دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 1 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد اول

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد اول

جائز نہیں ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مغفرت، ایسی توبہ سے کِنایہ ہو جو مغفرت کوواجب کرنے والی ہو۔ یہ اس نبی عَلَیْہِ السَّلَام کا کمال حِلْم اور حسن اخلاق تھا کہ گناہ ان کی قوم نے کیا اور آپ نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اُن کا عُذر پیش کیاکہ انہوں نے یہ جرم اس وجہ سے کیا ہے کہ یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول کو نہیں جانتے۔‘‘(مرقاۃ المفاتیح،کتاب الرقاق، باب التوکل والصبر، ۹/ ۱۷۴، تحت الحدیث:۵۳۱۳)

                مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان حدیثِ پاک کے اِن الفاظ (کَاَنِّی اَنْظُرُ اِلٰی رَسُوْلِ اللہ گویا میں اب بھی رسول اللہ کو دیکھ رہا ہوں )  کے تحت فرماتے ہیں :’’یہ ہے تصورِ رسول ،  حضرات صحابۂ کِرام عَلَیْہم   الرِّضْوَانہروقت  اپنے محبوب نبی (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی اَداؤں کے تصور میں رہتے تھے :

ریاضت نام ہے تیری گلی میں آنے جانے کا                      تصور میں ترے رہناعبادت اس کو کہتے ہیں

                                                 نبی سے مراد یا تو نوح عَلَیْہِ السَّلَام ہیں جواپنی قوم سے بڑی تکلیف اُٹھاتے تھے حتیٰ کہ کئی کئی دن بے ہوش رہتے تھے، ہوش آنے پر پھر جاتے تبلیغ فرماتے یا خود حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات پاک مراد ہے ۔یہ واقعہ طائف کی تبلیغ اور اُحدشریف کے جہاد کا ہے کہ حضورِ اَنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان ظالم کفار کو دعائیں دیتے جاتے تھے چہرۂ پاک سے خون صاف کرتے جاتے تھے۔  تاکہ خون آنکھوں یا منہ میں نہ پڑے یا زمین پر نہ گرے زمین پر گرنے سے عذابِ الٰہی آجانے کا اندیشہ تھا۔ ’(میری قوم کو) بخش دے‘( اس کے)معنی یہ ہیں کہ تو انہیں ایمان کی توفیق دے عذاب نہ دے ورنہ کفار کے لئے بخشش کی دعا بحکمِ قراٰن ممنوع ہے ،نہ جاننے کے معنی یہ ہیں کہ یہ لوگ مجھے پہچانتے نہیں اگر پہچانتے ہوتے تو یہ حرکت نہ کرتے ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۷/۱۲۶)

 طائف کا سفر

وہ ہادی جو نہ ہوسکتا غَیْرُ اللہ سے خائف                چلا اک روز مکے سے نکل کر جانبِ طائف

دیا پیغام حق طائف میں طائف کے مکینو ں کو           دکھائی جنسِ روحانی کمینوں کو خسیسوں کو

نبیِّ کریم، رء وف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دعوت ِاسلام کے لئے جب طائف گئے تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے غلام حضرتِ سَیِّدُنا زید بن حارثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہم  راہ تھے۔ طائف میں بڑے بڑے اُمرا اور مالدار رہتے تھے۔ ان میں ’’عَمْرو‘‘ کا خاندان تمام قبائل کا سردار سمجھا جاتا تھا۔ یہ تین بھائی تھیعَبْدیالِیْل،مَسْعُوْد،حَبِیْب۔ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان تینوں کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں اِسلام کی دعوت دی۔ ان تینوں نے اِسلام قبول نہیں کیا بلکہ انتہائی بیہودہ اور گستاخانہ جواب دیا۔ ان بدنصیبوں نے اسی پر بس نہیں کیابلکہ طائف کے شریر غنڈوں کو ابھارا کہ یہ لوگ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ برا سلوک کریں۔چنانچہ، شریروں کا یہ گروہ ہر طرف سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ٹوٹ پڑا اور یہ شرارتوں کے مجسمے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر پتھر برسانے لگے یہاں تک کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مقدس پاؤں زخموں سے لہولہان ہو گئے اور آپ کے موزے اور نعلین مبارک خون سے بھر گئے۔ جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم زخموں سے بے تاب ہو کر بیٹھ جاتے تو یہ ظالم انتہائی بے دردی کے ساتھ آپ کا بازو پکڑ کر اُٹھاتے اورجب آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم چلنے لگتے تو پھر پتھروں کی بارش کرتے ۔طعنہ زنی کرتے،گالیاں دیتے اور تالیاں بجاتے ہوئے ہنستے ۔

بڑھے اَنبوہ در اَنبوہ پتھرلے کے بیگانے                        لگے مِینہ پتھروں کا رحمت عالَم پہ برسانے

وہ اَبرِ لطف جنکے سائے کو گلشن ترستے تھے                     یہاں طائف میں اس کے جسم پر پتھر برستے تھے

وہ بازو جو غریبوں کو سہارا دیتے رہتے تھے                    پیاپے آنے والے پتھروں کی چوٹ سہتے تھے

وہ سینہ جس کے اندر نورِحق مستور رہتا تھا                    وہی اب شق ہوا جاتا تھا اس سے خون بہتا تھا

جگہ دیتے تھے جن کو حاملانِ عرش آنکھوں پر              وہ نعلین مبارک ہائے خوں سے بھر گئیں یکسر

حضور اس  جَور سے جب چُور ہو کر بیٹھ جاتے تھے                        شقی آتے تھے بازو تھام کر اوپر اٹھاتے تھے

                        حضرتِ سَیِّدُنا زید بن حارثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  دوڑ دوڑ کر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر آنے والے پتھروں کو اپنے بدن پر لیتے اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بچاتے تھے یہاں تک کہ وہ بھی خون میں نہا گئے ۔ (شرح المواہب، ۲/۵۰ ، ۵۱)

                                                آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم زخموں سے نڈھال ہوکر انگور کے ایک باغ میں داخل ہوئے ۔ یہ باغ مکۂ مکرمہ کے ایک مشہور کافر عُتْبَہ بِنْ رَبِیْعَہ کا تھا۔ جب عُتْبَہ بِنْ رَبِیْعَہ اور اس کے بھائی شَیْبَہ بِنْ رَبِیْعَہ نے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی یہ حالت دیکھی تو کافر ہونے کے باوجود انہوں نے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنے باغ میں ٹھہرالیا اور اپنے نصرانی غلام عَدَّاس کے ہاتھ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں انگور کا ایک خوشہ بھیجا۔ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بِسْمِ اﷲ پڑھ کر خوشہ کو ہاتھ لگایاتو عَدَّاس تعجب سے کہنے لگا : یہاں کے لوگ تو یہ کلمہ نہیں بولا کرتے! یہ سن کر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن