30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۲)سود سے بھی بڑاگناہ
’’ناحق کسی مسلمان کی بے عزتی کرناسودسے بھی بڑاگناہ ہے۔‘‘(سنن ابو داود، کتاب الادب، باب فی الغیبۃ،الحدیث:۴۸۷۶،ج۴،ص۳۵۳)
’’کھمبی مَنْ سے ہے اور اس کے پانی میں آنکھوں کے لئے شفاہے۔‘‘(صحیح البخاری،کتاب التفسیر، باب قولہ تعالی:وظللنا علیکم الغمام ،الحدیث: ۸ ۷ ۴۴، ج۳،ص۱۶۶)
حکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: ’’برسات میں بھیگی لکڑی سے چھتری کی طرح ایک گھاس اُگ جاتی ہے جسےاردو میں کھمبی اور چتر مار کہتے ہیں۔ اس کی دو قسمیں ہیں: ایک چھتری نما اور ایک مولی کی طرح لمبی،یہاں دوسری قسم مرادہے۔ بعض لوگ اس کی جڑیں پکا کر کھاتے ہیں۔برسات میں عموماً مل جاتی ہے۔ مَن بمعنی منت اور نعمت ہے۔ اس سے مرادیا تو بنی اسرائیل پر اترنےوالامَن ہی ہے جو کچھ فرق کے ساتھ اب اس شکل میں ہے یا اس سے مراد یہ ہے کہ جیسے بنی اسرائیل پر مَن اعلیٰ درجے کی چیز اُتری مگر بغیر محنت ومشقت انہیں دی گئی ایسے ہی یہ بھی ہے۔ اس کا عرق آنکھ کی بعض بیماریوں میں مفید ہے اور بعض میں نقصان دہ ہے، لہٰذا اس کااستعمال طبیب کی رائے سے کرنا چاہئے۔یہ ہی حال تمام احادیث کی دواؤں کا ہے کہ تمام دوائیں برحق ہیں مگر ہم ان کا استعمال طبیب کی رائے سے کریں۔‘‘(مرآۃ المناجیح،کتا ب الاطعمۃ ،الفصل الاول ،ج۶،ص۲۰۔۴۷ ، کتاب الطب والرقی، الفصل الثالث، ص ۲۴۹۔۲۵۰ملخصا)
(۴)چارطرح کے شہید
’’(۱)جوآدمی اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے۔ (۲)اورجواپنے دین کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے و ہ بھی شہیدہے ۔ (۳)جو اپنی جان کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ بھی شہید ہے۔ (۴)نیزجو اپنے اہل وعیال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ بھی شہید ہے۔‘‘(سنن الترمذی، کتاب الدیات،باب ماجاء فی من قتل۔۔۔الخ ،الحدیث:۱۴۲۶،ج۳،ص۱۱۲)
(۵)حدیث گھڑنے کا وبال
’’مجھ پر جھوٹ باندھنا عام لوگوں پر جھوٹ باندھنے کی طرح نہیں یاد رکھو بے شک جو مجھ پر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنالے۔‘‘(مسند ابی یعلیٰ،مسند سعید بن زید ،الحدیث: ۹۶۲،ج ۱،ص ۴۱۴)
(۶)عورتوں کا فتنہ
’’میرے بعد اُمت میں مردوں کے لیے سب سے نقصان دہ عورتوں کا فتنہ ہے۔‘‘ (صحیح مسلم،کتاب الرقاق،باب اکثر اھل الجنۃ الفقراء، الحدیث: ۲۷۴۱،ص ۱۴۶۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
رسولِ اَکرم، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے یہ جلیل القدرصحابی جب سے اسلام لائے شب وروزدین اسلام کی سربلندی کے لئے مصروف عمل رہے،آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے تمام اسلامی جنگوں میں حصہ لیا اور شوقِ شہادت سے معمورہوکرجہاد کرتے رہے۔ستر سے زائد برس کی عمرمیں ۵۰ یا ۵۱ سن ہجری مدینہ شریف سے تقریبا دس میل دورمقامِ عقیق میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے وصال فرمایا، وہاں سےآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکاجسداطہرمدینہ منورہ لایاگیا ۔
حضرت سیدناسعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےآپ کو غسل دیا، حضرت سیدنا عبد اللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےآپ کی نماز جنازہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع