دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 1 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد اول

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد اول

کرلوگے۔حضرتِ سَیِّدُنا مجاہد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْواحِد فرماتے ہیں : اللہعَزَّوَجَلَّ تمہارے لئے دنیا و آخرت میں نجات کی راہ نکال دے گا تمہارے سابقہ گناہوں کو مٹا دے گا،دنیا و آخرت میں تمہارے گناہوں کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ اور اللہ عَزَّوَجَلَّ بڑے فضل والا ہے، یعنی وہی تم پر فضل فرماتا ہے اورسب مخلوق پر اسی کا فضل ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اطاعت گزاروں پر اس کا فضل یہ ہے کہ ان کی نیکیاں قبول فرمالے اور گناہگاروں پر اس کا فضل یہ ہے کہ ان کے گناہ معاف فرما دے ۔ ( تفسیرخازن پ۹،الانفال، تحت الایۃ:۲۹،  ۲/۱۹۱ ملتقطا)

 حدیث نمبر:69                                                          سب سے زیادہ عزت والا کون؟

                                                عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:قِیلَ یَا رَسُولَ اللہِ! مَنْ أَکْرَمُ النَّاسِ؟ قَالَ:’’أَتْقَاہم  ‘‘  فَقَالُوا: لَیْسَ عَنْ ہَذَا نَسْأَلُکَ ، قَالَ: ’’فَیُوسُفُ نَبِیُّ اللہِ ابْنُ نَبِیِّ اللہِ ابْنِ نَبِیِّ اللہِ ابْنِ خَلِیلِ اللہِ‘‘ قَالُوا: لَیْسَ عَنْ ہَذَا نَسْأَلُکَ، قَالَ: ’’فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونِی؟ خِیَارُہم   فِی الْجَاہِلِیَّۃِ خِیَارُہم   فِی الْاِسْلَامِ إِذَا فَقُہُوْا۔‘‘(بخاری، کتاب احادیث الانبیائ،باب قولہ تعالٰی واتخذ اللہ ابراہیم خلیلا، ۲/۴۲۱،حدیث:۳۳۵۳)

                                                ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے عرض کی گئی :یارسولَ اللہ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)! سب سے زیادہ عزت والا کون ہے؟ فرمایا:وہ جو لوگوں میں سب سے زیادہ متقی ہو۔ صحابۂ کرام نے عرض کی :ہم   اس کے متعلق نہیں پوچھ رہے، فرمایا: یوسف (عَلَیْہِ السَّلَام) جن کے والد اور دادا نبی ہیں اورجَدِّ اعلیٰ ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خلیل ہیں ، صحابۂ کرام عَلَیْہم   الرِّضْوَاننے عرض کی ہم   ان کے متعلق نہیں پوچھ رہے ،فرمایا: تو عرب کے خاندان کے متعلق پوچھتے ہو ؟(سنو! )جو جاہلیت میں بہتر شمار ہوتے تھے، وہی اسلام میں بھی بہتر ہیں بشرطیکہ دین کی سمجھ رکھتے ہوں۔

 ’’ اِذَافَقُھُوْا کا مطلب ہے کہ جب شرعی احکام کو جانیں۔‘‘

                                                مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت  مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانحدیث مذکور کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : (جب یہ سوال کیا گیا کہ سب سے زیادہ باعزت کون ہے) یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک یا دنیا و آخرت میں کون مُحْتَرَمْ ہے؟(تو فرمایا:وہ جو لوگوں میں سب سے زیادہ متقی ہو)   چنانچہ قراٰنِ کریم فرماتا ہے:

اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ    (پ۲۶، الحجرات:۱۳)

ترجمۂ کنز الایمان : بے شک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیز گار ہے۔

خیال رہے کہ انسان کیلئے تقویٰ ذاتی شرافت وعزت ہے اسیحَسَبْ کہتے ہیں اور عالی خاندان ،عارضی عزت ہے   ا سینَسَبْ کہتے ہیں۔ مبارک ہے وہ جوحسب و نسب دونوں میں اعلیٰ ہو( لوگوں نے کہا کہ ہم   اس کے متعلق نہیں پوچھ رہے تو فرمایا کہ یوسف (عَلَیْہِ السَّلَام) سب سے زیادہ معززہیں ) یعنی یوسف عَلَیْہِ السَّلَامحَسَبْ و َنسَبْدونوں میں بہت اعلیٰ ہیں کہ خود بھی نبی ہیں یہ ان کیحَسَبِی عظمت ہے ان کی تین پشت میں نبوت ہے کہ والد نبی ،دادا، پَر دادا نبی یہ ان کی     نَسَبی شرافت ہے۔ یہ ان کی خصوصیت ہے۔ جیسے حضرات صحابہ میں ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ عَنْہم   اَجْمَعِیْن کہ حسبی اشرف بھی ہیں کہ صدیق ہیں نسبی اشرف بھی کہ آپ کی چار پشتوں میں صَحَاِبیَّتْہے خود صحابی ،ماں باپ صحابی اولاد صحابی پوتے نَواسے صحابی ۔یہ آپ کی خصوصیت ہے ۔ حضرت یوسف عَلَیْہِ السَّلَام میں نبوت، علم، عالی نسبی، جودو سخا، عَدْل دین، دنیا کی ریاست جمع ہیں۔ ( لوگوں نے کہا:ہم   ان کے متعلق نہیں پوچھ رہے توفرمایا) کیا تم مجھ سے عرب کے قبائل کے متعلق پوچھتے ہو کہ کونسا قبیلہ اشرف ہے؟( توسنو ! جو جاہلیت میں بہتر شمار ہوتے تھے، وہی اسلام میں بھی بہتر ہیں بشرطیکہ دین کی سمجھ رکھتے ہوں ) یعنی اسلام لانے سے اعلیٰ خاندانی آدمی کی شرافت گھٹ نہیں جاتی بلکہ بڑھ جاتی ہے اور اگر وہ عالِمِ باعمل بھی ہوجائے تو صرف خاندانی مسلمان سے افضل ہوگا ۔خلاصہ یہ ہے کہ جو زمانۂ کفر میں اپنی قوم میں اعلیٰ و افضل ہو وہ مسلمان ہو کر بھی اعلیٰ و افضل ہی رہے گا اسے نو مسلم سمجھ کر ذلیل نہ سمجھا جاوے گا ۔اگر وہ عالم باعمل بھی ہوجاوے تو اس کی شرافت کو اور چار چاند لگ جاویں گے ۔ مثلاً آج کوئی بڑا عزت والا پادری یا پَنْڈِتْ مسلمان ہوجاوے تو اسے نو مسلم کہہ کر حقیر نہ جانو اس کی عزت و احترام باقی رکھو اور اگر وہ عالم ہوجاوے تو اس کا بہت احترام کرو! غرضیکہ حسب ونسب دونوں کی شرافت کا اجتماع رب کی رحمت ہے۔ (مراٰۃ المناجیح ،۶/۵۰۲ )

 فقہ کی تعریف

                                                  فِقْہ (فا کے کسرہ کے ساتھ) اس کے لغوی معنی ہیں ’’کسی شئے کو جاننا اور اس میں ماہر ہونا‘‘بعد میں اس لفظ کو علم دین کی فضیلت وشرف کی وجہ سے علم دین کے لئے ہی استعمال کیا جانے لگا۔ 

فقہ کی اِصطلاحی تعریف: ’’ اَلْعِلْمُ بِالاَحْکَامِ الشَّرْعِیَّۃِ الْفَرْعِیَّۃِ الْمُکْتَسَبِ مِنْ اَدِلَّتِھَا التَّفْصِیْلِیَّۃِ‘‘

ترجمہ:  ان احکام شرعیہ فرعیہ کا جاننا جو اپنے تفصیلی دلائل سے اخذ کئے گئے ہوں۔ (د رمختار، ۱/ ۹۷،۹۸)

(جو جاہلیت میں بہتر شمار ہوتے تھے، وہی اسلام میں بھی بہتر ہیں بشرطیکہ دین کی سمجھ رکھتے ہوں )  اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی معزز وشریف آدمی اسلام قبول کر لے اور احکامِ شرع سیکھ لے تو وہ اپنی خاندانی شرافت کے ساتھ دینِ اسلام کی برکتیں بھی جمع کرلیتاہے اوراگر اسلام نہ لائے تو وہ اپنی عزت و شرف کو گرادیتا ہے اور اپنی خاندانی شرافت کو ضائع کر دیتا ہے ۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الاداب باب المفاخرۃ والعصبیۃ، ۸/۶۳۰، تحت الحدیث: ۴۸۹۳)

                                                حدیثِ مذکور میں سب سے مُعَزَّز ترین اسے بتایا گیا جو سب سے زیادہ متقی ہو ، تقویٰ بہت بڑی دولت ہے جسے یہ نصیب ہوجائے اس کے لئے جنت کی عظیم نعمتوں کا وعدہ ہے تمام نیکیوں کی اصل ہی تقویٰ ہے جو جتنا تقویٰ اختیار کرے گا اتنا ہی بڑ ا عالم بن جائے گا ، اس ضمن میں ایک بہت ہی پیاری حدیثِ پاک ملاحظہ فرمائیے!

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن