30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اُمَّت میں پیدا فرما یا ،کروڑوں درودوسلام ہوں اُس نبیَِّ رحمت ،شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر کہ جن کے صَدقے ہم پر توبہ و اِستِغفار کے دروازے ایسے کھلے کہ جب تک سورج مغرب سے طُلُوع نہ ہو اُس وقت تک کی گئی ہر سچّی توبہ قُبول ہے۔ اگرربِّ کریم کا یہ اِحسانِ عظیم نہ ہوتا تو تباہی وبربادی ہمارا مُقَدَّر ہوتی۔
اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے’ ’رِیَاضُ الصَّالِحِیْن‘‘ کے اِس باب میں توبہ واِستِغفَار سے متعلق 3تین آیاتِ کریمہ ،12احادیثِ مبارَکہ اور توبہ کی شرائط بیان فرمائی ہیں۔ ہم اِس باب میں توبہ کی تعریف وضرورت، اہم یت وفضیلت ، روایات وحکایات اور دیگر مفید باتیں بیان کرینگے ۔
مُصَنِّفرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ قُبولِیَّت ِتوبہ کی شرائط بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’تمام گناہوں سے توبہ واجب ہے ۔ اگر گناہ بندے اور اللہ عَزَّوَجَلَّکے درمیان ہو اور اس میں کسی بندے کا حق مُتَعَلِّق نہ ہو تو اُس گناہ سے توبہ کی تین شرائط ہیں :(۱)اُس گناہ کو ترک کرنا (۲) گناہ پر شرمندہ ہونا(۳)اِس بات کا پُختہ ارادہ کرنا کہ اب یہ گناہ دوبارہ کبھی نہیں کروں گا ۔اگر اِن شرائط میں سے ایک بھی نہ پائی گئی تو توبہ صحیح نہ ہوگی اور اگر گناہ کسی انسان سے مُتَعَلِّقہو تو پھر توبہ کیلئے ان تین شرطوں کے علاوہ چوتھی شرط یہ ہے کہ جس کاحق تَلف کیا اُس کا حق ادا کرے ، اگرحق مال وغیرہ کی قِسم سے ہو تو اس کوواپس کرے۔اگربندے کا حق تُہم ت وغیرہ کی قِسم سے ہو تو اُس کو اپنے اوپر اِختیار دے یا اُس سے معافی مانگے اور اگر غِیْبَت وغیرہ ہو تو پھر بھی اُس سے معافی مانگے ،تمام گناہوں سے توبہ واجب ہے ، اگر گناہوں میں سے بعض سے توبہ کی تو اہلِ حق کے نزدیک اُن گناہوں سے توبہ صحیح ہے لیکن جن سے توبہ نہیں کی وہ اس کے ذمہ باقی رہیں گے۔ توبہ ہر انسان پر لازم ہے۔ قراٰن وحدیث اور اِجماعِ اُمّت سے اِس پر بہت دلائل ہیں۔‘‘
توبہ سے مُتَعَلِّق’’۳ ‘‘فرامینِ باری تعالیٰ
(1)
وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(۳۱)(پ ۱۸،النور:۳۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اوراللہکی طرف توبہ کرو اے مسلمانو! سب کے سب اس اُمید پر کہ تم فلاح پاؤ۔
حضرت ِسَیِّدُنااِسماعیل حَقِّی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاس آیت کے تحت لکھتے ہیں :اللہ عَزَّوَجَلَّنے تمام مسلمانوں کو توبہ و اِستِغفَار کاحکم فرمایااس لئے کہ انسان فطرۃً کمزور ہے باوجود کوشش کے وہ کسی نہ کسی غلطی میں پڑ ہی جاتا ہے ۔ اِمَام قُشَیْرِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا:’’ توبہ کاسب سے زیادہ محتاج وہ ہے جواپنے لئے توبہ کی ضرورت محسوس نہ کرے۔اِس آیتِ مبارکہ میں ربِّ کریم کی صفتِ سَتَّاری کا بہت زیادہ ظہور ہے کہ اس نے تمام اَہلِ ایمان کو توبہ کاحکم ارشاد فرمایا تاکہ مُجرِم رُسوانہ ہوں ، کیونکہ اگر صرف مُجرِموں کو خطاب ہوتاتو اُنکی رُسوائی ہوتی، اس فرمان سے اُمید بندھ جاتی ہے کہ جیسے دنیا میں رُسوا نہیں کیاایسے ہی آخرت میں بھی رسوا نہیں کرے گا۔‘‘ (تفسیر روح البیان، پ۱۸، النور، تحت الایۃ:۳۱، ۶/۱۴۵)
اک گناہ میرا ماں پیو ویکھے عمری منہ نہ لاوے لکھ گناہ میرا مالک ویکھے فر وِی پردے پاوے
( یعنی اگر والدین اپنی اولاد کا کوئی گناہ دیکھ لیں توبسا اوقات عمر بھر کے لئے ناراض ہو جاتے ہیں لیکن اللہعَزَّوَجَلَّ ایسا کریم ہے کہ لاکھوں گناہوں کے باوجود ہمیں رسوا نہیں کرتا بلکہ ہم اری پردہ پوشی فرماتا ہے )
(2)
وَ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِؕ (پ ۱۲،ہود:۹۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اپنے ربّ سے معافی چاہو پھر اس کی طرف رجوع لاؤ۔
(3)
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًاؕ- (پ ۲۸،التحریم:۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والواللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جو آگے کو نصیحت ہوجائے۔
صَدرُ ا لا فاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِیاس آیت کے تحت فرماتے ہیں : توبۂصادِقہ جس کا اثر توبہ کرنے والے کے اَعمال میں ظاہر ہو، اُس کی زندگی طاعتوں اور عبادتوں سے مَعْمُور ہو جائے اور وہ گناہوں سے مُجْتَنِب (یعنی بچتا) رہے۔ اَمِیرُ الْمُؤمِنِیْن
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع