دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Siddiq e Akbar | فیضان صدّیق اکبر

book_icon
فیضان صدّیق اکبر

اِلَّا اللہ لکھواکر لے آؤ۔‘‘ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے مزاج عشق نےپسند نہ کیا کہ ذکر خدا تو ہو لیکن ذکر مصطفےٰ نہ ہو۔ لہٰذا آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے کاتب کو کہا : ’’اس انگوٹھی پر لَااِلٰہَ اِلَّااللہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہلکھ دو۔‘‘جب وہ انگوٹھی تیار ہوگئی تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہوہ انگوٹھی واپس لے کر آئے اور بارگاہ رسالت میں پیش کردی۔ جب پیارے آقا صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دیکھا تو اس پر یہ عبارت نقش تھی :  ’’لَااِلٰہَ اِلَّااللہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ اَبُوْ بَکْرالصِدِّیْق۔‘‘یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللہ عَزَّ وَجَلَّکےرسول ہیں اور ابو بکر صدیق ہیں ۔‘‘ حُسنِ اَخلاق کے پیکر، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے انگوٹھی پرنقش دیکھ کر استفسار فرمایا : ’’ اے ابو بکر! میں نے تو کہا تھا کہ اس پر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ لکھواؤ لیکن تم نے اتنا زیادہ کیوں لکھوایا۔‘‘عاشق اکبر حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں نے پسند نہ کیا کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نا م کے ساتھ آپ کا نا م نہ لکھوایا جائے اس لیے میں نے اس پر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ لکھوادیا البتہ یہ عبارت ’’ابو بکر الصدیق‘‘ میں نے نہیں لکھوائی ۔‘‘یہ عرض کرنے کے بعد آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ خود بھی سوچ میں پڑگئے کہ میرا نا م انگوٹھی پر کیسے آگیا؟ اسی وقت حضرت سیدنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام بارگاہ رسالت میں حاضر ہوگئے اور عرض کی : ’’یارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! ابوبکر کا نام میں نےلکھا ہے، کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکو پسند نہیں کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نا م مبارک سے حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا نا م جدا کیا جائے۔‘‘

(تفسیرکبیر، الفاتحۃ، الباب الحادی عشر،  ج۱، ص۱۵۳)

خدا کا ذکر کرے ذکر مصطفےٰ نہ کرے

     ہمارے منہ میں ہو ایسی زبان خدا نہ کرے   

صدیق اکبر کے پاس مہر نبوت

حضرت سیدنا عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جو چاندی کی مہرنما انگوٹھی بنوائی تھی آپ کی حیات طیبہ میں وہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دست مبارک میں رہی اور آپ کی وفات ظاہری کے بعد حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاس رہی اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے بعد حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاس رہی۔ اس کے بعد حضرت سیدنا عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو ملی۔پھر حضرت سیدنا عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے ہاتھ سے’’ اَرِیْس‘‘ نامی کنویں میں گر گئی۔اس کنویں کا سارا پانی نکال کر اسے تین دن تک بہت تلاش کیا گیامگر وہ گوہر نایاب نہ مل سکا۔

(صحیح مسلم، کتاب اللباس و الزینۃ، لبس النبی خاتما،  الحدیث :  ۲۰۹۱،  ص۱۱۵۸،  صحیح البخاری، کتاب  اللباس ، باب نقش الخاتم،  الحدیث :  ۵۸۷۳، ج۴، ص۷۰، الریاض النضرۃ، ج۱، ص۲۳۲)                                   

 

                                               

صدیق اکبر کی ذاتی مہر والی انگوٹھی

حضرت سیدنا عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے پوچھا کہ ’’امیر المومنین سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی اپنی انگوٹھی پر کیا لکھا ہوا تھا؟‘‘ تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی اپنی انگوٹھی پرلکھا ہوا تھا عبد ذلیل لرب جلیل یعنی رب جلیل کا کمزور و عاجز بندہ۔    (جمع الجوامع ، مسند ابی بکر ، الحدیث :  ۳۶۱، ج۱۱، ص۸۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

بعدِ خلافت  حیات  صدیق  اکبر

سب سے پہلا اور اہم مسئلہ

اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا سے روایت ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مدنی سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی وفات ظاہری کے بعد نفاق نے اپنی گردن اٹھائی۔ بعض قبائل عرب مرتد ہوگئے، انصار نے اپنے مراکز کو چھوڑ دیا، اگر مضبوط پہاڑ میرے والد گرامی پر گر پڑتے تو آپ انہیں ریزریزہ کردیتے۔ اگر وہ کسی نقطے پر اختلاف کرتے تو میرے والد گرامی اپنی فیصلہ شناس نگاہ کی بدولت اس کے کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ فرمادیتے۔ مثلاً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے جسد اطہر کے دفنانے کا مسئلہ درپیش ہوا۔ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم  کہنے لگے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو کہاں دفنایا جائے؟ ہم میں سے کسی کے پاس اس کا حل موجود نہ تھا۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا : ’’مَا مِنْ نَبِيٍّ يُقْبَضُ إِلَّا دُفِنَ تَحْتَ مَضْجَعِهِ الَّذِيْ مَاتَ فِيْهِمیں نے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے سنا کہ جو بھی نبی وفات پا جاتا ہے اسے اس جگہ دفنایا جاتاہے جہاں اس نے وفات پائی ہو۔‘‘ اسی طرح صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی میراث کے متعلق اختلاف کیا انہوں نے کسی کے پاس بھی اس کاحل نہ پایا۔حضرت سیدنا ابوبکر صدیق $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن