30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خالق ومالک عَزَّ وَجَلَّ محبت فرماتا ہے ۔ جس بندے سے رب تعالی خود محبت فرماتا ہے یقیناً ایسا شخص دنیا آخرت میں کامیاب وکامران ہوگیا ، دنیا وآخرت کی تمام بھلائیاں اس کا مقدر بن گئیں ۔ لہذا ہمیں بھی چاہیے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کامحبوب بننے کے لیے ربّ تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اطاعت کریں ، گناہوں بھری زندگی سے توبہ کریں اور آئندہ کی زندگی کو نیکیوں میں بسر کرنے کی کوشش کریں ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
مدنی گلدستہ
’’ریاض الصالحین ‘‘ کے 12حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 12مدنی پھول
(1) جو شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے اپنے مسلمان بھائی سے محبت کرتا ہے اس کی احادیث مبارکہ میں بہت فضیلت بیان فرمائی گئی ہے ۔
(2) اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے نیک بندوں میں سے جسے چاہتا ہے بسااوقات اسے اپنی نورانی مخلوق یعنی فرشتوں سے ملاقات کروا دیتا ہے ۔
(3) جو شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے اپنے مسلمان بھائی کی زیارت یا اُس سے ملاقات کے لیے جاتا ہے تواُس کا یہ سفر بہت ہی بابرکت اور مبارک ہوتا ہے ۔
(4) رضائے الٰہی کے لیے اپنے مسلمان بھائی کے پاس جانے والے کا ٹھکانہ جنت ہے ، ایسا شخص واپس آنے تک جنت کے باغات میں ہوتا ہے ۔
(5) اپنے دینی بھائی سے ملاقات کے بعد جب کوئی شخص رخصت ہوتا ہے تو ایسے شخص کے لیے سترہزار 70000فرشتے اِستغفار کرتے ہیں اور اِس کے لیے قُربِ اِلٰہی کی دعا کرتے ہیں ۔
(6) بہت خوش نصیب ہے وہ شخص جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے اپنے بھائی سے محبت کرتا ہے ۔
(7) رضائے الٰہی کے لیے اپنے بھائی سے محبت کرنے والے سے کہا جاتا ہے : ” تونے اچھا کیااور تیرے لیے پاکیزہ جنت ہے ۔ “
(8) رضائے الٰہی کے لیے محبت کرنے والے شخص کی میزبانی رب تعالیٰ فرماتا ہے اور ا س کے لیے جنت کے علاوہ کسی ثواب پر راضی نہیں ہوتا ۔
(9) ہروہ محبت کہ اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور روز ِآخرت پر ایمان نہ ہوتا تو اُس کا تصور بھی نہ ہوتا تو یہ محبت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لیے محبت ہے ۔ یہی معاملہ محبت میں زیادتی کا بھی ہے ۔
(10) اپنے مسلمان بھائی سے محبت کرنے کے بہت سے درجے ہیں ، بغیر کسی دُنیوی غرض کے فقط اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لیے محبت کرنا اعلیٰ اور بلند ترین درجے کی محبت ہے ۔
(11) رب تعالیٰ کی محبت جیسا عظیم الشان انعام حاصل کرنے کے لیے ہمیں بھی چاہیے کہ گناہوں بھری زندگی سے توبہ کریں اور آئندہ نیکیوں بھری زندگی گزارنے کی کوشش کریں ۔
(12) جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو اُس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے ، اسے بھلائی عطا فرماتا ہے ، اس پر لطف وعنایت کرتا اور رحمت ورضا وخیر عطا فرماتا ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی رضا کے لیے اپنے مسلمان بھائیوں سے ملاقات کرنے اور ان سے محبت کرنے توفیق عطا فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 380 انصار صحابہ کرام سے محبت کی فضیلت
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبيّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّهُ قَالَ فِی الْاَنْصَارِ : لَا يُحِبُّهُمْ اِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُهُمْ اِلاَّ مُنَافِقٌ مَنْ اَحَبَّهُمْ اَحَبَّهُ اللهُ وَمَنْ اَبْغَضَهُمْ اَبْغَضَهُ اللهُ . ( [1] )
ترجمہ : حضرت سیدنا براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہماسے مَروی ہے کہ حسن اَخلاق کے پیکر ، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انصارکے بارے میں ارشادفرمایا : ’’ان سے مؤمن ہی محبت رکھے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا اور جو اِن سے محبت کرے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے محبت فرماتا ہے اور جو ان سے بغض رکھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے ناپسند فرماتاہے ۔ ‘‘
( 1 ) مذکورہ حدیث پاک میں انصار صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے محبت کرنے کا بیان ہے اور یہ باب بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے محبت کرنے کا ہے ، اس لیے علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے یہ حدیث پاک اس باب میں بیان فرمائی ہے ۔ ( 2 ) مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ انصار سے فقط مؤمن ہی محبت کرے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا اور مؤمنین کی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے محبت اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کے لیے ہے اور یہ باب بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے محبت کرنے کا ہے ، اس لیے علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے یہ حدیث پاک اس باب میں بیان فرمائی ہے ۔ ( 3 ) صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان وہ کامل مؤمنین ہیں جن کی بدولت آج ہم سب مؤمن ہیں ، ہم حقیقی مؤمن اس وقت تک نہیں ہوسکتے جب تک صحابہ کرام عَلَیْہِمُ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع