دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Siddiq e Akbar | فیضان صدّیق اکبر

book_icon
فیضان صدّیق اکبر

صنعاء (یمن) کے علاقہ میں کسری کی طرف سے حضرت سیدنا باذان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہگورنر تھے،   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی توفیق سے یہ بھی مشرف باایمان ہوگئے تھے نبیٔ کریم، رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں ان کے منصب پر بحال رکھا، جب ان کا وصال ہوا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کے علاقہ کو تین حصوں میں تقسیم کیا ایک حصہ حضرت سیدنا باذان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے صاجزادے حضرت شہربن باذان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو دوسرا حصہ حضرت سیدنا ابو موسی اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو اور تیسرا حضرت سیدنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو عطا فرمایا۔ اسود عنسی کا عروج اسی دوران شروع ہوا۔ اس نے اپنے لشکر سے صنعا ء پر قبضہ کرلیا۔ حضرت شہر بن باذان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو شہید کردیا اور ان کی زوجہ کی طرف نکاح کا پیغام بھیجا۔ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تک اس کی اطلاعات پہنچیں تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  جس طرح ہو سکے اس کے شر کو ختم کردو۔  (مدارج النبوت، ج۲، ص۴۰۷)

اسود عنسی کا ذلت آمیز قتل

 ماہ صفر المظفر ۱۱سن ہجری میں ہی کذاب اسود عنسی کو صحابی رسول حضرت سیدنا فیروز دیلمی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے واصل جہنم فرمایا۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو نبی اکرم نور مجسم شاہ بنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسود کو قتل کرنے کے لیے بھیجا، حضرت فیروز دیلمی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اسود کے شہر صنعاء (یمن)میں پہنچ کر چھپ گئے اور ایک رات اسود کی رہائش گاہ کی دیوار میں نقب لگائی اور اسے قتل کردیا حالانکہ اس وقت ایک ہزار آدمی اس کے دروازے پر پہرہ دے رہے تھے۔ موت کے وقت اس کے منہ سے گائے کے ڈکرانے کی طرح اونچی آواز نکلی اس کے پہرے دار اس کی طرف دوڑے لیکن حضرت سیدنا باذان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی زوجہ مرزبانہ نے کہارک جاؤ! اس کے پاس کوئی نہیں جائے گا کیونکہ تمہارے نبی پر وحی نازل ہورہی ہے۔ اس طرح وہ واصل جہنم ہوگیا۔

(سیرت سیدالانبیاء، ص۶۰۸، ۵۷۶، مدارج النبوت، ج۲، ص۴۰۸)

 

    حضرت سیدنا فیروز دیلمی کا تعارف

اسود عنسی کو قتل کرنے والے حضرت سیدنا فیروز دیلمی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جید صحابی اور نجاشی بادشاہ کے بھانجے تھے۔ سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اسود عنسی کے قتل کی خبر آپ کے وصال سے ایک دن اور ایک رات پہلے ہی دے دی گئی تھی۔ جب آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کو قتل کی خبردی توحضرت سیدنا فیروز دیلمی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا ذکر خیر کرتے ہوئے ارشا دفرمایا : ’’آج رات اسود عنسی مارا گیا، اسے بابرکت گھرانے کے بابرکت مرد نے قتل کیا ہے۔‘‘صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کیا :  ’’یارسول اللہ! وہ کون ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا :  ’’وہ فیروز دیلمی ہے۔‘‘ پھر ارشاد فرمایا : ’’فیروز کامیاب ہوگئے۔‘‘

( سیرت سید الانبیاء، ص۶۰۸، کتاب العقائد، ص۵۰)

علقمہ بن علاثہ کے خلاف جہاداور اس کا قبول اسلام

قبیلہ بنو کلب عرب کا ایک مشہور قبیلہ تھا ۔ علقمہ بن علاثہ کا تعلق اسی قبیلے سے تھا۔ اس نے دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے زمانے میں اسلام قبول کرلیا تھا اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زندگی ہی میں مرتد ہوگیا تھا اور ملک شام چلا گیا تھا۔آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصال ظاہری کے بعد وہ اپنے قبیلے بنو کلب میں واپس آیا اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کی تیاری کرنے لگا۔ امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو اس کے ارادوں کا علم ہوچکا تھا لہذا آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اس کے خلاف جہاد کے لیے حضرت سیدنا قعقاع بن عمرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو روانہ فرمایا۔ لیکن علقمہ بن علاثہ مقابلے پر نہیں آیا بلکہ وہاں سے فرار ہوگیا، اس کی بیوی ، اس کے بیٹوں اور اس کے دیگر رفقاء نے اس کے ساتھ جانے سے انکار کردیا اور انہوں نے اسلام بھی قبول کرلیا۔ بعد میں اس نے بھی بارگاہ صدیق اکبر میں حاضر ہوکر توبہ کرلی۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اس کی توبہ قبول کرلی اورمعاف بھی فرمادیا۔ اس نے نہ تو مسلمانوں سے جنگ کی تھی نہ ہی کسی مسلمان کو قتل کیا تھا۔ (الکامل فی التاریخ، ج۲، ص۲۱۰ملتقطا)   

فجاہ ایاس بن عبد کے خلاف جہاد

’’فجاہ ایاس بن عبد یا لیل‘‘ بھی مرتد تھا اور اس نے مسلمانوں کا قتال کیا وہ اس طرح کہ یہ خلیفۂَ رسولحضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ : ’’ جس مرتد قبیلے سے آپ کا حکم ہوگا میں جنگ کروں گا۔ آپ میرے لیے اسلحہ فراہم کردیں ۔‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اس کی طلب کے مطابق اسے اسلحہ دے دیا اور ایک قبیلے سے لڑنے کا حکم دیا۔لیکن اس نے وہ اسلحہ بنو سلیم، بنو عامر اور بنو ہوازن کے مسلمانوں کے خلاف بھی استعمال کیا اور اپنی ذاتی دشمنی کی بناء پرمرتدین کے خلاف بھی استعمال کیااور متعدد مسلمانوں کو اس نے قتل کیا۔آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو معلوم ہوا تو حضرت سیدنا طریفہ بن حاجز رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو فوج کا ایک دستہ دے کر فجاہ کی طرف روانہ کیا۔ جنگ میں اس کو شکست ہوئی اور گرفتار کرکے بارگاہ صدیق اکبر میں مدینہ منورہ لایا گیا۔آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اسے خلیفۂ وقت کو دھوکا دینے اور مسلمانوں کو قتل کرنےجیسے گھناؤنے جرم کی پاداش میں آگ میں جلانے اورہاتھ پاؤں باندھ کر رجم کرنے کا سخت حکم ارشاد فرمایا۔  (الکامل فی التاریخ، ج۲، ص۲۱۱ملتقطا)

ابو شجرہ بن عبد العزی کا ارتداداور قبول اسلام

ابو شجرہ بن عبد العزی عرب کی مشہور شاعرہ خنساء کا بیٹا تھا۔ اس نے اپنے بھائی صخر کی یاد میں نہایت ہی دردناک اور دل سوز مرثیے کہے تھے، کیونکہ یہ اپنی والدہ کی طرح ایک

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن