دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Shams ul Arifeen رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ | فیضانِ شَمسُ العَارِفِین رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ

book_icon
فیضانِ شَمسُ العَارِفِین رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ

والدین کی خدمت کیجئے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یقینا ماں باپ کا رتبہ بَہُت بلند وبالا ہے، قرآن و حدیث میں والِدَین کے ساتھ حُسنِ سُلوک کا حکم دیاگیا ہے بالخصوص جب وہ بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کی خدمت کی تاکید فرمائی گئی ہے۔اگر ماں باپ کواولاد کی خدمت کی حاجت ہو تو اب ان کی اجازت کے بغیر نفلی حج،نفلی عمرہ،زیارات وغیرہ حتی کہ اگر مسلمان ماں باپ اجازت نہ دیں تو نفلی روزہ بھی نہ رکھے۔چنانچہ

حضرت سیّدنا عبداﷲ بن عَمْرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ ایک شخص  رسول اللہ صَلَّی  اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ  وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے جہاد میں شرکت کی اجازت مانگی،آپ صَلَّی  اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ  وَسَلَّم نے  فرمایا: تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟عرض کی!جی ،فرمایا:انہی  میں جہاد کر(یعنی ان کی خدمت کر) ([1])  

مفسر  شہیر،حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی   عَلَیْہ اس حدیث کے تحت  فرماتے ہیں:غالب یہ ہے کہ اس کے ماں باپ کو اس کی خدمت کی حاجت تھی،وہ اکیلا بیٹا خدمتگار تھا اور جہاد اُس وقت فرضِ عین نہ تھا فرضِ کفایہ تھا،ایسی صورت میں ماں باپ کی خدمت جہاد پر مقدم ہے،اگر یہ دونوں صورتیں نہ ہوں تو جہاد مقدم ہے۔مزید فرماتے ہیں : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نفلی جہاد کے لیے بغیر والدین کی اجازت کے نہیں جانا چاہیے،اگر جہاد فرض ہو تو بہتر ہے کہ ان سے


 



[1] بخاری، کتاب الجھاد و السیر ،باب الجهاد بإذن الأبوين،۲/۳۱۰ ،حدیث: ۳۰۰۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن