30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اَرَبًّا وَّاحِدًا اَمْ اَلْفَ رَبٍّ
اَدِیْنُ اِذَا تُقُسِّمَتِ الْاُمُوْر
تَرَکْتُ اللَّاتَ وَالْعُزّیٰ جَمِیْعًا
کَذَالِکَ یَفْعَلُ الرَّجُلُ الْبَصِیْر
یعنی کیا میں ایک رب کی اطاعت کروں یا ایک ہزار رب کی ؟جب کہ لوگوں کے دینی معاملات تقسیم ہو چکے ہیں۔ میں نے تولات وعزیٰ سب جھوٹے خداؤں کو چھوڑ دیا ہے۔ اور یقینا ہر بصیرت والا ایسا ہی کرے گا۔(السیرۃ النبویۃ ،زید بن عمروبن نفیل،ج ۱،ص ۹۲)
دو عالم کے مالک و مختار، مکی مدنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :’’ زید بن عمر بن نفیل میرے اور عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کے درمیان ایک امت ہیں، کل بروز قیامت انھیں ایک امت کے طور پر اٹھایا جائے گا۔‘‘
(السنن الکبریٰ ،کتاب المناقب ،زید بن عمرو بن نفیل ،الحدیث: ۸۱۸۷،ج ۵،ص ۵۴)
اِسلام کی جانب میلان کابنیادی سبب
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عموماً نیک والدین کی اولادمیں بھی ان کے تقوے کےآ ثار موجودہوتے ہیں،والدین جن چیزوں سے محبت یانفرت کرتے ہیں ان کی اولاد میں بھی فطرتاً وہی نفرت یامحبت پائی جاتی ہے۔ یقیناً حضر ت سیدنا سعید بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے اسلام کی جانب میلان کابنیادی سبب یہی تھاکہ انہوں نے اپنے والد محترم کو راہِ حق کی تلاش میں سرگرداں دیکھا۔ باپ کانیکی کی طرف رجحان بیٹے کے حق میں مفید ثابت ہوا اور قبولِ اسلام کا محرک بنا۔
حضرت سیدنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے قرابت داری
امیر المؤمنین حضرت سیدناعمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بہن حضرت سیدتنا فاطمہ بنت خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا حضرت سیدناسعیدبن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے نکاح میں تھیں اور حضرت سیدناسعیدبن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بہن حضرت سیدتناعاتکہ بنت زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا امیر المؤمنین حضرت سیدناعمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے نکاح میں تھیں۔(اسدالغابہ،سعیدبن زید القرشی،ج۲،ص۴۵۶)
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ درازقداور گھنے بالوں والے تھے۔(الریاض النضرۃ ،ج۲،ص۳۳۹)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت سیدنا سعید بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا نام اسلام لانے سے پہلے اور اسلام لانے کے بعدبھی’’سعید‘‘ ہی رہا،گویازمانہ جاہلیت میں صرفآپ کانام’’ سعید‘‘ تھا لیکن جیسے ہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی غلامی میں آئےتو حقیقی سعید یعنی خوش بخت بن گئے نیز سعادتوں اورخوش بختیوں کی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہپرچھماچھم بارش ہونے لگی اور کیوں نہ ہوکہ
دامنِِ مصطفےٰ سے جو لپٹا یگانہ ہوگیا
جس کے حضور ہوگئے اُس کا زمانہ ہوگیا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع