دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 1 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد اول

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد اول

                        عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی مرقاۃ شرحِ مشکٰوۃمیں فرماتے ہیں : ہاتھ پھیلانے سے مراد توبہ قبول کرنا ہے ، ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد اُس کی جُود و عطا کا وسیع ہونا ہے کہ وہ توبہ کرنے والے کو کبھی   نہیں دھتکارتا۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الدعوات، باب الاستغفار، ۵/۱۶۲، تحت الحدیث:۲۳۲۹)

حدیث نمبر:17   سورج کے مغرب سے طُلُوع ہونے سے قبل ہر ایک کی توبہ قبول ہے  

                       عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ، قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ تَابَ قَبْلَ اَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِہَا تَابَ اللہُ عَلَیْہ۔ (مسلم، کتاب الذکر والدعا الخ ، باب استحباب الاستغفار والاستکثار منہ، ص۱۴۴۹، حدیث:۲۷۰۳)

                        ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’جو شخص مغرب سے سورج کے طُلوع ہونے سے پہلے توبہ کر لے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس شخص کی توبہ قُبول کرے گا۔‘‘

قیامت کی نشانی

                قیامت سے پہلے کچھ نشانیاں ظاہر ہونگیں جن میں سے ایک بہت بڑی نشانی سورج کا مغرب سے طُلوع ہونا ہے ،یہ نشانی ظاہر ہوتے ہی توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا۔ اب کسی کی توبہ قُبول نہ ہو گی جو کافرہے وہ کافر ہی رہے گا اورجو مسلمان ہے وہ مسلمان ہی رہے گا۔ ربّ تعالیٰ فرماتا ہے:

یَوْمَ یَاْتِیْ بعض  اٰیٰتِ رَبِّكَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ (پ۸، الانعام:۱۵۸)

ترجمۂ کنز الایمان: جس دن تمہارے ربّ کی وہ ایک نشانی آئے گی، کسی جان کو ایمان لانا کام نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لائی تھی۔

                عَلَّامَہ نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :یہ توبہ قُبول ہونے کی حد ہے اور حدیثِ صحیح میں ہے کہ توبہ کا دروازہ کھُلا ہوا ہے اور جب تک توبہ کا دروازہ بند نہ ہو توبہ قُبول ہوتی رہے گی اور جب سورج مغرب سے طُلوع ہوگا تو یہ دروازہ بند ہوجائے گا اور جس نے اس سے پہلے توبہ نہ کی ہو گی اس کی توبہ قُبول نہیں ہوگی۔ توبہ کی دوسری شرط یہ ہے کہ غَرغَرَۂ موت اور وقتِ نَزَعْسے پہلے توبہ کرے، کیونکہ وقتِ نَزْع میں توبہ قُبول نہیں ہوتی اور نہ وصیت نافذ ہوتی ہے۔ (شرح مسلم للنوی،کتاب الذکر والدعا، باب التوبۃ قولہ صلی اللہ علیہ وسلم یا ایھا الناس، ۹/۲۵، الجزء السابع عشر)

 کس کی توبہ قبول نہیں ؟

                ایک قول یہ بھی ہے کہ اُن لوگوں کی توبہ قُبول نہ ہوگی جو سورج کو پچھم(مغرب) سے نکلتا دیکھیں گے لیکن جو لوگ اس واقعہ کے بعد پیدا ہوں گے ان کی توبۂ کفر بھی قُبو ل ہوگی اور توبۂ گناہ بھی، کہ انہوں نے علامت ِقیامت دیکھی ہی نہیں۔ (مرقاۃ المفاتیح،کتاب الدعوات ، باب الاستغفار ، ۵/۱۶۲، تحت الحدیث:۲۳۲۹)

                        مراٰ ۃالمناجیحمیں صَدرُ ا لا فاضِل علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی کا قول نقل کیا گیا کہ اس وقت کے بعد انسان کی پیدائش ہی بند ہوجائے گی۔ غرض یہ کہ آیت و حدیث میں اُن لوگوں کا ذکر ہے جو پہلے گناہ کرتے رہے توبہ نہ کی ، یہ علامت دیکھ کر توبہ کرنے لگے، ان کی توبہ قُبول نہیں ، کہ غیب کھل جانے کے بعد توبہ کیسی؟ وَاللہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم(مراٰۃ المناجیح، ۳/ ۳۵۸)

تُوْبُوْا اِلَی اللہ                           اَسْتَغْفِرُ اللہ

سورج کے مغرب سے طُلُوع کرنے میں کیا حکمت ہے ؟

                عَلَّامَہ قُرْطُبِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :’’ حضرتِ سَیِّدُناابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے نَمْرُوْد سے فرمایا تھا :

فَاِنَّ اللّٰهَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِیْ كَفَرَؕ- (پ۳، البقرہ:۲۵۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تواللہعَزَّوَجَلَّ  سورج کو لاتا ہے پورب(مشرق)سے تُو اس کو پچھم (مغرب)سے لے آتو ہوش اُ ڑ گئے کافر کے۔

                                                 مُلْحِد (کافر و بے دین)اور نُجُومی   آخر تک اِس کے مُنکِر رہے اور کہتے رہے کہ سورج کا مغرب سے نکلنا ممکن نہیں ہے ، پس اللہعَزَّوَجَلَّ ایک دن سورج کو مغرب سے نکال کر ان بے دینوں اور قدرتِ الٰہی کے منکروں کو دکھائے گا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہر چیز پر قادر ہے اس کی مرضی چاہے وہ سورج کو مشرق سے نکالے یا مغرب سے۔ (سُبْحَانَ اللہِ اللہُ اَکْبَرُ) (ا لتذکرہ باحوالِ الموتٰی، ص۶۴۶)

                        رَ بِّ کریم کا کرَم بہت وسیع ہے کہ گنہگار کو ہر وقت اپنے کرم کے سائے میں لینے کو تیار ہے ،کوئی آنے والا ہو۔ بندہ چاہے کتنا ہی گناہ گار ہو اُسے توبہ کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہئے اور ہرگز ہر گز اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ خُدائے بُزُرگ وبَرتر کے رحم وکرم کی کوئی اِنتہا نہیں۔وہ اپنے بندوں کے زمین وآسمان کے برابر گناہ بھی اپنی رَحمت سے مُعاف فرما دیتا ہے۔ بس توبہ سچّی ہونی چاہیے ۔سچّی توبہ کے بعد اگر نفس

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن