دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 5 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد پنجم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد پنجم
            

باب نمبر:70 لوگوں سے میل جول رکھنے کابیان

اِسلام ایک ایسا دِین فِطرت ہے کہ جو زندگی کے تمام شعبوں میں ہماری راہنمائی کرتا ہے، عبادت ہو یا معاملات، تجارت ہو یا سیاست، گھرداری ہو یا حُسنِ مُعاشَرت، زندگی گزارنے کے تمام راہنما اصولوں سے گلشن اسلام آراستہ و مزین ہے۔ ہر چھوٹی سے چھوٹی بات اور ہر بڑے سے بڑے معاملے کا حل اسلام میں موجود ہے۔اس کے قواعد وضوابط معاشرے کے ہر طبقے کو احاطہ کیے ہوئے ہیں۔ اسلام کے بیان کردہ اصولوں میں ایک بنیادی اصول یہ بھی ہے کہ مسلمان باہمی تعلقات کو بہتر بنائیں، ایک دوسرے کے دُکھ درد میں شریک ہوں اور مصیبت و پریشانی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں اور معاشرے کی فلاح و بہبود بھی اسی میں ہے کہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے عمدہ میل ملاپ رکھیں۔ نیز ضرورت بھی اس بات کی طرف داعی ہے کہ انسان ایک دوسرے سے اچھے تعلقات رکھے کیونکہ اس دنیا میں اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ نے مختلف انسانوں کو مختلف خصلتوں اور خصوصیات سے متصف فرمایا ہے اور انسانوں کی ضروریات کو ایک دوسرے کے ساتھ منسلک کیا ہے جس کی وجہ سے ہرشخص کسی نہ کسی معاملے میں دوسروں کا محتاج ہوتا ہے۔ جیساکہ بیمار انسان کو علاج کے لیے ڈاکٹرو طبیب کی حاجت ہے اور ڈاکٹر کو اپنے مکان کی تعمیر کے لیے مزدوروں کی ضرورت ہے اور مزدوروں کو کام کرنے کے لیے جو آلات درکار ہیں اُن میں وہ صانع کے محتاج ہیں الغرض انسان اپنی زندگی کا پہیّا چلانے میں دوسروں کا محتاج ہے۔ لہذا ہرشخص پر لازم ہے کہ لوگوں سے بہتر انداز میں میل جول رکھے تاکہ ضرورت کے وقت لوگ اس کے کام آسکیں اور کسی بھی ملک یا ریاست کے استحکام کے لیے بہت ضروری ہے کہ اُس کے افراد میں اجتماعیت ہو اور کسی بھی قوم میں اجتماعیت آدابِ زندگی کو ملحوظِ خاطر رکھنے سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ اِمَام اَبُوزَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِی نے اس باب میں حُسن معاشرت کا لحاظ کرتے ہوئے اسلام کے وہ سنہری اصول بیان فرمائے ہیں جن پر عمل پیرا ہونے سے ایک اچھا معاشرہ قائم کیا جاسکتا ہے اور ساتھ ہی آپ نے وہ اوصاف بھی بیان فرمائے ہیں کہ جن کا تعلق خود اپنی ذات سے ہے، اگر انسان اِن اَوصاف سے خود کو متصف کرلے تو دنیا و آخرت میں کامیابی اُس کے قدم چومے گی۔ امام نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِی نے اس باب میں دس اوصاف اختیار کرنے کی فضیلت بیان فرمائی ہے یہ وہ اوصاف ہیں کہ جن کا تعلق انسان کی اجتماعی اور انفرادی زندگی کے ساتھ ہے:(1) لوگوں کے ساتھ میل جول کرنا۔(2) جمعہ اور فرض نمازوں کی جماعت میں شریک ہونا۔(3) نیک کاموں اور مجلس ذکر میں حاضر ہونا۔(4) بیماروں کی عیادت کرنا۔ (5) جنازوں میں شریک ہونا۔(6) محتاجوں کی غم خواری کرنا۔ (7) جاہلوں کی راہنمائی کرنا۔ (8) نیکی کاحکم دینے اور بُرائی سے منع کرنے پر قدرت رکھنے والوں کے لیے مصلحتیں بیان کرنا۔ (9)اپنے آپ کو ایذا رسانی سے بچانا۔ (10) تکالیف پر صبر کرنا۔ یہ وہ خصلتیں ہیں جن کو اختیار کر کے انسان اپنی زندگی کو اجتماعی اور انفرادی طورپر بہتر بنا سکتا ہے۔ اِمَام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِی اِن اَوصاف کو ذِکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: جان لو! لوگوں سے میل جول رکھنے کا جو طریقہ میں نے بیان کیا ہے یہی پسندیدہ ہے اور رسولِ اَکرم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، تمام انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ، خلفاء راشدین رِضْوَانُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن اور اُن کے بعد آنے والے صحابہ کرام اور تابعین رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمْ اور اُن کے بعد والے علماء مسلمین اور نیک لوگ اسی طریقے پر کار بند تھے۔اکثرتابعین اور اُن کے بعد کے لوگوں کا یہی مذہب ہے۔ نیز امام شافعی، امام احمد اور اکثر فقہاء رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمْ اَجْمَعِیْن اسی کے قائل ہیں۔(1)اس باب میں امام نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِی نے صرف1آیتِ مبارکہ ذکر کی ہے اور اس آیت سے مذکورہ تمام اَوصاف پر استدلال کیا ہے۔

نیک کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو

اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪ ( پ ۶ ،المآئدۃ: ۲) ترجمۂ کنزالایمان:اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔ مذکورہ آیت مبارکہ میں بیان کیا گیا ہے کہ ہمیشہ بھلائی اور نیکی پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔ تعاون کا معنی ہے ایک دوسرے کی مدد کرنا۔ مدد عام ہے خواہ مال سے کی جائے، زبان سے کی جائے، اعضا سے کی جائے یا جانی مدد کی جائے، مسلمانوں کو جس قسم کی مدد درکار ہو قدرت ہوتے ہوئے اس طرح کی مدد کرنی چاہیے۔مذکورہ آیت میں بِرْ اور تقویٰ میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاوُن کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بِرْ سے مراد ہر نیکی ہے اور تقویٰ سے مراد ہر گناہ سے بچنا۔(2) یعنی اے مسلمانو! ہر نیک کام میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور ہر گناہ سے بچنے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو۔ اِمَام اَبُوزَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِی نے مذکورہ آیت مبارکہ سے باب میں مذکور دس اوصاف پر استدلال کیا ہے۔ ان اوصاف میں ایک وصف لوگوں سے اچھا میل ملاپ بھی ہے۔ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھی لوگوں سے میل جول رکھنے والے کی تعریف بیان فرمائی ہے۔ چنانچہ حدیث پاک میں ہے:”وہ مؤمن جو لوگوں سے میل جول رکھتاہےاوراُن کے تکلیف دینے پر صبر کرتا ہے،اُس مؤمن سے افضل ہے جو لوگوں سے میل جول نہیں رکھتا اوراُن کے تکلیف پہنچا نے پرصبر نہیں کرتا۔“(3)اور باب میں بیان کیے گئے اوصاف کا تعلق لوگوں سے اچھا میل ملاپ سے ہے۔ اسی لیے سب سے پہلے لوگوں سے اچھے تعلق رکھنے کو بیان کیا جائے گا اور پھر دیگر تمام اوصاف ترتیب وار بیان کیے جائیں گے۔

(1)لوگوں سے میل ملاپ رکھنا

مسلمانوں سے اچھے تعلقات رکھنے کا شریعت نے حکم دیا ہے۔ بہت سے دینی اور دنیاوی فوائد ایسے ہیں جن کا حصول لوگوں سے اختلاط کیے بغیر ممکن نہیں جیسے علمِ دِین سیکھنا اور سکھانا، ادب سیکھنا اور سکھانا، اُنسیت حاصل کرنا اور دوسروں کو اُنسیت پہنچانا، حقوق العباد ادا کرکے ثواب پانا اور لوگوں کے احوال کا مشاہدہ کرکے تجربات حاصل کرنا اور ان سے عبرت حاصل کرنا۔ یہ تمام فوائد ایسے ہیں کہ جو لوگوں کے ساتھ میل جول رکھ کر ہی حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

میل جول کےچند آداب:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! لوگوں سے اچھا میل جول رکھنا بلاشبہ ایک اچھا کام ہے لیکن اس کے بھی آداب ہیں جن پر عمل کرکے مسلمانوں کے ساتھ میل ملاپ کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ چنانچہ چندآداب پیش خدمت ہیں:لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنے والے کو چاہیے کہ * جب کسی اجتماع یا محفل میں جائے تو سلام کرے اور * جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جائے۔ * لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگے۔ * جب بیٹھے تو اپنے قریب والے کو خاص طور پر سلام کرے۔ * اگرعام لوگوں کی مجلس میں بیٹھے تو لوگوں کی جھوٹی خبروں افواہوں اور ان میں جاری بُری باتوں کی طرف توجہ نہ دے۔ * بغیر کسی سخت مجبوری کے عام لوگوں سے میل جول کم رکھے۔ * کسی کو حقیر نہ سمجھے کیونکہ ہو سکتاہے کہ وہ اِس سے بہترہو۔ * دنیادارہونے کی وجہ سے کسی کو تعظیمی نگاہوں سے نہ دیکھے کیونکہ دُنیااور جوکچھ اس میں ہے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک اس کی کچھ اہمیت نہیں۔ * لوگوں سے دُنیا حاصل کرنے کے لیے اپنے دِین کوداؤ پرنہ لگائے کیونکہ ایساکرنے سے لوگوں کی نظروں میں اس کی قدر ومنزلت ختم ہوجائے گی۔ * لوگوں سے دُشمنی نہ رکھے کہ اُن کے دِل میں بھی دُشمنی پیداہوجائے گی۔ * کسی سے عداوت رکھے تو محض اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی خاطر رکھے۔ * ان کے بُرے افعال سے نفرت کرے۔ * لوگوں کے پاس موجود چیز کوحاصل کرنے میں حرص ولالچ نہ کرے کہ اس طرح وہ اُن کے سامنے ذلیل ہو جائے گا اور اپنا دِین ضائع کربیٹھے گا اور * اُن پربڑائی نہ چاہے۔ * لوگوں کی حق بات سننے والا بن جائے اور غلط باتیں سننے سے بہرہ ہو جائے۔‘‘(4)بعض حکماء نے یہ آداب بھی بیان کیے ہیں: * اپنے دوست ودُشمن کو ذلیل ورُسوا کیے بغیرخندہ پیشانی سے اُن کے ساتھ ملاقات کرے۔ * ان پر بڑائی وبرتری کی تمنّا کیے بغیران کی تعظیم و توقیر کرے۔ * اپنے تمام اُمورمیں میانہ روی اختیارکرے۔ * غروروتکبرنہ کرے۔ * بکثرت اِدھر اُدھرتوجہ کرنے سے بچے۔ * اپنی انگلیوں کو چٹخانے * اپنی انگوٹھی کے ساتھ کھیلنے * دانتوں کاخلال یعنی صفائی کرنے * ناک میں انگلی ڈالنے * بار بار تھوکنے اور کھنکارنے * چہرے سے مکھیاں اُڑانے * کثرت سے انگڑائی اور * جماہی لینے سے بچے۔ * کثرت سے سرمہ لگانے اور بالوں میں تیل ڈالنے میں اِسراف کرنے سے بچے۔ * کسی سے اپنی حاجات پوری کرنے کیلئے اِصرار نہ کرے۔ * جب کسی سے تلخ کلامی ہو جائے تواپنے کلام میں وقار اختیار کرےاور جہالت سے بچے۔ * دوران گفتگو ہاتھوں سے زیادہ اشارے نہ کرے۔ * جب غصہ ختم ہو جائے تب کلام کرے۔ * نہ تو کسی عقلمندسے مذاق مسخری کرےکہ وہ حسدکرنے لگ جائےاور * نہ ہی کسی بے وقوف کا مذاق اڑائے کہ وہ اس پرہی جرأت کربیٹھے،کیونکہ ہنسی مذاق رُعب ودبدبے کو دُور کرتا، مقام ومرتبے کوگرادیتا،چہرے کی رونق اورآب وتاب ختم کرتا،غم کاسبب بنتا، محبت کی مٹھاس ختم کرتا،سمجھ دار کی عقل وفہم کوعیب دارکرتا، بیوقوف کو جری کرتا،عقل ودماغ کو فنا کرتا، اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے دور کرتا، مذمت وبرائی کاباعث بنتا، ضبط وتحمل ختم کرتا، نیتوں میں فتور ڈالتا، دِلوں کومُردہ کرتا، گناہوں کی کثرت کا سبب بنتااورخامیوں کوظاہر کرتاہے۔(5) * ایسے لوگوں کے ساتھ میل جول رکھے جونیک اَعمال میں رغبت کرنے والے ہوں، علمِ دِین اور ادب و آداب سے مزین و آراستہ ہوں۔ چنانچہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”اس شخص کیلئے خوشخبری ہے جو محتاج نہ ہونے کے باوجود عاجزی کرے، اپنا مال گناہوں میں خرچ نہ کرے، محتاج ومسکین پر رحم کرے اور فقہاء واہلِ عِلم سے میل جول رکھے۔“(6)

(2)جمعہ اور جماعت میں شریک ہونے کی فضیلت

جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے اور بہت شرف و فضیلت کا حامل ہے۔اس دن تمام مخلوقات وجود میں مجتمع ہوئی کہ تکمیلِ خلق اسی دن ہوئی، حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی مٹی اس دن ہی جمع ہوئی،نیز اس دن میں لوگ نمازِ جمعہ جمع ہوکر ادا کرتے ہیں اِن وُجُوہ سے اُسے جمعہ کہتے ہیں۔ نمازِ جمعہ فرض ہے، شِعارِ اسلام میں سے ہے،اس کی فرضیت کا منکر کافر ہے۔(7) اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَؕ-ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۹) ( پ ۲۸ ،الجمعۃ: ۹) ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو جب نماز کی اذان ہو جمعہ کے دن تو اللّٰہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خریدو فروخت چھوڑ دو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔ نمازِ جمعہ کے ليے پیشتر سے جانا اور مسواک کرنا اور اچھے اور سفید کپڑے پہننا اور تیل اور خوشبو لگانا اور پہلی صف میں بیٹھنا مستحب ہے اور غسل سنت۔(8) جمعہ کی فضیلت پردو فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ فرمائیے:(1)بے شک جمعہ کے دن اور رات میں چو بیس ساعتیں (گھنٹے)ہیں او ر ہر ساعت میں اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ چھ لاکھ افراد کو جہنم سے نجات عطا فرماتا ہے۔(9)(2)جس نے اچھی طرح وضو کیا پھر جمعہ کی نماز کے لیے آیا اور خطبہ توجہ سے سنا اور خاموش رہا تو اس کے اگلے جمعہ اور اس کے بعد تین دن تک (یعنی دس دن) کے گناہ معاف کردئیے جائیں گے۔(10)

باجماعت نماز اداکرنے کی فضیلت:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عاقل، بالغ، حُر (آزاد)، قادر شخص پر جماعت واجب ہے۔ جمعہ و عیدین میں جماعت شرط ہے۔(11) جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا تنہا نماز پڑھنے سے کئی گنا افضل ہے۔ چنانچہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جماعت کے ساتھ نماز تنہا پڑھنے سے ستائیس درجے افضل ہے۔(12) ایک اور حدیث پاک میں ہے کہ ”جس نے کامل وضو کیا، پھر فرض نماز کے ليے چلا اور امام کے ساتھ نمازپڑھی، اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔“(13) لہٰذا ہمیشہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کی سعادت حاصل کیجئے اور اپنے نامۂ اعمال کو نیکیوں سے مزین کیجئے۔ حدیث پاک میں جماعت سے نماز ادا کرنے کی اور بھی کئی فضیلتیں بیان کی گئی ہیں۔ چنانچہ حدیث پاک میں ہے کہ ” جس نے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے چالیس دِن تکبیر اولیٰ کے ساتھ باجماعت نماز ادا کی تو اُس کیلئے دو آزادیاں لکھ دی جائیں گی، ایک نار سے، دوسری نفاق سے۔“(14)

(3)مجالس ذِکراورنیک کاموں میں شرکت کی فضیلت

اللہ کےذِکرکی برکتیں:

مجالسِ ذِکر اور نیک کاموں میں شرکت کرنا اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذِکر سے دل روشن ہوتا ہے۔ دل پر انوار و تجلیات کا نزول ہوتا ہے۔ چہرہ بارونق ہو جاتا ہے اور اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنا ذکر کرنے والوں سے مغفرت اور اجرِ عظیم کا وعدہ فرمایا ہے۔ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذِکر ہی روح کی غذا ہے۔ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی یاد ہی دلوں کو آباد رکھنے کا ذریعہ ہے۔دلوں کا چین اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذِکر میں ہے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: ( اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ(۲۸) ( ( پ ۱۳ ،الرعد: ۲۸) ترجمۂ کنزالایمان: ’’سن لو اللّٰہ کی یاد ہی میں دِلوں کا چین ہے۔ ‘‘اسی لیے انسان کو چاہیے کہ کسی بھی وقت اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی یاد سے غافل نہ ہو، انفرادی اور اجتماعی طورپر اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کو یاد کرتا رہے۔ اجتماعی طورپر ذِکر اللّٰہ کرنے کا بھی اپنا ہی لطف ہے۔ جب اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندے مل کر رحمٰن و رحیم عَزَّ وَجَلَّ کو یاد کرتے ہیں تو فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے، ان کی خطائیں نیکیوں میں بدل جاتی ہیں اور وہ مغفرت کا پروانہ لے کر لوٹتے ہیں۔ احادیث کریمہ میں ذکرُ اللّٰہ کے حلقے قائم کرنے کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ذِکرکے حلقوں کی فضیلت پر تین فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم :(1)”جو قوم اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرنے کے لیے بیٹھتی ہے فرشتے انہیں گھیرلیتے ہیں اور رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور ان پر سکینہ نازل ہوتاہے اور اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے فرشتوں کے سامنے ان کاذکر فرماتاہے۔“(15)(2)” اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن ایک قوم کو اٹھائے گا جن کے چہروں پر نور ہوگا اور وہ موتیوں کے منبر وں پر ہوں گے، لوگ ان پر رشک کریں گے حالانکہ نہ تو وہ انبیاء ہونگے نہ ہی شہداء۔“ایک اَعرابی نے گھٹنوں کے بل کھڑے ہو کر عرض کیا: ” یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! ہمیں ان کا حلیہ بیان فرمائیے تاکہ ہم انہیں پہچان سکیں ۔ ارشاد فرمایا:”وہ مختلف قبائل اور مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے اور اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے آپس میں محبت کرنے والے ہوں گے جو ذِکرُ اللّٰہ کی محفل میں جمع ہوکر اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذِکرکریں گے۔“(16)(3) ”جو قوم صرف اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے ذکر کرنے کے لیے بیٹھے تو ان کے اُٹھنے سے پہلے آسمان سے ایک منادی انہیں ندا کرتاہے کہ مغفرت یافتہ ہوکر کھڑے ہوجاؤ کہ تمہارے گناہ نیکیوں میں بدل دیئے گئے ہیں۔“(17) میٹھےمیٹھےاسلامی بھائیو!یادرہے تلاوتِ قرآن، حمد و ثنا، مناجات و دعا، درود و سلام، نعت اور درس و بیان وغیرہ سب ذِکر اللّٰہ میں شامل ہیں۔ لہٰذا کتنے خوش نصیب ہیں وہ اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں جو اپنی زبان کو نیکی کی دعوت، سنتوں بھرے بیان اور ذکر و دُرُود میں لگائے رکھتے ہیں اور وہ اسلامی بھائی بھی بہت خوش قسمت ہیں کہ جو دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار اور دیگر سنتوں بھرے اجتماعات میں شریک ہوتے ہیں کیونکہ وہ بھی ذِکر اللّٰہ کے حلقوں میں شرکت کرنے والے شمار کیے جائیں گے اور رحمتِ اِلہی سے ان فضائل کے حقدار ٹھہریں گے کہ جو ذِکر کے حلقوں میں شرکت کرنے والوں کے لیے بیان کیے گئے ہیں۔

(4)عیادت کرنے کی فضیلت

مریض کی عیادت کرنا حضور عَلَیْہِ السَّلَام کی سنت ہے اور مسلمان کے حقوق میں شامل ہے کہ اس کی عیادت کی جائے۔ عیادت کرنے میں فاسق و متقی کی کوئی تخصیص نہیں، دونوں کی عیادت کی جائے گی۔(18) نیزمعمولی بیماری میں بھی بیمار پُرسی کرنا سنت ہے جیسے آنکھ یا کان یا ڈاڑھ کا درد کہ یہ اگرچہ خطرناک نہیں مگر بیماری تو ہیں۔(19)عیادت کے بہت فضائل بیان فرمائے گئےہیں۔2فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم :(1)”جس نے مریض کی عیادت کی اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اس پر پچھتر(75) ہزار ملائکہ کے ذریعے سایہ فرمائے گا اور گھر واپس آنے تک اس کے ہرقدم اٹھانے پر اس کے لیے ایک نیکی لکھی جائے گی اور اس کے ہر قدم رکھنے پر اس کا ایک گناہ مٹادیا جائے گا اورایک درجہ بلند کیا جائے گا، جب وہ مریض کے ساتھ بیٹھے گا تورحمت اسے ڈھانپ لے گی اور گھر واپس آنے تک رحمت اسے ڈھانپے رہے گی۔“(20)(2)”جو مسلمان کسی مسلمان کی عیادت کے ليے صبح کو جائے تو شام تک اس کے ليے ستّر ہزار فرشتے استغفار کرتے ہیں اور شام کو جائے تو صبح تک ستّر ہزار فرشتے استغفار کرتے ہیں اور اس کے ليے جنت میں ایک باغ ہوگا۔“(21)

عیادت کےآداب:

بیمار پُرسی کے وقت بیمار کے سرہانے بیٹھنا سنت ہے۔(22) جب عیادت کرے تو مریض کے سر پر ہاتھ رکھ کر اس کی مزاج پُرسی کرے۔حضرت ابوامامہ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہےکہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ”مریض کی پوری عیادت یہ ہے کہ اس کی پیشانی پر یا فرمایا: ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر پوچھے کہ مزاج کیسا ہے۔“(23) اگر معلوم ہے کہ عیادت کوجائے گا تو اس بیمار پر گراں گزرے گا ایسی حالت میں عیادت نہ کرے۔ عیادت کو جائے اور مرض کی سختی دیکھے تو مریض کے سامنے یہ ظاہر نہ کرے کہ تمہاری حالت خراب ہے اور نہ سر ہلائے جس سے حالت کا خراب ہونا سمجھا جاتا ہے، اُس کے سامنے ایسی باتیں کرنی چاہئیں جو اس کے دل کو بھلی معلوم ہوں۔(24)حدیث پاک میں ہے کہ ”جب مریض کے پاس جاؤ تو درازیٔ عمر کی بات کرکے اس کا غم دور کرو کیونکہ یہ گفتگو تقدیر کو رَد نہ کرے گی اور اُس کا دل خوش ہو جائے گا۔“(25) حضرت سَیِّدُنَا عبد اللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما فرماتے ہیں: ”بیمار پُرسی میں مریض کے پاس تھوڑی دیر بیٹھنا اور شور نہ کرنا سنت ہے۔“(26) مریض سے اپنے لیے دعا بھی کروا لیجئے کہ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں بیمار شخص کی دعا قبول ہوتی ہے۔حضورنبی کریم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان ہے:”مریض جب تک تندرست نہ ہوجائے اس کی کوئی دعا رد نہیں ہوتی۔“(27)ایک اور حدیث پاک میں ہے کہ ”جب تم کسی مریض کے پاس آؤ تو اس سے اپنے لیے دعا کی درخواست کرو کیونکہ اس کی دعا فرشتوں کی دعا کی مانند ہے۔“(28) اور جب کسی بیمار کی بیمار پُرسی کریں تو اس کی صحت یابی کے لیے بھی دعا کردیجئے۔ رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ”جس نے کسی ایسے مریض کی عیادت کی جس کی موت کا وقت قریب نہ آیا ہو اور عیادت کرنے والا اس مریض کے پاس سات مرتبہ یہ الفاظ کہے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ مریض کو اس مرض سے شفا عطا فرمائے گا:” اَسْئَلُ اللّٰہ الْعَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اَنْ یَشْفِیَک یعنی میں عظمت والے،عرش عظیم کے مالک اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ سے تیرے لیے شِفاء کا سوال کرتا ہوں۔‘‘(29)

(5)جنازے میں شریک ہونےکی فضیلت

نمازِ جنازہ فرض کفایہ ہے کہ ایک نے بھی پڑھ لی تو سب بریُ الذِّمَّہ ہوگئے، ورنہ جس جس کو خبر پہنچی تھی اور نہ پڑھی گنہگار ہوا۔(30) جنازہ کو کندھا دینا عبادت ہے، ہرشخص کو چاہيے کہ عبادت میں کوتاہی نہ کرے،حضور صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سعدبن معاذ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ کا جنازہ اٹھایا۔(31) حدیث پاک میں جنازے میں شریک ہونے کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ چنانچہ حضورنبی کریم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ”جو نماز ادا کرنے تک جنازے میں شریک رہا اس کے لیے ایک قیراط ثواب ہے اور جو تدفین تک شریک رہا اس کے لیے دوقیراط ثواب ہے۔“عرض کیا گیا:دوقیراط کیا ہیں؟ فرمایا: ”دوعظیم پہاڑوں کی مثل۔“(32) ایک اور حدیث پاک میں ہے کہ ”بندے کو اپنی موت کے بعد سب سے پہلے جو جزا دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کے جنازے میں شریک تمام افراد کی مغفرت کردی جاتی ہے۔“(33)جب بھی جنازے میں شریک ہوں تو ہنسی مذاق کرنے اور دنیاوی باتوں میں مشغول ہونے سے گریز کریں اور اپنی موت، قبر و حشر کے معاملات اور اُخروی مصائب کے بارے میں غور و فکر کریں اور جنازے کے ساتھ چلتے ہوئے کلمہ طیّبہ کا ورد کریں اور جنازے کو دیکھ کر سُبْحَانَ الْحَیِّ الَّذِیْ لَایَمُوْتُ پڑھیں۔ منقول ہے کہ حضرت امام مالک رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ کی وفات کے بعد لوگوں نے ان کو خواب میں دیکھا اور پوچھا : اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا کہ میرا تو ایک ہی کلمہ اللّٰہ تعالیٰ کو پسند آگیا اور اسی پر میری مغفرت ہوگئی اور وہ کلمہ وہی ہے جو حضرت سَیِّدُنَا عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ ہر جنازہ دیکھ کر پڑھا کرتے تھے: سُبْحَانَ الْحَیِّ الَّذِیْ لَایَمُوْتُ (پاک ہے وہ ذات جو ہمیشہ سے ہے اور اس کے لیے کبھی موت نہیں ہے)۔ (34)

(6)محتاجوں کی غم خواری کرنے کی فضیلت

تین فرامینِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم :(1)”جو کسی غمزدہ شخص سے تعزیت (یعنی غم خواری) کرے گا اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اُسے تقویٰ کا لباس پہنائے گا اور روحو ں کے درمیان اس کی روح پر رحمت فرمائے گا اور جو کسی مصیبت زدہ سے تعزیت کریگا اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اُسے جنت کے جوڑوں میں سے دوایسے جوڑے پہنائے گا جن کی قیمت (ساری) دنیا بھی نہیں ہوسکتی۔“(35) (2)”جس نے کسی مصیبت زدہ کی تعزیت کی تو اسے مصیبت زدہ کے برابر اجر ملے گا۔“(36)(3)”جو بندۂ مؤمن اپنے کسی مصیبت زدہ بھائی کی تعزیت کر ے گا اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن اُسے کرامت کا جوڑا پہنائے گا۔“(37) * محتاج اور غمزدہ مسلمانوں کی غم خواری کرنے کے کئی دِینی و دُنیاوی فوائد ہیں۔مثلاً:جس شخص سے تعزیت و غم خواری کی جائے اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے اور اسے فائدہ پہنچتا ہے اورکسی کو نفع پہنچانا بہترین وصف ہے۔ حدیث پاک میں ہے:” خَیْرُ النَّاسِ اَنْفَعُھُمْ لِلنَّاسِ یعنی بہترین شخص وہ ہے جو لوگوں کو سب سے بڑھ کر فائدہ پہنچائے۔“(38) غمخواری کرنے سے اُس کے دل میں الفت پیدا ہوگی اور آپ اس کے اہل محبت افراد کی فہرست میں شامل ہو جائیں گے کیونکہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ انسان خوشیوں میں شریک ہونے والے کو تو بھول سکتا ہے لیکن غم میں شریک ہونے والے کو فراموش نہیں کرسکتا۔ نیز ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ جب کبھی غمخواری کرنے والا مصیبت و پریشانی سے دوچار ہوگا تو جس سے غمخواری کی ہوگی وہ بھی اس کے غم میں شریک ہو گا،رضائے الٰہی واجروثواب کےاُخروی فوائد اِس سے جدا ہیں۔

(7)جاہلوں کی رہنمائی کرنے کی فضیلت

علم سکھانے کی فضیلت پر تین فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم :(1)”بیشک اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ، اس کے فرشتے اور زمین وآسمان والے لوگوں کو بھلائی سکھانے والے پر درود بھیجتے ہیں یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنے بِلوں میں اور مچھلیاں سمندر میں اس کیلئے دعا کرتی ہیں۔“(39) (2)”جو کوئی اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرائض سے متعلق ایک یا دو یا تین یا چار یا پانچ کلمات سیکھے اور اسے اچھی طرح یا د کرلے اور پھر لوگوں کو سکھائے تووہ جنت میں ضرور داخل ہوگا۔“(40)(3)”جس نے علم کا ایک باب اس لیے سیکھا کہ لوگوں کو سکھائے گا تو اسے ستّر(70) صدیقین کا ثواب دیا جائے گا۔“(41)

(8)امربالمعروف ونہی عن المنکر کرنے والے کے لیے حکمتیں

نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا دِین کا مرکزی ستون ہے، نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا اس اُمَّت کی فضیلت میں بیان فرمایا گیا ہے، لیکن نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے والے کیلئے بھی چند آداب اور حکمتیں ہیں جنہیں ملحوظ خاطر رکھا جائے تو کما حقہ اس کے فوائد حاصل ہوں گے۔چند آداب یہ ہیں: (1)مبلغ باعمل ہو کیونکہ باعمل کی بات جلداثرکرتی ہے۔(2) علمائے اہلسنت کی کتابوں کامطالعہ کرتے رہیں۔(3) جب کسی کو نیکی کی دعوت دیں تو محبت سے پیش آئیں اورگناہ کرتے دیکھیں تو نہایت ہی نرمی کے ساتھ اسے منع کریں اور محبت کے ساتھ سمجھائیں۔(4)بے جاجذباتی نہ بنیں، نہ جھڑک کر سمجھائیں اس سے اُلٹا ضد پیدا ہو جانے کااندیشہ ہے اور اس طرح لوگ آپ سے نفرت کرنے لگیں گے۔ (5)اگر کوئی غلطی کردے تو اسے سب کے سامنے ہرگزنہ ٹوکیں۔اس سے آپ کی بات بے ا ثرہوجائے گی اوراس کی دل آزاری ہوجانے کابھی قوی امکان ہے لہٰذاموقع پاکر اُسے اکیلے میں محبت کے ساتھ سمجھائیں گے توقوی امیدہے کہ وہ اپنی غلطی کی اصلاح کرلے گا۔(6) کوئی گناہ کررہا ہے اور ہمارا گمان غالب ہے کہ اگر ہم سمجھائیں گے تو برائی سے باز آجائے گا تو ایسی صورت میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر واجب ہے اگر نہ کیا تو گناہگار ہوں گے۔(7) مبلغ کا با اخلاق اور ملنسار اور باکردار ہونا بے حدضروری ہے۔(8) مبلغ صابر اور بُردبار بھی ہو، ہوسکتا ہے جس کو سمجھا یا جارہا ہے وہ بپھر جائے یا گالی وغیرہ بک دے، مبلغ کے لیے یہ موقع امتحان کا ہوتا ہے اگر دامنِ صبر ہاتھ سے جاتا رہا اور آپ نے بھی خدانخواستہ غصہ کا مظاہر ہ کیا تو آپ بازی ہار گئے۔(9)مبلغ کے مزاج میں بے جا غصہ ہو ہی نہ، نرمی ہی نرمی ہونی چاہیے۔(10)نیکی کی دعوت دینے کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات، تکالیف اور آزمائشوں کا خندہ پیشانی سے استقبال کریں اور اِحیائے سنت کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے اپنے آپ کو تیار رکھیں۔(11)مبلغین کو چاہیے کہ وہ بحث ومباحثہ اور جدل ومناظرہ میں نہ پڑیں بلکہ ایسے موقع پر علمائے حقہ کی طرف رجوع کریں کہ یہ انہیں حضرات کا شعبہ ہے۔ البتہ ! اپنے عقائد و اعمال میں پختہ ضرور رہیں۔ والدین یا بڑے بہن بھائی اگر خطا کے مرتکب ہوں تو ہرگز ان پر شدت نہ کریں بلکہ نہایت عاجزی اور نرمی کے ساتھ اصلاح کی درخواست کریں، ان سے الجھا نہ کریں۔(42)

(9)اپنےآپ کوایذاء رسانی سے بچانےکابیان

اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتاہے: ( وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ ﳝ- (( پ ۲ ،البقرۃ: ۱۹۵) ترجمۂ کنزالایمان:’’اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔‘‘دوسرےمقام پر ارشاد فرماتا ہے: ( وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ ( ( پ ۵ ،النساء: ۲۹) ترجمۂ کنزالایمان:’’اور اپنی جانیں قتل نہ کرو۔‘‘مُفَسِّرشہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان نے اس آیت کے کئی معانی بیان فرمائے ہیں: (1)مسلمانو! آپس میں ایک دوسرے کو قتل نہ کرو کیونکہ تمام مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں تو ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کو قتل کرنا گویا خود کو قتل کرنا ہے۔ (2) خود کشی کرکے اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو۔ (3)حرام مال لے کر اور گناہ کرکے عذاب کے مستحق نہ بنو اور خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ (4) جان کا خطرہ ہوتے ہوئے مال کی ہوس میں تجارت کے لیے دشمن کے ملک میں نہ جاؤ۔ (5) ایسے غیرضروری کام نہ کرو جس میں ہلاکت غالب ہو۔ (6)ایسے کام نہ کرو جس سے قتل کیے جاؤ جیسے زنا، ڈکیتی اور کسی کو مار ڈالنا۔ (7)تجارت میں دھوکہ بازی کرکے اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو کہ اس سے تمہارا اعتبار اٹھ جائے گا اور تمہاری تجارت تباہ ہو جائے گی۔تجارت کی تباہی قوم کی ہلاکت ہے۔(43)ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: ’’شیر کے منہ میں جانا، سانپ سے اپنے کو کٹوانا، زہر پینا غرضکہ کسی بھی طرح خود کو ہلاکت میں ڈالنا ممنوع ہے۔خطرہ کی جگہ بلااحتیاط، بلا ضرورت جانا جیسے بے ہتھیار میدانِ جنگ میں جانا منع ہے کہ یہ بھی اپنے کو ہلاک کرنا ہے۔ بھوک ہڑتال کرنا حرام ہے کہ اس میں اپنی ہلاکت کا سامان خود مہیا کرنا ہے۔ نیز جہاں طاعون ہو وہاں نہ جاؤ کیونکہ اس میں بھی اپنے کو ہلاکت میں ڈالنا ہے مگر جہاں تم ہو اور طاعون آجائے وہاں سے نہ بھاگو۔‘‘(44)

(10)تکالیف پر صبر کرنے کی فضیلت

تین فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم :(1)نبی کریم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ” اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے کسی بندے کو صبر سے بہتر اور وسعت والی کوئی بھلائی عطا نہیں فرمائی۔“(45) (2)نبی کریم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ”قیامت کے دن جب مصیبت زدہ لوگوں کو ثواب دیا جائے گا تودنیا میں عافیت کے ساتھ رہنے والے تمنا کریں گے کہ کاش! ان کے جسموں کوقینچیوں سے کاٹ دیا جاتا۔“(46) (3)”مسلمان کو جو مصیبت پہنچتی ہے حتی کہ کانٹا بھی چبھے تو اس کی وجہ سے یاتو اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اس کا کوئی ایساگناہ مٹادیتا ہے جس کا مٹانا اسی مصیبت پر موقوف تھا یا اسے کوئی بزرگی عطا فرماتا ہے کہ بندہ اس مصیبت کے علاوہ کسی اور ذریعے سے اس تک نہ پہنچ پاتا۔“(47) یاد رکھیے مذکورہ احادیث میں مصیبت سے مراد وہ مصیبت ہے جس پر صبر کیا جائے۔ محض مصیبت کے آنے سے یہ فضیلتیں حاصل نہ ہوں گی بلکہ ان پر صبر کرنا بھی ضروری ہے۔ نوٹ: صبر کے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے ”فیضان ریاض الصالحین جلداول“ کے باب نمبر3 کا مطالعہ کیجئے۔ صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
1...ریاض الصالحین،باب فضل الاختلاط بالناس۔۔۔الخ، ص۱۸۶۔ 2...تفسیرنعیمی،پ۶،المائدۃ،تحت الآیۃ:۲،۶/۱۷۴ملخصا۔ 3...ابن ماجہ،کتاب الفتن،باب الصبر علی البلاء ،۴/۳۷۵،حدیث:۴۹۳۲۔ 4...رسائل امام غزالی،الادب فی الدین،آداب المعاشرۃ،ص۴۱۴ملخصا۔ 5...رسائل امام غزالی،الادب فی الدین،آداب جامعۃ،ص۴۱۶ملخصا،احیاء العلوم، کتاب آداب الالفۃ۔۔۔الخ، الباب الثانی۔۔۔الخ، ۲/۲۳۹۔ 6...معجم کبیر، رکب المصری،۵/۷۱،حدیث:۴۶۱۶ملتقطا۔ 7...مرآ ۃ المناجیح،۲/۳۱۷،ملتقطا۔ 8...بہار شریعت،۱/۷۷۴،حصہ۴۔ 9...الترغیب والترھیب،کتاب الجمعۃ،الترغیب فی صلاۃ الجمعۃ و السعی الیھا۔۔۔الخ،۱/۳۳۷،حدیث:۱۹۵۹۔ 10...مسلم،کتاب الجمعۃ،باب فضل من استمع وانصت فی الخطبۃ،ص۳۳۲،حدیث:۱۹۸۸۔ 11...بہار شریعت ،۱/۵۸۲،حصہ ۳ ملتقطا۔ 12...بخاری،کتاب الاذان،باب فضل صلاۃ الجماعۃ،۱/۲۳۲،حدیث:۶۴۵۔ 13...ابن خزيمۃ،کتاب الصلاۃ،باب فضل المشي إلی الجماعۃ متوضيا۔۔۔ الخ،۲/۳۷۳،حدیث:۱۴۸۹۔ 14...ترمذی،ابواب الصلاۃ،باب ماجاء في فضل التکبيرۃ الاولی،۱/۲۷۴،حدیث:۲۴۱۔ 15...مسلم، کتاب الذکر والدعا ء والتوبۃ والاستغفار ،باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن وعلی الذکر،ص۱۱۱۱،حدیث:۶۸۵۵۔ 16...مجمع الزوائد، کتاب الاذکار ، باب ماجاء فی مجالس الذکر،۱۹/۷۷،حدیث:۱۶۷۷۹۔ 17...مسند ابی یعلی، مسند انس بن مالک ،۳/۴۹۸،حدیث:۴۱۲۷۔ 18...مرآ ۃ المناجیح،۲/۴۰۳ملخصا۔ 19...مرآۃ المناجیح،۲/۴۱۵۔ 20...الترغیب والتر ھیب،کتاب الجنائز،التر غیب فی عیادۃ المرضی۔۔۔الخ،۴/۱۶۳،حدیث:۵۳۳۸ملتقطا۔ 21...ترمذی،کتاب الجنائز، باب ماجاء فی عيادۃ المريض ،۲/۲۹۹،حدیث:۹۷۱۔ 22...مرآۃ المناجیح،۲/۴۲۶۔ 23...ترمذی، کتاب الاستئذان والآداب۔۔۔الخ،باب ما جاء فی المصافحۃ ،۴/۳۳۴،حدیث:۲۷۴۹۔ 24...بہار شریعت،۳/۵۰۵،حصہ ۱۶۔ 25...ترمذی،کتاب الطب، باب۳۵،۴/۲۵،حدیث:۲۹۹۴۔ 26...مشکاۃالمصابیح،کتاب الجنائز،باب عیادۃالمریض۔۔۔الخ ،۱/۳۹۳،حدیث:۱۵۸۹۔ 27...التر غیب والتر ھیب،کتاب الجنائز،التر غیب فی عیادۃ المرضی۔۔۔الخ،۴/۱۶۵،حدیث:۵۳۴۴۔ 28...ابن ماجہ،کتاب الجنائز،باب ماجاء فی عیادۃ المریض،۲/۱۹۱،حدیث:۱۴۴۱۔ 29...ابوداود،کتاب الجنائز،باب الدعاء للمريض عند العیادۃ،۳/۲۵۱،حدیث:۳۱۹۶۔ 30...بہار شریعت،۱/۸۲۵،حصہ۴۔ 31...بہار شریعت،۱/۸۲۲،حصہ ۴۔ 32...بخاری،کتاب الجنائز،باب من انتظرحتی تدفن،۱/۴۴۶،حدیث:۱۳۲۵۔ 33...مسندبزار،طاؤس عن ابن عباس،۱۱/۸۶،حدیث:۴۷۹۶۔ 34...احیاء العلوم،کتاب ذکر الموت وما بعدہ،الباب الثامن،بیان منامات المشائخ ،۵/۲۶۶۔ 35...معجم اوسط،من اسمہ ھاشم،۶/۴۲۹،حدیث:۹۲۹۲۔ 36...ترمذی،کتاب الجنائز،باب ماجاء فی اجر من عزی مصابا،۲/۳۳۸،حدیث:۱۹۷۵۔ 37...ابن ماجہ،کتاب الجنائز،باب ماجاء فی ثواب من عزی مصابا ،۲/۲۶۸،حدیث:۱۶۹۱۔ 38...معجم اوسط،من اسمہ محمد،۴/۲۲۲،حدیث:۵۷۸۷۔ 39...ترمذی،کتاب العلم،باب فضل الفقہ علی العبادۃ ،۴/۳۱۳،حدیث:۲۶۹۴۔ 40...الترغیب والترھیب،کتاب العلم،الترغیب فی العلم۔۔۔ الخ،۱/۶۹،حدیث:۱۲۹۔ 41...الترغیب والترھیب،کتاب العلم،الترغیب فی العلم۔۔۔ الخ،۱/۶۸،حدیث:۱۱۹۔ 42...حکایتیں اور نصیحتیں، پیش لفظ، ص۶ تا ۸ملخصا۔ 43...تفسیر نعیمی،پ۵،النساء،تحت الآیۃ:۲۹،۵/۳۵ملخصا۔ 44...تفسیر نعیمی، پ۲،البقرہ، تحت الآیۃ:۱۹۵،۲/۲۶۰ملتقطا۔ 45...بخاری،کتاب الزکاۃ،با ب الاستعفاف عن المسالۃ،۱/۴۹۶،حدیث:۱۴۶۹۔ 46...ترمذی، کتاب الزھد،باب ۵۹،۴/۱۸۹، حدیث:۲۴۱۹۔ 47...موسوعۃ ابن ابی الدنیا،کتاب المرض والکفارات،۴/۲۹۳،حدیث:۲۴۲۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن