30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(5)حضرتِ سَیِّدُنا عبدُاللہ بِنْ بُسْر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سناکہ خوشخبری ہے اُس کے لئے جو اپنے نامۂ اعمال میں اِستِغفَار کو کثرت سےپائے۔ (ابن ماجہ ،کتا ب الادب، باب فی الاِستِغفَار، ۴/۲۵۷، حدیث:۳۸۱۸)
(6)اَمیرُالْمُؤمِنِیْنحضرتِ سَیِّدُنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ مَدَنی آقا،مدینے والے مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: جو بندہ گناہ کر بیٹھے پھر اَحسن طریقے سے وضو کرے پھر کھڑے ہوکر دورکعتیں ادا کرے پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اِستِغفَارکرے تو اسکی مغفرت کردی جاتی ہے۔ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ آیتِ مبارَکہ تلاوت فرمائی:
وَالَّذِیْنَ اِذَافَعَلُوْافَاحِشَۃً اَوْظَلَمُوْااَنْفُسَھُمْ ذَکَرُوا اللہَ فاَسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ ط (پ۴،اٰل عمران:۱۳۵)
ترجمۂ کنزالایمان:اوروہ کہ جب کوئی بے حیائی یا اپنی جانوں پر ظلم کریں اللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں۔(ابو داؤد، کتاب الوتر، باب فی الاستغفار، ۲/۱۲۲، حدیث:۱۵۲۱)
(7)حضرتِ سَیِّدُنا انَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ نبیِّ کریم رَء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک سفر کے موقع پر ارشادفرمایا : اِستِغفَار کرو۔تو ہم اِستِغفَار کرنے لگے، پھر فرمایا: اسے ستّر70 مرتبہ پورا کرو۔ جب ہم نے یہ تعداد پوری کردی تو رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : جو آدمی یاعورت اللہعَزَّوَجَلَّ سے ایک دن میں ستّر مرتبہ اِستِغفَار کرتاہے اللہعَزَّوَجَلَّ اس کے سات سو گناہ معاف فرمادیتاہے اور بیشک جو بندہ دن یا رات میں سات سو سے زیادہ گناہ کرے وہ بڑا بد نصیب ہے۔(شعب الایمان، باب فی محبۃ اللہ، ۱/۴۴۲، حدیث:۶۵۲)
توبہ کی راہ میں رُکاوَٹ بننے والے اُمور اور اُن کا حل
توبہ کی بہت اہم یت وفضیلت ہے ۔ان تمام تر فضائل کے باوجود بعض بدنصیب گناہ گار نفس وشیطان کے بہکاوے میں آکر توبہ کرنے میں ٹال مَٹَول سے کام لیتے ہیں۔بہت سے اُمُور ایسے ہیں جو توبہ کی راہ میں رُکاوٹ بن جاتے ہیں۔ چنانچہ، اُن میں سے چند اُمور اور اُن کا حَل بیان کیا جاتا ہے۔
(1)گُناہوں کے اَنجام سے غَفلت
گناہوں کے انجام سے غافِل ہونا بھی توبہ کی راہ میں رُکاوٹ بن جاتا ہے ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کو جس عذاب سے ڈرایا گیا ہے وہ اس کی نِگاہوں سے اوجھل ہے جبکہ اس کی نفسانی خواہشات کا نتیجہ فوری طور پر اُس کے سامنے آجاتا ہے اور یہ اِنسان کا فطری تقاضا ہے کہ یہ تاخیر سے وُقوع پذیر ہونے والی چیز کے مقابلے میں فوری طور پر حاصل ہونے والی شے کی طرف بہت جلد مُتَوَجِّہ ہوتا ہے ۔ مثلاً بَدکاری کرنے والا فوری طور پر حاصل ہونے والی لَذَّت کی طرف مائل ہوجاتاہے اور اُس کی اُخرَوِی سزا کے بارے میں سوچنے سے غفلت برتتا ہے۔
ایسا شخصغور و فکر کرے کہ اگرچہ یہ عذاب میری نگاہوں سے اوجھل سہی لیکن ہیں تو یقینی ، کتنے ہی دُنیاوی فوائد ایسے ہیں جنہیں میں مستقبل میں ہونے والے نقصان کی وجہ سے چھوڑ دیتا ہوں مثلاً کوئی ڈاکٹر یہ کہہ دے کہ تمہیں دل کا مرض ہے، لہٰذاچکنائی والی چیزیں مثلاً پراٹھا ، سموسے ،پکوڑے وغیرہ کھانا بالکل ترک کردو ،ورنہ تمہاری تکلیف میں اِضافہ ہوجائے گا ۔تو میں مَحض ایک ڈاکٹر کی بات پر اعتبار کرکے آیَندہ نقصان سے بچنے کے لئے اُن اشیاء کو اُن کی تمام تر لَذَّت کے باوجود چھوڑ دیتا ہوں تو کیا یہ نادانی نہیں ہے کہ میں ایک بندے کے ڈرانے پر اپنی لذتوں کو چھوڑ دیتا ہوں لیکن تمام کائنات کے خالِق عَزَّوَجَلَّ کے وعدۂ عذاب کو سچا جانتے ہوئے بھی اپنے نَفس کی ناجائز خواہشات کو ترک نہیں کرتا۔اِس انداز سے غوروفکر کرنے کی بَرَکت سے مذکورہ رُکاوَٹ دور ہوجائے گی اورتوبہ کرنے میں کامیابی نصیب ہوگی ۔ اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ
(2) لَذَّتِ گناہ کا دل ودِماغ پر غَلَبہ
بعض اوقات اِنسان کے دل ودماغ پر مختلف گناہوں مثلاً زِنا، شراب نوشی، بدنگاہی، نامَحْرَم عورتوں سے ہنسی مذاق ، فلم بِینی وغیرہ کی لَذَّت کا اس قَدَر غلبہ ہوجاتا ہے کہ وہ اُن گناہوں کو چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اُنگناہوں کے بغیر اُسے اپنی زندگی بہت اُداس اور وِیران محسوس ہوتی ہے ،یوں وہ توبہ سے محروم رہتا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع