30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1) انصا رصحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکوحضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے والہانہ عشق تھا ۔
(2) حضور نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی اَنصار سے بہت محبت فرمایا کرتے تھے ۔
(3) دِین اِسلام کی خدمت اور اُس کی اِشاعت میں اَنصا ر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا بہت بڑ ا حصہ ہے ۔
(4) اَنصا ر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے محبت اِیمان کی علامت اور اُن سے بغض منافقت کی علامت ہے ۔
(5) صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانایک دوسرے سے محبت فرماتے ، مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے اور اپنے پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حکم پر دل وجان سے لَبَّیْککہتے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا ادب واحترام نصیب فرمائے ، ان کی محبت نصیب فرمائے ، ان کی شان بیان کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ان کے صدقے ہماری مغفرت فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 381 نور کے منبر
عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ : قَالَ اللهُ عَزَّوَجَلَّ : الْمُتَحَابُّونَ في جَلَالِي لَهُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ. ( [1] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنامعاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہمروی ہے کہ میں نے حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا : ” اللہ عَزَّ وَجَلَّ ( بروز قیامت ) ارشاد فرمائے گا : آج میرے جلال کی وجہ سے آپس میں محبت رکھنے والوں کے لیے نور کے منبر ہوں گے ، انبیاءاورشہداء اُن پر رشک کریں گے ۔ ‘‘
اس حدیث پاک میں بھی رضائے الٰہی کے لئے آپس میں محبت کی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ ایسے خوش نصیب بروزِ قیامت نور کے منبروں پر ہوں گے اور انبیاء و شہدا ءانہیں دیکھ کر رشک کریں گے ۔
انبیائے کرا م کے رشک کے معانی :
حدیثِ مذکورمیں ” یَغْبِطُھُمُ النَّبِیُّونَ“ کے الفاظ آئے ہیں یعنی انبیاء کرام ان پر غِبْطَہ کریں گے ۔ مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان لفظِ ” غِبْطَۃ“کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’یا تو یہاں غِبْطَہسے مراد ہے خوش ہونا ۔ تب تو حدیث واضح ہے کہ حضرات انبیاء کرام ( عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ) اُن لوگوں کو اس مقام پر دیکھ کر بہت خوش ہوں گے اور ان لوگوں کی تعریف کریں گے اوراگر غِبْطَہ بمعنیٰ رشک ہی ہو تو مطلب یہ ہے کہ اگرحضرات انبیاء و شہداء کسی پررشک کرتے تو ان پر کرتے تو یہ فرضی صورت کا ذکر ہے یا رشک اپنی اُمت کی بنا پر ہوگا کہ اُمت محمدیہ میں یہ لوگ ایسے درجے میں ہیں کہ ہماری امت میں نہیں یا یہ مقصد ہے کہ وہ حضرات اپنی امت کا حساب کرا رہے ہوں گے اوریہ لوگ آرام سے ان منبروں پر بے فکری سے آرام کررہے ہوں گے تو حضرات انبیاء کرام ( عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ) ان لوگوں کی بے فکری پر رشک کریں گے کہ ہم مشغول ہیں یہ فارغ البال ۔ بہرحال اس حدیث سے یہ لازم نہیں کہ یہ حضرات انبیاء کرام ( عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ) سے افضل ہوں گے ۔ ‘‘ ( [2] )
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِینقل فرماتے ہیں کہ ” جب کوئی بندہ علم وعمل کے حوالے سے کسی خوبی سے متصف ہوتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں اس کا اس خوبی کی وجہ سے ایک ایسا درجہ اور مقام ومرتبہ ہوتا ہے جس میں کوئی دوسراشخص شریک نہیں ہوتا جو اس خوبی سے متصف نہ ہو ، اگرچہ وہ اس سے بھی کسی ارفع واعلیٰ خوبی سے متصف ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس بندے میں پائی جانے والی خوبی پر رشک کرتا ہے ، اس کی تمنا کرتا ہے اور اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کے دیگر بلند مراتب اور مقامات کے ساتھ ساتھ یہ مرتبہ بھی اسے مل جاتا ۔ حدیث پاک میں جو فرمایا گیا کہ انبیاء اور شہداء بھی رضائے الٰہی کی خاطر محبت کرنے والوں کے مقام ومرتبے پر رشک کریں گے اس کا یہی معنیٰ ہے کہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تو بذات خود بہت بلند مقامات اور درجات پر فائز ہوں گے کہ انہوں نے خلق خدا کو وحدانیت ورسالت کی دعوت دی ، حق کا اظہار کیا ، دین کو سربلند کیا ، ہرخاص وعام کی ہدایت ورہنمائی فرمائی ۔ الغرض انہیں وہ تمام کمالات اور فضائل حاصل ہیں جو ان جزئیات کا کل ہیں ۔ اسی طرح شہداء بذات خود مرتبہ شہادت پر فائز ہوں گے اور بڑی کامیابی کے ساتھ کامیاب ہوئے ہوں گے ، بلکہ جیسا ان کا معاملہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ ہے ویسا کسی کا بھی نہیں ہوگا ، لیکن جب یہ لوگ رضائے الٰہی کی خاطر آپس میں محبت کرنے والوں کا مقام ومرتبہ دیکھیں گے ، رب تعالیٰ کی بارگاہ میں اُن کے قرب اورعزت وعظمت کا مشاہدہ کریں گے تووہ اِس بات کو پسند کریں گے کہ وہ اپنے موجودہ فضائل کے ساتھ ساتھ اِس فضیلت کو بھی حاصل کرتے تاکہ وہ دو فضیلتوں ، دودَرجوں ، دومرتبوں اور دو کامیابیوں کے جامع ہوتے ۔ “ ( [3] )
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع