30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسےسارا ماجرا کہہ سنایا۔یہ سن کر مروان نے اسے خاموش رہنے کا کہا۔ (الریاض النضرۃ ،ج۲، ص۳۴۳)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمارےاسلاف کاکردارکس قدرقابل رشک ہوا کرتاتھا،آ ئینہ باطل کے سامنے حق وصداقت کی منہ بولتی تصویربن جایاکرتے تھے،کیونکہ انہیں کسی دنیوی حاکم کا قطعاً خوف نہ ہوتاتھا،ان کادل توصرف خوف خداعَزَّ وَجَلَّکاگرویدہ تھا،ان پر ظلم کیاجاتا توطاقت وقدرت کے باوجودجوابا ظلم نہ کرتے، کڑوی کسیلی باتوں کا جواب میٹھے اور موثر انداز میں دیا کرتے،ان کی زبا ن سے طنز اور طعن وتشنیع کے تیروں کے بجائےعلم و حکمت کے مدنی پھول برساکرتے،اسی اخلاص کی برکت سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کی زبان میں وہ ہیبت رکھی تھی کہ نرم ونازک لہجہ ہونے کے باوجودبھی مخاطب تھرتھرکانپنے لگ جاتا۔
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے شوق جہاد کے کیاکہنے!آپ بدر کے علاوہ تمام غزوات مثلاً: غزوۂ احد، غزوۂ خندق، خیبر،حنین،طائف اورغزوۂ تبوک وغیرہ میں شریک ہوئے۔(الریاض النضرۃ ،ج۲، ص۳۴۱)
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے ’’ بدری صحابی‘‘ ہونے میں کوئی اختلاف نہیں کہ بخاری شریف میں خود حضرت سیدناعبد اللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےآپ کو ’’بدری‘‘ فرمایا۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اگرچہ ’’غزوۂ بدر‘‘ میں شریک نہ ہوسکے پھربھی آپ کا شمار ’’بدری صحابہ‘‘ میں ہوتا ہےاس کی دو وجوہات ہیں:
(۱) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدناطلحہ بن عبید اللہاورحضرت سیدناسعیدبن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو شام کی طرف کفارکی جاسوسی کے لیے بھیجا تھا جب یہ دونوں وہاں سے مدینہ منورہ واپس لوٹے تو’’غزوۂ بدر‘‘واقع ہوچکا تھا۔( چونکہ جنگی جاسوسی بھی جنگ ہی میں شرکت ہے اسی لیے ان دونوں صحابیوں رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکو’’بدری‘‘ فرمایا گیاہے)(الریاض النضرۃ ،ج ۲،ص۳۴۱)
(۲)سرکارمدینہ ،راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں مالِ غنیمت میں سے ان کا حصہ عطافرمایا،اوریہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ بدری ہیں اگروہ بدری نہ ہوتے توانہیں ان کا حصہ نہ دیاجاتا۔چنانچہ، حضرت سیدناعروہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے غزوۂ بدرسے لوٹنے کے بعد جب حضرت سیدنا سعید بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ملک شام سے واپسآئے تواللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےانہیں مالِ غنیمت میں سے اُن کا حصہ عطا فرمایا توآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے استفسار کیا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !میرا اَجر؟‘‘ ارشاد فرمایا:’’تمہارے لیے تمہارااَجر ہے۔‘‘(معرفۃ الصحابۃ ،معرفۃ سعید بن زید بن عمرو بن نفیل، ج۱،ص۱۵۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے دور خلافت میں مسلمانوں کا لشکر مختلف علاقے فتح کرتا ہوا جب ’’بَعْلَبَکَّ‘‘ پہنچا تو امیر لشکر امین الامۃحضرت سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایک مکتوب کے ذریعے بَعْلَبَکَّ کے حاکم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع