30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہربیس کو پیغام دیا کہ اسلام لےآؤ یا پھر جزیہ دےکر امان حاصل کرلو۔تمہارے پاس یہی دو صورتیں ہیں ورنہ تیسری صورت صرف جنگ ہے۔ قاصدنے یہ مکتوب حاکم ہربیس کو دیا۔ہربیس نے جنگی ماہرین اور رومی فوج کے کمانڈروں سے مشورے کے بعد قاصدکو جنگ کاپیغام دے دیا۔ بہرحال پہلے معرکے میں دونوں طرف سے کافی جانی نقصان ہوا۔
حضرت سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیدنا سعید بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بلا یااور انہیں پانچ سو گھڑ سوار اور تین سو پیادہ لشکر عطا فرمایااور رومیوں کوقلعے کے دروازے پر ہی قتل کرنے اور مسلمانوں سے غافل رکھنے کا حکم دیا۔پھر حضرت سیدنا ضرار بن ازو ررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو پانچ سو گھڑ سوار اورسو پیادہ لشکر دے کرباب شام کی طرف سے جرأت وبہادری کے ساتھ لڑنے کا حکم ارشاد فرمایا۔جب صبح ہوئی تو ہربیس نے اپنے لشکر کی صف بندی کرکے باب وسط سے زوردار حملہ کرنے کا حکم دیاچنانچہ باب وسط کھلتے ہی رومی سپاہی سیلاب کی مانندامڈآئے اور اسلامی لشکر پرٹوٹ پڑے۔ لڑتے لڑتے دونوں لشکرکچھ ہی دیر میں ایک دوسرے کے مقابل آگئے۔
حضرت سیدناسعید بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیدنا ضرار بن ازور رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حکم کے مطابق اپنےدستوں کے ساتھ قلعے کے بند دروازوں کا محاصرہ کئے ہوئے تھے۔ حضرت سیدنا سہل بن صباح عبسی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے انہیں رومیوں کے زوردار حملے کی اطلاع دینے کی خاطرآگ جلادی۔جیسے ہی ان دونوں لشکروں نےآگ کا دھواں دیکھاتو فورا سمجھ گئے کہ اسلامی لشکر کو ہماری ضرورت ہے ۔لہٰذا دونو ں دستے تیزی کے ساتھ حضرت سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے دستے سےآملے۔رومی اس وقت قلعے کی دیوار سے کچھ دور لڑ رہے تھےلہٰذا دونوں جانب سے مسلمانو ں کے نرغے میں آگئے۔ رومیوں کو جب اپنی ناکامی کا یقین ہوگیاتو ان کے قدم میدان جنگ سے اکھڑ گئے اور راہِ فرار اختیار کرتے ہوئے حاکم ہربیس سمیت بھاگ کھڑے ہوئے۔
حضرت سیدناسعید بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ پانچ سو گھڑ سواروں کے ساتھ ہربیس اور اس کے لشکر کا تعاقب کرنے لگے۔رومیوں کو غار میں پناہ لیتےہوئے دیکھ کر ارشاد فرمایا:’’اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس گروہ کی ہلاکت کا ارادہ فرمایا ہے،ان کاہرجگہ سے محاصرہ کرو ،اور اگر ان میں سے کوئی آنکھ اٹھا کر دیکھےتو اس کو ہرگز نہ چھوڑو۔‘‘رومی غار میں محصور ہوگئے اور یہ سلسلہ چند دنوں تک جاری رہا، ایک دن اچانک رومیوں نے محاصرہ توڑنے کے لئے زبردست حملہ کردیا۔حملہ اس قدر شدید تھا کہ اسلامی لشکرآزمائش میں آگیا ۔
حضرت سیدنا ضراربن ازور رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاطلاع ملنے پر حضرت سیدنا سعیدبن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور ان کے ساتھیوں کی مدد کے لئے فوراً پہاڑکی چوٹی پر پہنچےتو وہا ں بڑا نازک مرحلہ درپیش تھا۔اسلامی لشکر کو رومیوں نے چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا اور لگ بھگ ستر افراد کو شہید و زخمی کردیا تھا ۔ جب مجاہدین کو معلوم ہوا اللہ عَزَّ وَجَلَّکی مدد لشکر کی صورت میں ہمارے پاس آ پہنچی ہے تو تمام مجاہدین پوری قوت سے مل کر رومیوں پر ٹوٹ پڑے او ران کے لشکر کو تہہ وبالا کردیا،شمشیر زنی اور تیر اندازی کے وہ جوہر دکھائے کہ رومیوں کی کثیر تعداد کو خاک وخون میں ملادیا ۔حاکم ہربیس اپنے ساتھیوں کے ہمراہ واپس غار میں گھس گیا۔بھاگتے ہوئے رومیوں پرمجاہدین نےیلغار کی تو اور بھی بہت سے رومی مسلمانوں کی ضربوں سے کٹ کٹ کر زمین پر گر نے لگے،ایک بار پھر رومی لشکراسلامی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع