دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Siddiq e Akbar | فیضان صدّیق اکبر

book_icon
فیضان صدّیق اکبر

کیا گیا۔ (الطبقات الکبری لابن سعدٰ، ذکر وصیۃ ابی بکر، ج۳، ص۱۵۷، الریاض النضرۃ، ج۱، ص۲۵۸)

رسول اللہ کے پہلو میں تدفین

حضرت سیدنا قاسم بن محمد رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِسے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاکو وصیت فرمائی کہ انہیں حضور اکرم، نور مجسم ، شاہ بنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے پہلو مبارک میں دفن کیا جائے۔پھر جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا وصال ہوا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی قبر کھودی گئی اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا سر مبارک رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کندھے مبارک کے برابر رہااور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی لحد حضورسیدعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی قبر منور کے برابر ملا دی گئی۔آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی قبر انور میں حضرت سیدنا عمر بن خطاب ، حضرت سیدنا طلحہ، حضرت سیدنا عثمان، حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم  اترے تھے۔   (تاریخ مدینۃ دمشق، ج۳۰، ص۴۴۷، تاریخ الخلفاء، ص۶۵)

یارسول اللہ ! ۔۔۔ابوبکر حاضر ہے

حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہ  تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں :  میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی حیات طیبہ کے آخری لمحات میں آپ کی بارگاہ میں حاضرتھا۔آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھ سے ارشاد فرمایا :  ’’اے علی!جب میرا انتقال ہوجائے تو مجھے بھی اُسی مبارک برتن سے غسل دینا جس برتن سے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کو غسل دیا گیا تھا۔پھر مجھے کفن دے کر نبیٔ کریم رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی قبر انور کی جانب لے جانا اور بارگاہ رسالت سے یوں اجازت طلب کرنا : اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللہِ! ھٰذَا اَبُوْبَکْر یَسْتَاْذِنُ یعنی یارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! آپ پر سلام ہو، ابوبکر آپ کی خدمت میں حاضر ہیں اور اجازت چاہتے ہیں ۔‘‘اگر روضہ اقدس کادروازہ کھلے تو مجھے اس میں دفن کر دینااور اگر اجازت نہ ملے تو مسلمانوں کے قبرستان (جنۃ البقیع) میں دفن کر دینا۔‘‘حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہ  تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  فرماتے ہیں کہ :  ’’حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو غسل و کفن کے معاملات سے فارغ ہونے کے بعد آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی وصیت کے مطابق روضہ محبوب کے دروازے پر حاضرہوااور رسولِ اَکرم، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں یوں عرض کی :  ’’ یارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! ابو بکر آپ سے اجازت کے طالب ہیں ۔‘‘ حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہ  تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں کہ جیسے ہی میرے الفاظ مکمل ہوئے تو میں نےدیکھا کہ روضہ رسول اللہ  کا دروازہ کھل گیااور اندر سے آواز آئی :  ’’ اَدْخِلُوْا الْحَبِیْبَ اِلَی الْحَبِیْبَ یعنی محبو ب کو محبوب سے ملادو۔‘‘چنانچہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پہلو میں دفنادیاگیا۔(الخصائص الکبریٰ، باب حیاتہ فی قبرہ۔۔الخ، ج۲، ص۴۹۲، السیرۃ الحلبیۃ، باب یذکر فیہ مدۃ مرضہ۔۔۔الخ، ج۳، ص۵۱۷، لسان المیزان، حرف العین المھملۃ، من اسمہ عبد الجلیل ، ج۴، ص۲۲۱)

تیرے قدموں میں جو ہیں غیر کا منہ کیا دیکھیں

کون نظروں پہ چڑھے دیکھ کے تلوا تیرا

صدیق اکبرحیاتُ النبی کے قائل تھے

دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ ۶۴صفحات پر مشتمل رسالے’’عاشق اکبر‘‘صفحہ ۴۳پر شیخ طریقت امیر اہلسنت بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا، ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہمذکورہ بالا روایت کوذکر کرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں :  ’’ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!غور فرمائیے! اگرحضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو زندہ نہ جانتے تو ہرگز ایسی وصیّت نہ فرماتے کہ روضۂ اقدس کے سامنے میر ا جنازہ رکھ کرنبیٔ رحمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اِجازت طلب کی جائے۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے وصیت کی اور صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے اسے عملی جامہ پہنایا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اور تمام صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمکایہ عقیدہ تھا کہ محبوب پروردگار، شاہ عَالَم مدار، دوعالم کے مالِک ومختار صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبعد وصال بھی قبر انور میں زندہ و حیات اور صاحب تصرفات واختیارات ہیں ۔

تو زِندہ ہے وَاللہ تو زِندہ ہے وَاللہ

مرے چشمِ عالم سے چھپ جانے والے

عقیدہ حیاتُ الانبیاء

اَلْحَمْدُ لِلّٰہ1 ! بعطائے ربُّ الانام تمام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام زندہ ہیں ۔ چُنانچہ’’ ابن ماجہ ‘‘ کی حدیثِ پاک میں ہے : ’’اِنَّ اللہ حرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَنْ تَأْکُلَ اَجْسَادَ الْاَنْبِیَاءِفَنَبِیُّ اللہ حَیٌّ یُّرْزَقُیعنی بے شک   اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حرام کیا ہے زمین پر کہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے جسموں کوخراب کرے تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نبی زندہ ہیں ، روزی دیئے جاتے ہیں ۔‘‘         (سنن ابن ماجۃ، کتاب الجنائز، ذکر وفاتہ ودفنہ، الحدیث :  ۱۶۳۷،  ج۲ ص۲۹۱)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن