30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور قرآن مجید پارہ۲۶،سورۃ الفتح،آیت۱۰میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس مبارک بیعت کواپنی بیعت فرمایا ۔چنانچہ ارشادہوتا ہے(اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَؕ- )ترجمۂ کنز الایمان:وہ جو تمہاری بیعت کرتے ہیں وہ تو اللہہی سے بیعت کرتے ہیں۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
احادیث مبارکہ میں ’’بیعتِ رضوان‘‘ میں شامل ہونے والے تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے لیے جہنم سےآزادی کی بشارت موجود ہے۔ چنانچہ حضرت سیدناجابربن عبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ نبی ٔپاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی ان میں سے کوئی بھی جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔‘‘(سنن الترمذی،کتاب المناقب ،باب فی فضل من بایع تحت الشجرۃ، الحدیث: ۳۸۸۶، ج۵، ص۴۶۲)
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ عشرۂ مبشرہ میں سے ہیں۔یعنی جن دس صحابہ کرام کو ساقی کوثر، مالک جنت نے دنیا ہی میں جنتی ہونے کی بشارت عظمیٰ سے نوازا ان میں سے ایک آپ بھی ہیں۔چنانچہ’’ ترمذی شریف‘‘ میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے جم غفیر میں یوں حدیث پاک بیان کی کہ مالک جنت،قاسم نعمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’دس افراد جنتی ہیں،ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، عثمان، علی، زبیر، طلحہ، عبد الرحمن، ابوعبیدہ، سعدبن ابی وقاص یہ سب جنتی ہیں۔ رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنان نوصحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے اسما ذکرکرنے کے بعدآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہخاموش ہوگئے، لوگوں نے عرض کیا:’’یہ تو نو ہیں،ہم آ پ کواللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم دیتے ہیں آپ بتائیں کہ دسویں کون ہیں؟‘‘آپ نے فرمایا:’’ تم نے مجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم دی ہےتوبتادیتاہوں۔ابوالاعورجنتی ہیں۔(ابوالاعور حضرت سیدنا سعیدبن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی کنیت ہے )
(سنن الترمذی،کتاب المناقب،باب مناقب عبد الرحمن بن عوف،الحدیث :۳۷۶۹،ج ۵، ص۴۱۶)
حضرت سیدناابوذر غفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے ،ایک مرتبہ رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُمّ المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے ارشاد فرمایا:’’اے عائشہ!کیا میں تمہیں خوشخبری نہ دوں؟‘‘عرض کی:کیوں نہیں یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!فرمایا: ’’تمہارے والد یعنی ابوبکرجنتی ہیں اور جنت میں ان کے رفیق حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام ہوں گے،عمر جنتی ہیں ان کے رفیق حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام ہوں گے، عثمان جنتی ہیں ان کارفیق میں خود ہوں، علی جنتی ہیں ان کے رفیق حضرت یحیٰی بن زکریا عَلَیْہِ السَّلَام ہوں گے، طلحہ جنتی ہیں ان کے رفیق حضرت داود عَلَیْہِ السَّلَام ہوں گے، زبیر جنتی ہیں ان کے رفیق حضرت اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام ہوں گے، سعد بن ابی وقاص جنتی ہیں ان کے رفیق حضرت سلیمان بن داود عَلَیْہِ السَّلَام ہوں گے، سعید بن زید جنتی ہیں ان کے رفیق حضرت موسی بن عمران عَلَیْہِ السَّلَام ہوں گے، عبد الرحمن بن عوف جنتی ہیں ان کے رفیق حضرت سیدنا عیسی بن مریم عَلَیْہِ السَّلَام ہوں گے، ابوعبیدہ بن جراح جنتی ہیں ان کے رفیق حضرت سیدنا ادریس عَلَیْہِ السَّلَام ہوں گے۔‘‘پھرفرمایا:’’ اے عائشہ! میں مرسلین کا سردار ہوں اور تمہارے والد افضل الصدیقین(یعنی صدیقین میں سب سے افضل) ہیں اور تم اُمّ المومنین(یعنی تمام مومنوں کی ماں) ہو۔‘‘ (الریاض النضرۃ ، ج۱،ص۳۵)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع