30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیجئے۔‘‘حضرت سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو جواباً یہ پیغام بھیجا کہ ’’حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بہترین انسا ن ہیں،مسلمانوں کے زبردست خیرخواہ اور ان کے دشمن پر بے پناہ شدت فرماتے ہیں۔جبکہ حضرت سیدناعمروبن عاص اور حضرت سیدنازیدبن ابوسفیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی خیر خواہی بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی پسند کے مطابق ہے۔‘‘ پھرامیر المؤمنین حضرت سیدناعمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیدنا سعید بن زید اورسیدنا معاذبن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی کارکردگی دریافت کی تو حضرت سیدناابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:’’یہ بھی بہترہیں،بس اتناہےکہ سرداری نے ان دونوںکی دنیا سے بے رغبتی اورآخرت کی جانب میلان میں بے پناہ اضافہ کردیاہے۔‘‘ (تاریخ مدینۃ دمشق، ج۶۵،ص۶۸)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھاآپ نے ہمارے اسلاف رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکا زہدوتقوی کیسا بے مثال ہوا کرتاتھا، نہ توانہیں منصب کے حصول کی خواہش ہوتی اورنہ ہی مال و دولت کی ہوس،اگر کوئی اہم عہدہ قبول کرنے کی نوبتآبھی جاتی تو یہ حضرات اسے عطیہ خداوندی سمجھا کرتے، حکمرانی کے باوجود ان کا تقویٰ برقرار رہتا، نیزوہ حکمرانی یاذمہ داری ان کی عبادات و ریاضات میں اضافے کا باعث بنتی۔مگرافسوس!آج ہماراحال یہ ہے کہ ہمیں کوئی عہدہ مل جائے توہماری چال ہی تبدیل ہوجاتی ہے،پہلے تواپنے ماتحت اسلامی بھائیوں سے نہایت ہی خوش اخلاقی سے گفتگوکرتے ہیں لیکن جیسے ہی کوئی عہدہ ملا غرور وتکبر، حسد، کینہ، ظلم یاان جیسے دیگرکئی گناہوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اے کاش!ہم بھی اپنے اسلاف کی سیرت پرعمل کرنے والے بن جائیں اورکوئی عہدہ ملے یانہ ملے ہمارے تقوے میں کسی بھی طرح کمی نہ آئے۔
واضح رہے کہ امین الامۃحضرت سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیدنا سعید بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو دمشق کا حاکم مقرر فرمایا تھا۔(تاریخ مدینہ دمشق، ج۲۱، ص۶۲)
جب حاکم مدینہ مروان بن حکم کو شامی قاصدکے ہاتھوں ایک مکتوب روانہ کیا گیاجس میں لوگوں کو یزید کی بیعت کرنے کا حکم دیا گیا تھاتوحاکم مدینہ نے فوراً اس پرعمل نہ کیا،چنانچہ شامی قاصد نےحکم کے نفاذمیں تاخیرہوتی دیکھ کربے ساختہ کہا:’’اے مروان!بیعت کاحکم نافذکرنے میںکیا چیزآڑےآرہی ہے؟‘‘ مروان نے کہا:’’جب تک حضرت سیدناسعیدبن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہآکر بیعت نہیں کرلیتے میں کچھ نہیں کرسکتاکیوں کہ شہروالے انہیں اپناسردارمانتے ہیں، جب وہ یزیدکی بیعت کر لیں گے تو لوگ باآسانی بیعت پر راضی ہوجائیں گے۔‘‘ شامی قاصدنے مروان سے کہا:’’کیوں نہ میں ان کو یہاں لےآؤں۔‘‘ چنانچہ اس نے حضرت سیدناسعید بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے گھرآکر کہا:’’آپ میرے ساتھ بیعت کرنے چلیں۔‘‘آپ نے ارشاد فر مایا:’’تم جاؤ! میں بعد میں آجاؤں گا۔‘‘اس نے کہا: ’’چلئے ورنہ میں آپ کی گردن اُڑادونگا؟‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس کی دھمکی کی قطعا پرواہ نہ کی اور اعلائے کلمۂ حق کا عظیم مظاہرہ کرتے ہوئے یوں ارشادفرمایا:’’کیا تم میری گردن اڑاؤگے؟ خدا کی قسم!تم مجھے ایسی ظالم قوم کی بیعت کی طرف بلارہے ہو جن سے ماضی میں جہاد کر چکا ہوں۔‘‘آپ کی حق وصداقت سے بھرپوریہ آواز سن کروہ منہ بنائے مروان کےپاس پہنچا اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع