30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میٹھے میٹھے اسلا می بھا ئیو ! سلا م کر نا ہمارے پیا ر ے آقا ، تا جدا ر مد ینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بہت ہی پیار ی سنت ہے ، بدقسمتی سے آ ج کل یہ سنت بھی ختم ہو تی نظر آرہی ہے ۔ ہمارے مسلمان بھائی جب آپس میں ملتے ہیں تو اَلسَّلَا مُ عَلَیْکُمْسے ابتدا کرنے کے بجائے ’’آداب عرض ، کیا حال ہے ؟ مزاج شریف ، صبح بخیر ، شام بخیر ‘‘ وغیرہ وغیرہ عجیب وغریب کلمات سے ابتدا کرتے ہیں ، یہ خلافِ سنت ہے ۔ رخصت ہوتے وقت بھی ’’خدا حافظ ، گڈبائی ، ٹاٹا ‘‘ وغیرہ کہنے کے بجائے سلام کرنا چاہے ۔ ہاں رخصت ہوتے ہوئے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْکے بعد اگر ’’خدا حافظ ‘‘ کہہ دیں تو حرج نہیں ۔ سلام جیسی پیاری سنت کو عام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے آداب سے واقفیت ہو ، چنانچہ دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۱۲۲صفحات پر مشتمل کتاب ’’سنتیں اور آداب ‘‘ ص۱۰ سے سلام کرنے کی چند سنتیں اور آداب پیش خدمت ہیں : ( 1 ) سلام کے بہترین الفاظ یہ ہیں : ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗیعنی تم پر سلامتی ہو اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طر ف سے رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں ۔ ‘‘ ( 2 ) سلا م کے جواب کے بہترین الفا ظ یہ ہیں : ’’وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗیعنی اور تم پر بھی سلامتی ہواور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طر ف سے رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں ۔ ‘‘ ( 3 ) عام طو ر پرمعروف یہی ہے کہ ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ ‘‘ ہی سلام ہے ۔ مگر سلام کے دو سرے بھی بعض صیغے ہیں ۔ مثلاً کوئی آکر صرف کہے ’’سلام ‘‘ تو بھی سلام ہوجاتا ہے اور ’’سلام ‘‘ کے جواب میں’’سلام ‘‘ کہہ دیا ، یا’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ ‘‘ ہی کہہ دیا ، یا صرف ’’وَعَلَیْکُمْ ‘‘ کہہ دیا تو بھی جواب ہوگیا ۔ ‘‘ ( 4 ) ہرمسلمان کو سلام کرنا چاہیے خواہ ہم اسے جانتے ہو ں یا نہ جانتے ہوں ۔ ہوسکے تو جب بس میں سوار ہوں ، کسی اسپتال میں جانا پڑجائے ، کسی ہوٹل میں داخل ہوں جہاں لوگ فارغ بیٹھے ہوں ، جہاں جہاں مسلمان اکٹھے ہوں ، سلام کردیا کریں ۔ یہ دو الفاظ زبان پر بہت ہی ہلکے ہیں ، مگر ان کے فوائد وثمرات بہت ہی زیادہ ہیں ۔ ( 5 ) بات چیت شروع کرنے سے پہلے ہی سلام کرنے کی عادت بنانی چاہیے ۔ ( 6 ) جب کوئی کسی کا سلام لائے تو اس طر ح جواب دیں ’’عَلَیْکَ وَعَلَیْہِ السَّلَام یعنی تجھ پر بھی اور اس پر بھی سلام ہو ۔ ‘‘ ( 7 ) جب گھر میں داخل ہوں تو گھر والوں کوسلام کیا کریں اس سے گھرمیں برکت ہوتی ہے اور اگر خالی گھر میں داخل ہوں تو ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ ‘‘ کہیں یعنی اے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! آپ پرسلام ہو ۔ ‘‘ گھر میں جب داخل ہوں اس وقت بھی سلام کریں اور جب رخصت ہونے لگیں ، اس وقت بھی سلام کریں ۔ ( 8 ) اگر کچھ لوگ جمع ہیں ایک نے آکر اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہا ۔ تو کسی ایک کا جواب دے دینا کافی ہے ۔ اگر ایک نے بھی نہ دیا تو سب گنہگار ہوں گے ۔ ( 9 ) اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْکہنے سے دس نیکیاں ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم وَرَحْمَۃُ اللہْ کہنے سے بیس نیکیاں جبکہ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَ بَرَکَاتُہ کہنے سے تیس نیکیا ں ملتی ہیں ۔ ( 10 ) سلام کا فوراً جواب دینا واجب ہے ۔ اگر بلا عذر تا خیر کی تو گناہ گارہوگا اور صرف جواب دینے سے گناہ معاف نہیں ہوگا ، تو بہ بھی کرنا ہوگی ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں بھی سلام جیسی پیاری سنت کو عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
مدنی گلدستہ
’’سلام کرو ‘‘ کے 7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 7مدنی پھول
(1) جنت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بہت ہی پیاری نعمت ہے جو اس نے تمام مسلمانوں کے لیے تیار فرمائی ہے ، جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہوں گے ، کافروں پر جنت حرام ہے ۔
(2) اسلام ہمیں الفت ومحبت کا درس دیتا ہے ، اور بندہ اس وقت تک کامل مؤمن نہیں بن سکتا جب تک وہ دوسرے مسلمان بھائیوں سے محبت نہ کرے ۔
(3) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے جو محبت کی جائے وہی محمود یعنی قابل تعریف ہے ۔
(4) سلام کرنا آپس میں الفت ومحبت پیدا کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے ۔
(5) سلام حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بہت ہی پیاری سنت ہے ۔
(6) سلام کی وجہ سے محبتیں بڑہتیں اور نفرتیں ختم ہوتی ہیں ۔
(7) واقف وناواقف سب کو سلام کرنا چاہیے البتہ جنہیں شریعت نے منع کیا ہے انہیں سلام نہ کیا جائے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، اور ہمیں سلام جیسی پیاری سنت کو عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 379 فرشتے نے خوشخبری دی
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ النَّبيّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اَنَّ رَجُلًا زَارَ اَخًا لَهُ في قَرْيَةٍ اُخْرٰى فَاَرْصَدَ اللهُ لَهُ عَلَى مَدْرَجَتِهِ مَلَكاً فَلَمَّا اَ تَى عَلَيهِ قَالَ : اَ يْنَ تُريدُ؟ قَالَ : اُرِيْدُ اَخًا لِیْ في هٰذِهِ القَريَةِ. قَالَ : هَلْ لَكَ عَلَيهِ مِنْ نِعْمَةٍ تَرُبُّهَا عَلَيهِ؟ قَالَ : لَا غَيْرَ اَنِّي اَحْبَبْتُهُ فِي اللهِ تَعَالٰى قَالَ : فَاِنِّي رَسُوْلُ اللهِ اِلَيْكَ بِاَنَّ اللهَ قَدْ اَحَبَّكَ كَمَا اَحْبَبْتَهُ فِيْهِ. ( [1] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’ایک شخص اپنے ایک مسلمان بھائی سے ملاقات کے لئے دوسری بستی کی طرف چلا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کے راستے میں ایک فرشتہ مقرر فرمادیا جب وہ اس کے پاس پہنچا تو فرشتے نے پوچھا : ’’کہاں کاا رادہ ہے ؟ ‘‘ اس نے کہا : ’’اس بستی میں میرا ایک دینی بھائی ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع