دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Saeed bin Zaid | فیضان سعید بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہ

book_icon
فیضان سعید بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہ

لشکر کے حصار میں آ گیا ۔حضرت سیدنا سعید بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان کے گرد سخت پہرہ بٹھا دیا ،کوئی بھی رومی کافر غار سے سر نکالتا تو مجاہدین اس پر فوراًتیر چلادیتے ،اور وہ زخمی ہو کر واصل جہنم ہوجاتا ۔ (فتوح الشام ، ص۱۲۴تا۱۲۵)

سیدنا سعید بن زید کی اعلیٰ فہم وفراست

حضرت سیدنا سعید بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے محصورین کی سخت نگرانی کے لیے کچھ مجاہدین کو حکم دیا کہ وہ لکڑیا ں جمع کریں اور حصار کے گردآگ جلائیں تاکہ حصار پر موجود مجاہدین سخت سردی سے محفوظ رہیں اورغارمیں موجود کوئی  رومی اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے راہ فرار اختیار نہ کرسکے۔اور پھررات بھر مجاہدین کے ہمراہ حصار کے گرد تکبیر وتہلیل کی صدائیں بلندکرتے ہوئے گھومتے رہے۔غار میں چھپے رومیوں کی حالت بہت خراب تھی۔بھوک ،پیاس سے ان کا برا حال تھا سخت سردی سے ان کے جسم شل ہوگئے تھے، بڑی مشکل سے رات بسر ہوئی ۔

غیر اللہکو سجدہ کرنے سے منع کردیاگیا

رومی ذلت وخواری اور مشقت کی حالت میں غار میں محصور تھے۔جب رومیوں کو یقین ہوگیا کہ اسی طرح رہے تو ہم بھوک وپیاس اور سردی سے ہلاک ہوجائیں گے توحاکم ہربیس نے اپنے مشیروں سے مشورہ کیا کہ اب ان عربوں سے صلح کرنے میں ہی عافیت ہے۔تمام نے اس رائے سے اتفاق کیا چنانچہ حاکم ہربیس نے اپنے قاصد کے ذریعے صلح کا پیغام بھجوایا۔ جب قاصدآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بارگاہ میں حاضر ہوا تو اس نے اپنے دستور کے مطابق آپ کو سجدہ کرنا چاہالیکن اسے سختی سے منع کردیاگیا۔اس قاصد نےانتہائی تعجب سے پوچھا:آپ اپنے امیر کی تعظیم سے مجھے کیوں روکتے ہیں؟تو حضرت سیدنا سعید بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے جواباً ارشادفرمایا:’’ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّکے بندے ہیں اور ہماری شریعت میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کسی اور کو سجدہ ہرگز روا نہیں ۔‘‘قاصد نےجب یہ سنا تو بے ساختہ پکار اٹھا:یہی تو تمہاری وہ بنیادی خوبی ہے جس کے سبب   اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں نصرانیوں اور دیگر اقوام پر غلبہ عطا فرماتا ہے ۔

سجدہ شکر کی ادائیگی

حاکم ہربیس اپنا قیمتی لباس اتارکر بکریوں اور بھیڑیوں کے اون سے بنا ہوا  لباس پہنےانتہائی خائب و خاسرا ور ذلیل و رسوا ہو کرآپ کی بارگاہ میں پہنچا ۔آپ  نے جب اس کی ذلت ورسوائی کو ملاحظہ فرمایاتو فوراً بارگاہ الٰہی میں سجدہ ریز ہو گئے اوریوں عرض کرنے لگے :’’الٰہی! تیرا شکر ہے کہ تونےایسی جابر و متکبر قوم کو ہمارے ہاتھوں سرنگوں کیا۔‘‘پھر حاکم ہربیس کی جانب متوجہ ہوئے تو وہ کہنے لگا:’’اے مسلمانوں کے سالار!کیا صلح کی کوئی صورت نکل سکتی ہے؟‘‘آپ نے فرمایا:’’صلح کرنے کا اختیار صرف ہمارے سپہ سالار حضرت سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو ہے ۔اگر صلح کرنی ہے تو ان کی خدمت میں جانا پڑے گا۔‘‘چنانچہ وہ آپ کے ہمراہ حضر ت سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بارگاہ میں حاضرہوااور مال و جزیہ دینے کی شرط پر صلح کرلی۔

(فتوح الشام ،جبلہ  یحارب خالدا،ج۱،ص۱۲۵ تا ۱۲۷)

سیدنا سعید بن زید کو فتح کی مبارک باد

حاکم ہربیس کو بعلبک کی حاکمیت سے محرومی کا بڑا صدمہ تھا چنانچہ امان ملنےکے بعد کچھ عرصہ تو بعلبک میں رہا لیکن کچھ باہمی اختلافات اورکچھ مسلمانوں سے بدلہ لینے کاجذبے نے اسے مسلمانوں کے خلاف اعلانِ بغاوت پرمجبور کردیابہرحال

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن