اللہ پاک کے پیارے نبی حضرتِ خضر علیہ السّلام کی صحبت حضرتِ عبدُ الواحد تمیمی رحمۃ اللہ علیہ کو حاصل تھی،ایک مرتبہ حضرتِ خضر علیہ السّلام نے آپ کو ایک کھجور عطافرما کر دُعادی کہ تُو عبدِ واحد(یعنی ایک خدا کا بند ہ)ہے اللہ پاک تمہاری عمر میں برکت دے۔
(شریف التواریخ ،1/ 624)
ایک کا رَکھ عبد ِواحد بے رِیا کے واسطے بہرِ شِبْلی شیرِ حق دنیا کے کُتّوں سے بچا
(شجرۂ قادریہ، ص 68)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب! صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد
میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ کو کئی سلسلوں سے اجازت و خلافت حاصل تھی، آپ نے عربی ،اُردو اور فارسی زبان میں مختلف سلاسلِ طریقت کے شَجْرے تحریر فرمائے
ہیں۔ایک شَجْرہ شریف آپ نے مکمل عربی زبان میں بصیغۂ درود شریف لکھا ہے اُس میں آپ نے سلسلہ ٔ قادریہ رضویہ عطّاریہ کے 13 ویں بُزرگ،حضرت ابو الفضل شیخ عبدُ الواحد تمیمی رحمۃُ اللہِ علیہ کا ذکرِ خیر کچھ یوں فرمایا ہے:اَللّٰهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمْ وَعَلَی الْمَولَی الشَّیْخِ اَبِی الْفَضْلِ عَبْدِ الْوَاحِدِ التَّمِیْمِیِّ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْهُ۔ (تاریخ و شرح شجرۂ قادریہ برکاتیہ رضویہ، ص 109)اِسی طرح آپ نے جو شجرۂ مبارکہ چشتیہ نظامیہ برکاتیہ رضویہ لکھا ہے اُس میں اِن کے وسیلے سے بارگاہِ الٰہی میں یوں عرض کرتے ہیں:
اِک نگاہِ لُطف و رحمت کا ہوں مولا مُلْتجی ایک کا رکھ عبدِ واحد بے ریا کے واسطے
(تاریخ و شرح شجرۂ قادریہ برکاتیہ رضویہ، ص 183)
سلسلۂ قادریہ کے عظیم بُزرگ حضرتِ عبدُ الواحد تمیمی رحمۃُ اللہِ علیہ نے کئی بار حَرَمینِ طیبین حاضری دی۔البتہ عمرِ مبارک کا اکثر حصہ بغدادِ معلّی میں گزرا۔آپ تقویٰ و پرہیزگاری کے پیکر اور بڑے عبادت گزار تھے۔آپ کی عاداتِ مبارکہ حضرتِ ابو بکر شبلی رحمۃ اللہ علیہ کی طرح تھیں گویا آپ فنا فِی المرُشِد(یعنی پیر و مرشد کی یاد میں فنا)تھے آپ سے سلسلۂ قادریہ بہت عام ہوا، بےشمار لوگوں نے آپ سے برکتیں حاصل کیں۔ ”تواریخ ِآئینہ تصوّف “ میں ہے کہ آپ سے 507 کرامات ظاہر ہوئیں۔آپ رحمۃُ اللہِ علیہ سُنتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر مضبوطی سےعمل کرتے تھے۔
(تواریخ آئینہ تصوف،ص30۔شریف التواریخ ،1/ 624۔تاریخ مشائخ قادریہ رضویہ ،ص147)
اے عاشقانِ رسول! بزرگانِ دین رحمۃُ اللہِ علیہم کی مبارک زندگی سنّتوں کی آئینہ دار ہے کیونکہ قرآنِ کریم میں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اُسوۂ حسنہ(مبارک زندگی) کو ہمارے لئے بہترین نمونہ (Role Model) قراردیا ہے۔سلسلہ ٔ قادریہ عطّاریہ کے عظیم بزرگ امیرِاہل ِ سنت حضرتِ علامہ مولانا محمد الیاس عطارقادری رضوی ضیائی دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ شیخ ِ شریعت و شیخِ طریقت،عاملِ سنّت ،عالمِ سنّت،پیکر ِسنّت ہیں بلکہ سنّت ِ رسول پر عمل کرنا اور اِسے عام کرنا ہی آپ کی پہچان ہے ،اَلحمدُ لِلّٰہ !آپ کی نیکی کی دعوت کی بدولت لاکھوں لاکھ اسلامی بھائی اوراسلامی بہنیں سنّتوں کے عامل بنے ۔ اللہ کریم !اِ ن کا سایہ ہمارے سروں پر عافیت کے ساتھ سلامت باکرامت رکھےاورہمیں اِن کے فیضان سے مالا مال فرمائے۔ اللہ پاک ہمیں بھی عاشقِ سنت اور مُخْلص عاملِ سنّت بنائے۔امیرِاہلِ سنّت کی خدماتِ سنّتِ رسول کا زمانہ معترِف ہے ۔بارگاہِ رسالت میں عرض کرتے ہیں:
کروں بے لَوث خدمت سنتوں کی شہا گر لطف مجھ پر آپ کا ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب! صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد
اولیائے کرام رحمۃُ اللہِ علیہم کی مبارک سیرت کی کتابوں کے مطالعے سے حضرتِ عبدُ الواحد تمیمی رحمۃُ اللہِ علیہ کے خلفا میں سے صِرف ایک مشہور خلیفہ حضرتِ ابو الفرح یوسف طَرطوسی رحمۃُ اللہِ علیہ کا ذکرِ خیر ملتاہے اور یہ سلسلہ ٔ قادریہ کے 14 ویں بزرگ ہیں۔تواریخ ِ آئینہ تصوف میں ہے کہ آپ کے 15 خلیفۂ اصغر اور صاحبِ مَجاز 18 حضرات ہوئے ۔
(تواریخِ آئینہ تصوف ،ص30)
علامہ احمدبن علی خطیب بغدادی رحمۃُ اللہِ علیہ لکھتےہیں:سلسلۂ قادریہ کے عظیم بُزرگ، علم وعمل کے پیکر حضرتِ ابو الفضل عبدُ الواحد تمیمی حنبلی رحمۃُ اللہِ علیہ کا انتقال شریف 410 ہجری پیر شریف کےدِن ذُو الْحِجَّۃُ الحرام کے آخری دنوں میں (یعنی 29 یا 30 تاریخ کو) ہوا اور مجھے میرے والد ِ محترم نے بتایا کہ جب آپ کا جنازہ مبارک لایا گیا تو 50 ہزار لوگوں نے آپ کی نمازِ جنازہ ادا کی اور اُسی دِن مقبرۂ باب الْحرب میں سلسلۂ حنبلیہ کے عظیم بُزرگ حضرتِ امام احمد بن حنبل رحمۃُ اللہِ علیہ اور اپنے والدِ محترم حضرتِ عبدُ العزیز تمیمی رحمۃُ اللہِ علیہ کے مزار شریف کے ساتھ آپ کو دفن کیا گیا۔
(الروض الباسم فی تراجم شیوخ الحاکم،1/654 ۔ تاریخِ بغداد،11/15،رقم:5677)
امام احمد بن حنبل اورحضرتِ عبدُ الواحد تمیمی رحمۃُ اللہِ علیہما کے بارے میں یہ بھی ہے کہ آپ کےمزارات شریف دریائے دجلہ کے کنارے پر تھے ، دریائے دجلہ میں طغیانی کے باعث مزاراتِ مبارکہ کا حصہ دریا میں آگیا اوریوں اِن مزارات مبارکہ کی زیارت اَب نہیں ہوسکتی۔