30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کے پاس جارہاہوں ۔ ‘‘ اس نے کہا : ’’کیا تجھ پر اس کا کوئی احسان ہے جس کابدلہ د ینے جارہے ہو ۔ ‘‘ اس نے کہا : ’’نہیں ، بلکہ میں اس سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لئے محبت کرتا ہوں ۔ ‘‘ فرشتے نے کہا : ’’بے شک ! میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے تیرے لیے یہ پیغام لایا ہوں کہ جس طرح تو اس سے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے محبت کرتا ہے ایسے ہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ بھی تجھ سے محبت فرماتاہے ۔ ‘‘
مسلمان بھائی سے ملاقات کے لیے جانا :
مذکورہ حدیث پاک میں ایسے مسلمان بندے کا ذکر خیر ہے جو اپنے بھائی سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے ملاقات کو جاتا ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اپنے کسی مسلمان بھائی سے ملاقات کے لیے جانا بھی ایک بابرکت اور مبارک عمل ہے ۔ اپنے مسلمان بھائی کی رضائے الہی کی خاطر زیارت یا ملاقات کو جانے والے کے بہت فضائل بیان فرمائے گئے ہیں ۔ چنانچہ تین فرامین مُصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پیش خدمت ہیں : ( 1 ) ’’جو اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے اپنے کسی اِسلامی بھائی سے ملنے جاتاہے تو ایک منادی اسے مخاطب کرکے کہتا ہے کہ : خوش ہو جا کیونکہ تیرا یہ چلنا مبارک ہے اور تو نے جنت میں اپنا ٹھکانہ بنالیا ہے ۔ ‘‘ ( [1] ) ( 2 ) ’’نبی جنت میں جائے گا ، صدیق جنت میں جائے گا اور وہ شخص بھی جنت میں جائے گا جومحض اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لئے اپنے کسی بھائی سے ملنے شہر کے مضافات میں جائے ۔ ‘‘ ( [2] ) ( 3 ) ’’جوشخص اپنے مؤمن بھائی سے ملتاہے وہ واپس لوٹنے تک جنت کے باغات میں رہتا ہے اور جو اپنے مؤمن بھائی کی عیادت کرتا ہے وہ واپس لوٹنے تک جنت کے باغات میں رہتا ہے ۔ ‘‘ ( [3] )
مسلمان بھائی سے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے محبت :
مذکورہ حدیث پاک میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے کسی مسلمان بھائی سے محبت کرنے والے شخص کی فضیلت بیان فرمائی گئی ہے ۔ واقعی بہت خوش نصیب ہے وہ شخص جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے اپنے مسلمان بھائی سے محبت کرتا ہے ، کسی بھی عمل کے قبول ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے کیا جائے ، جو عمل رضائے الٰہی کے لیے نہ ہو وہ عمل مردود ہوجاتا ہے ۔ رضائے الٰہی کے لیے اپنے مسلمان بھائی سے محبت کرنے والے سے تو جنت بھی خوش ہوتی ہے ۔ چنانچہ حضرتِ سیدنا اَنس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی پاک ، صاحبِ لَولاک ، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’جب کوئی اپنے کسی بھائی سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے محبت کرتاہے تو آسمان سے ایک منادی ندا کرتاہے کہ تونے اچھا کیااور تیرے لیے پاکیزہ جنت ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے عرش کے ملائکہ سے فرماتاہے : ” میرا بندہ میرے لئے لوگوں سے ملتا ہے ، اس کی میزبانی کرنامیرے ذمہ ہے ۔ “ پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے لئے جنت کے علاوہ کسی ثواب پر راضی نہیں ہوتا ۔ ‘‘ ( [4] )
کونسی محبت اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے ہے ؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے کسی بھی مسلمان سے محبت کرنے کی فضیلت تو معلوم ہوگئی لیکن کون سی محبت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے ہے اور کون سی محبت رب تعالیٰ کی رضا کے لیے نہیں ہے ؟ اس کا جاننا بے حد ضروری ورنہ رضائے الٰہی کے لیے محبت کرنا کیونکر ممکن ہے ؟ حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سَیِّدُنا امام ابو حامد محمد بن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِینے اس کو بالتفصیل بیان فرمایا ہے ۔ چنانچہ دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1393صفحات پر مشتمل کتاب ’’احیاء العلوم ‘‘ جلددوم ، ص۵۸۲ تا۶۰۰کا خلاصہ پیش خدمت ہے جس میں محبت کی چار اقسام اور رضائے الٰہی میں داخل محبت کی تفصیل کچھ یوں ہے : ( 1 ) بسااوقات بغیر فائدے کے باطنی طبیعتوں اور پوشیدہ اخلاق میں موافقت و مناسبت کی وجہ سے کسی کی فقط ذات سے محبت کی جاتی ہے ، حسن وجمال کی وجہ سے بھی محبت کرنا بھی اسی قسم میں شامل ہے ، اس قسم کی محبت کے ساتھ اگر کوئی مذموم غرض یعنی برا مقصد مل جائے تو یہ محبت مذموم ہوجاتی ہے ۔ مثلاً کسی حسین وجمیل صورت سے نفسانی خواہشات پوری کرنے کی خاطر محبت کرنا ، یہ مذموم محبت ہے کیونکہ یہ جائز نہیں ہے اور اگر اس محبت کے ساتھ کوئی مذموم غرض نہ ملی ہوتو یہ مباح ہوتی ہے یعنی نہ تو قابل تعریف ہے اور نہ ہی قابل مذمت ۔ ( 2 ) کسی سے دنیوی مقصد کے لیے محبت کرنا ۔ مثلاً سونے چاندی سے جاہ ومرتبہ ، مال یا علم حاصل کرنے کے لیے محبت ، بادشاہ کے دل میں جگہ بنانے یا اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے اس کے قریبی لوگوں سے محبت ، شاگرد کی اپنے استاد سے حصول علم کے لیے محبت ۔ اگر اس محبت میں مذموم مقاصد کا ارادہ کیا جائے مثلاً ہم عصر لوگوں پر غالب آنا ، یتیموں کا مال کھانا ، قاضی کا عہدہ پاکر رعایا پر ظلم کرنا تو یہ محبت بھی مذموم ہوگی ۔ لیکن اگر اس کے ذریعے جائز مقاصد کا ارادہ کیا جائے تو یہ جائز ہوگی ۔ ( 3 ) کسی سے اخروی مقصد کے لیے محبت کرنا ۔ مثلاً شاگرد کا اپنے استاد سے یا مرید کا اپنے پیر سے اس لیے محبت کرنا کہ ان کے ذریعے وہ علم حاصل کرکے اچھے اعمال کرسکے اور آخرت میں کامیاب ہوسکے تو یہ محبت رضائے الٰہی کے لیے محبت ہے ۔ اسی طرح استاد کا اپنے شاگرد سے اس لیے محبت کرنا کہ یہ شاگرد علم پھیلانے کا ذریعہ ہے جس کے سبب اسے رب تعالی کی بارگاہ میں اسے عزت وعظمت ملتی ہے تو یہ محبت بھی رضائے الٰہی کے زمرے میں شامل ہے ۔ ( 4 ) اگر انسان کسی سے علم وعمل میں اضافے یا کسی اور غرض کے لئے محبت نہ کرے بلکہ خالصتاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع