30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زیارت نصیب ہوئی، میں رونے لگا، حضرتِ سَیِّدُنا یوسف عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ارشاد فرمایا :’’ تمہیں کس چیز نے رُلایا ہے ؟‘‘ میں نے عرض کی:’’اے اللہعَزَّوَجَلَّ کے نبی عَلَیْہِ السَّلام! میرے ماں باپ آپ عَلَیْہِ السَّلَام پر قربان! مجھے آپکے قید میں جانے ، حضرتِ سیِّدُنایعقوب عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے جدائی، عزیزِ مصرکی بیوی کے معاملے میں آزمائش میں مبتلا ہونے، آپ کی پاکدامنی اور صبر وشکر پر تعجب ہو رہا ہے۔‘‘ یہ سن کر حضرتِ سیِّدُنا یوسف عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ارشاد فرمایا:’’کیا تجھے اس شخص پر تعجب نہیں ہو رہاجسے ایک دیہاتی عورت کا واقعہ پیش آیا ۔‘‘آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی یہ بات سن کر میں سمجھ گیا کہ آپعَلَیْہِ السَّلَام نے کس واقعہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ حضرتِ سیِّدُناسلیمان بن یَسَارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار نے حضرتِ سیِّدُنا عَطَاء بن یَسَار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار کی زندگی میں یہ واقعہ کسی کو نہ بتایا۔انکے انتقال کے بعد اپنے گھر والوں کو یہ واقعہ بتایا۔ پھر یہ واقعہ پورے شہر میں مشہورہو گیا ۔ (عیون ا لحکایات، ص۳۸۲)
اللہ عَزَّوَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہم اری بے حساب مغفرت ہو۔
ہمارے بزرگانِ دین رَحِمَہم اللہُ الْمُبِیْن اپنی عزت کی حفاظت کس طرح کیا کرتے تھے انہیں دنیا کی رنگینی گناہ پر آمادہ نہ کرسکتی تھی اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کے صدقے ہمیں بھی ہرآن گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ نیکیوں کی طرف راغب ہونے اور بُرے کاموں سے بچنے کا ذہن بنا نے کے لئے’’دعوت اسلامی‘‘ کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے شائع کردہ رسالے’’باحیانوجوان‘‘کا مطالعہ کیجئےاِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّبہت برکتیں نصیب ہونگی۔
گناہوں سے ہر دم بچا یا الٰہی
مجھے متقی تو بنا یا الٰہی
جومسلمان اپنی کسی خالص نیکی کوبارگاہ ِخداوندی میں وسیلہ بنا کراخلاص سے دعا کرے تو قوی اُمید ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اسکی دعا کو قبول فرمائے گا جیسا کہ مذکورہ حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ جب ان مسافروں نے اپنے خالص اعمال کاوسیلہ پیش کیا توانکی مصیبت دور ہوگئی۔ اگر ہم جیسے گنہگاربندے بھی نیک بندوں کی خالص ومقبول نیکیوں کے وسیلے سے دعا کریں تواللہ عَزَّوَجَلَّکی ذات سے اُمید ہے کہ وہ ہم اری حاجات پوری فرمائے گا کیونکہ ان کی نیکیاں بارگاہِ خداوندی میں مقبول ہیں۔حدیث مذکور میں تَوَسُّل( یعنی وسیلے) کا بیان ہوا لہٰذا تَوَسُّل سے متعلق اہم باتیں ملاحظہ فرمائیے !
توَسُّل کامطلب یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی محبوب ہستیوں کے ذکر کی برکتیں حاصل کی جائیں کیونکہ یہ بات ثابت ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان پر رحم فرما تا ہے ۔اولیائے کرام سے تَوَسُّل یہ ہے کہ حاجتوں کے بر آنے کے لئے اور اپنے مَطالِب کے حصول کے لئے انہیں اللہ عَزَّوَجَلََّّ کی بارگاہ میں وسیلہ و واسطہ بنایاجائے کیونکہ انہیں اللہ عَزَّوَجَلََّ کی بارگاہ میں ہم اری نسبت زیادہ قُرب حاصل ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کی دعا پوری فرماتا ہے اور ان کی شفاعت قبول فرماتا ہے۔ (العقائد والمسائل، ص ۱۸)
امام تَقِیُّ الدِّیْن سُبْکِی شافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِیْ فرماتے ہیں :’’حاجت مند شخص حضور نبیِّ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مرتبے اور آپکی برکت کے طفیل اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اپنی حاجت طلب کرے، یہ ہر حالت میں جائز ہے، خواہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ولادتِ با سعادت سے پہلے ہو یا ظاہری حیاتِ طیبہ میں یا وصالِ ظاہری کے بعد اور ہر حالت میں اس کے جواز پر احادیث مبارَکہ موجود ہیں۔‘‘(شفاء ا لسقام فی زیا رۃ خیر الانام،الباب الثامن فی التوسل والاستغاثۃ،ص۳۵۸(
اللہ عَزَّوَجَلّکے محبوب ،دانائیغُیُوْب مُنَزَّ ہٌ عَنِ الْعُیُوْبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: جب آدم (عَلَیْہِ السَّلَام) نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی :اے اللہ عَزَّوَجَلَّ!میں محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کے حق کے وسیلے سے دعاکرتا ہوں کہ تو مجھے معاف فرمادے۔تو ارشاد ہوا:’’ اے آدم تو محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کو کیسے جان گیا میں نے تو ابھی انہیں پیدا بھی نہیں کیا؟‘‘عرض کی: ’’اے باری تعالیٰ! جب تو نے مجھے اپنے دست ِقدرت سے پیدا کیا اور مجھ میں روح پھونکی تو میں نے سر اٹھایا ،عرش کے پایوں پر لکھاتھا:’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ‘‘پسمیں جان گیا کہ تیرے نام کے ساتھ جس ہستی کا نا م ہے وہ تیرے ہاں مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہے۔ارشاد ہو ا :’’ اے آدم!(عَلَیْہِ السَّلَام) تو نے ٹھیک کہا، بے شک! محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) تمام مخلوق میں میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہیں اور اب کہ تو نے ان کے حق کا واسطہ دے کر مغفرت چاہی ہے تو میں نے تمہاری مغفرت کردی اور اگر محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نہ ہوتے تو میں تمہیں بھی پیدا نہ کرتا۔‘‘ (مستدرک حاکم، کتاب آیات رسول اللہ… الخ، باب استغفا رآدم عیلہ السلام…الخ، ۳ / ۵۱۷،حدیث: ۴۲۸۶)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع