نے نہ کچھ کھایا ہے نہ پیا ہے میں چاہتاہوں آپ مجھے میری پسند کا کھانا کھلائیں،آپ نے فرمایا : تمہاری خواہش کیا ہے؟اس نے نظر اٹھائی تو پانچ مُرغابیاں فضا میں اڑ رہی تھیں اس نے کہا : مجھے ان میں سے ایک بھنی ہوئی مُرغابی، گندم کی دو روٹیاں اور ٹھنڈے پانی کا ایک جگ چاہیے،آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ان مُرغابیوں کو دیکھا اورفرمایا : فوراًاس آدمی کی خواہش پوری کردو!ابھی بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ ان میں سے ایک بھنی ہوئی مُرغابی آپ کی خدمت میں حاضر ہوگئی ، پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنے پہلو میں پڑے ہوئے دو پتھروں کو اُٹھاکر جونہی اس کے سامنےرکھا حیرت انگیز طور پر فوراً وہ پتھر چَھنے ہوئے آٹے کی دو عُمدہ روٹیاں بن گئے، پھر فضا میں ہاتھ بلند کیا تو سرخ رنگ کا پانی سے بھرا ہوا جگ نمودار ہوگیا اس کے بعد اس درویش آدمی نے کھانا کھایا اور پھر جس طرح آیا تھا اسی طرح فضامیں اڑتا ہوا واپس چلا گیا،اس کے جانے کے بعدآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے مُرغابی کی تمام ہڈیوں کو بائیں ہاتھ میں لیا اوران پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرتے ہوئے فرمایا : اے بکھری ہوئی ہڈیو! اے ٹوٹے ہوئے جوڑو!اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم سےبِسۡمِ الله الرَّحۡمٰنِ الَّرحِیۡم کی برکت سے اُڑجاؤ، چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ ہڈیاں زِندہ مُرغابی میں تبدیل ہوگئیں اور وہ مرغابی فضا میں اُڑتی ہوئی نگاہوں سے اوجھل ہوگئی۔ ([3])
ایک مرتبہ حضرت سَیِّدُناامام رفاعیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کے دو مرید عبادت و ریاضت کے لئے صحرا میں موجود تھے۔ان میں سے ایک نے تمنا کی کہ کاش!ہم پر جہنم سے آزادی کا پروانہ نازل ہوجائے، اتنے میں آسمان سے ایک سفید کاغذگرا ، انہوں نے اسے اُٹھاکر دیکھا تو بظاہر کوئی عبارت تحریر نہ تھی،وہ دونوں اس کا غذ کو پیر و مرشد کے پا س لے گئےمگر واقعہ کا پس منظر نہ بتایا، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس کاغذ کو دیکھا تو سجدے میں گر گئے ،پھر سر اٹھاکر فرمایا : اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ہے کہ اس نے میرے مریدوں کی جہنم سے آزاد ی کا پروانہ دنیا ہی میں مجھے دکھادیا ،آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سےعرض کی گئی : حضور! یہ تو کورا کاغذ ہے، فرمایا : دست ِقدرت سیاہی وغیرہ کا مُحتاج نہیں یہ کاغذ نور سے لکھا ہوا ہے ۔([4])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
آپ کے ملفوظات
حضرت سَیِّدُنا امام احمد کبیر رفاعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی اپنے مُریدین و مُحبّین کی حُسنِ تربیت کے لئے وقتاً فوقتا ًشریعت و طریقت کے بہترین رہنما اصول بھی بیان کرتے رہے ۔آئیے !ان کےچند ملفوظات مُلاحظہ کیجئے :
1.جو اپنے اوپر غیر ضروری باتوں کو لازم کرتاہے وہ ضروری باتوں کو بھی ضائع کردیتا ہے ۔
2.مخلوق کو اپنے ترازو میں مت تولو بلکہ اپنے آپ کو مومنین کے ترازو میں تولو تاکہ تم ان کی فضیلت اور اپنی مُحتاجی جان سکو ۔
3.جوشخص یہ خیال کرے کہ اس کے اعمال اسے رَبِِّ قدیر عَزَّ وَجَلَّ تک پہنچادیں گےتو اس نے اپنا راستہ کھو دیا ۔(اپنے اعمال کے بجائے رحمتِ الہٰی پر نظر کرے ۔)
4.اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے وہی اُنسیت رکھ سکتاہے جو کامل درجہ کی طہارت رکھتاہو ۔
5.اللہ عَزَّ وَجَلَّ غوث و قطب کو غیبوں پر مُطَّلَع فرمادیتاہے پس جو بھی درخت اُ گتا ہےاور پتَّا سر سبز ہوتاہے تو وہ سب جان لیتے ہیں ۔
6.جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر توکُّل کرتاہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے دل میں حکمت داخل فرماتاہےاورہر مشکل گھڑی میں اسے کافی ہوجاتاہے۔
7.کتنےہی خوش ہونےوالےایسے ہیں کہ ان کی خوشی ان کے لئے مصیبت بن جاتی ہےاور کتنے ہی غمگین ایسے ہیں کہ ان کا غم ان کے لئے باعثِ نجات بن جاتاہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع