دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

عَلَّامَہ عَبْدُ الرَّحْمٰن جَلَالُ الدِّيْن سُيُوْطِي عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :  ’’یہاں کمالِ ایمان کی نفی ہے ۔ یعنی تم اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہوسکتے جب تک کہ آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرو ۔ ‘‘ ( [1] ) تقریباً تمام شارِحین نے اسی بات کی تصریح فرمائی ہے کہ یہاں ایمان کامل کی نفی ہے ۔

اپنے مسلمان بھائی سے محبت کرنا :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  مذکورہ حدیث پاک میں مسلمانوں کی ایک دوسرے سے محبت کو کمال ایمان کی نشانی بیان فرمایا گیا ہے ۔  واقعی کامل مؤمن اپنے مسلمان بھائیوں سے محبت کرنے والا ہوتاہے ، کیونکہ اسلام نے مسلمانوں کو الفت ومحبت کا درس دیا ہے ، اسلام میں کسی بھی مسلمان  سے ، اس کی آل اولاد ، اس کے رشتہ داروں ، دوستوں یا دیگر متعلقین سے بلاوجہ شرعی نفرت کرنے کی قطعاً اجازت نہیں ہے ۔  مسلمانوں کی آپس میں ایک دوسرے سے محبت ہی اُن کے درمیان بھائی چارے کو فروغ کا سبب ہے ، باہمی الفت ومحبت بڑی بڑی معاشرتی اچھائیوں کو فروغ دینے اور بڑے بڑے گناہوں کے خاتمے میں ایک بہترین معاون کا کردار ادا کرتی ہے ۔  جب دو مسلمان آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں توہ ایک دوسرے کی غیبت ، چغلی ، بہتان ، تہمت ، بغض اور حسد جیسی بیماریوں سے محفوظ ہوجاتے ہیں ، جبکہ آپس میں نفرت اور دشمنی ان سب باطنی بیماریوں کو پیدا کرتی اور پھیلاتی ہے ۔  الغرض مؤمن کامل کی صفت الفت ومحبت ہے ، بغض ونفرت نہیں ۔ دیگر احادیث مبارکہ میں بھی مؤمن کی اس صفت محبت کو بیان فرمایا گیا ہے ۔  چنانچہ فرمانِ مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے :  ’’مؤمن محبت کرتا ہے اور اس سے محبت کی جاتی ہے اور جو شخص نہ خود محبت کرے اور نہ اس سے محبت کی جائے تو اس میں کوئی بھلائی نہیں ۔ ‘‘ ( [2] )

محبت مسلمین سے متعلق مختلف اَقوال :

دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۱۳۹۹صفحات پر مشتمل کتاب ’’احیاء العلوم  ‘‘   جلد۲ ،  ص۵۷۹ تا۵۸۲سے مسلمانوں سے محبت کے متعلق چند اقوالِ بزرگانِ دِین پیش خدمت ہیں :

 ( 1 ) حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :  ’’اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم ! اگر میں دن میں روزہ رکھوں اور افطار نہ کروں ، رات بھر بغیر سوئے قیام کروں اور وقفے وقفے سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی راہ میں مال خرچ کرتا رہوں لیکن جس دن مروں اس دن میرے دل میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے نیک بندوں کی محبت اور اس کے نافرمانوں سے عداوت نہ ہوتو یہ تمام چیزیں مجھے کچھ نفع نہ دیں گی ۔ ‘‘ ( 2 ) حضرت سَیِّدُنَا  ابن سماک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے وفات کے وقت فرمایا :  ’’اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ !  تو جانتا ہے اگرچہ میں تیری نافرمانی کیا کرتا تھا لیکن تیرے فرمانبرداروں سے محبت بھی کرتا تھا ، میرے اسی عمل کے سبب مجھے اپنا قُرب عطا فرما دے ۔ ‘‘ ( 3 ) حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :  ’’اگر کوئی شخص رکن اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان کھڑے ہو کر ستر70سال عبادت کرے پھر بھی قیامت کے دن اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے اسی کے ساتھ اٹھائے گا جس سے وہ محبت کرتا ہوگا ۔ ‘‘ ( 4 ) حضرت سَیِّدُنَا  مجاہد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا :  ’’اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی خاطر آپس میں محبت کرنے والے جب ملتے ہیں اور ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراتے ہیں تو ان کی خطائیں ایسی مٹتی ہیں جیسے سردیوں میں درختوں کے خشک پتے جھڑ جاتے ہیں ۔ ‘‘ ( 5 ) حضرت سَیِّدُنَا فضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  ’’انسان کا محبت ومہربانی کے ساتھ اپنے مسلمان بھائی کے چہرے کی طرف دیکھنا بھی عبادت ہے ۔   ‘‘ 

اپنے درمیان سلام کو عام کرو :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  مذکورہ حدیث پاک میں حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے باہمی محبت کو پیدا کرنے کا ایک بہترین نسخہ عطا فرمایا ہے کہ آپس میں سلام کو عام کرو ۔  اس فرما نِ عالی میں سلام عام کرنے  کی بہت زیادہ ترغیب ہے ، تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ سلام کو عام کریں ، ہر شخص کو سلام کریں چاہے اسے جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں ۔  کسی کے دل میں محبت داخل کرنے  کا سب سے پہلاسبب سلام ہے ۔ جب کوئی شخص دوسرے کو سلام کرتا ہے تو فطری طور پر اس کے دل میں سلام کرنے والے کی محبت پیدا ہوجاتی ہے ، کیونکہ سلام کرنا دراصل اگلے شخص کو اس کی جان ، مال ، عزت وآبرو کی سلامتی کی دعا اور ضمانت ہے ۔ سلام حصولِ محبت کی چابی ہے  ۔ ذاتی دشمن کو بھی بندہ جب سلام کرتا ہے تو اس کا دل بھی نرمی کی جانب مائل ہو جاتاہے ۔  سلام مسلمانوں  کا ایسا  شعار ہے   جس   کا  اظہار ا ُنہیں دیگر قوموں سے   ممتاز کر دیتا ہے ۔  سلام میں ریاضت ِنفس ،  عاجزی  اور مسلما نوں کی حرمات کی تعظیم ہے ۔   

عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : حضرتِ سَیِّدُنا عمار بن یاسر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے منقول ہے کہ  جس میں یہ تین باتیں جمع  ہوجائیں  وہ ایمان کو جمع کرلیتا ہے :  ( 1 ) اپنے نفس  کے ساتھ انصاف کرنا ( 2 ) سلام  عام کرنااور ( 3 ) تنگی کی حالت میں خرچ کرنا  ۔ سلام کی وجہ سے  قطع تعلقی  ، کینہ   وفساد سے حفاطت  رہتی ہے اوریہ لازم ہے کہ سلام  صرف اور صرف  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لئے ہو کسی نفسانی  خواہش کی وجہ سے نہ ہو اور یہ بھی  نہ ہو کہ سلام صرف اپنے دوست احباب  ہی سے کرے بقیہ کو چھوڑ دے بلکہ بِلا امتیاز  ہر مسلمان بھائی کو سلام  کرے ۔ ‘‘ ( [3] )

سلام کرنے کی سنتیں اور آداب :  

 



[1]     الدیباج علی مسلم ، ۱ / ۷۱ ، تحت الحدیث :  ۵۴ ۔

[2]     مسند امام احمد ، مسند ابی ھریرۃ ، ۳ / ۳۶۲ ، حدیث :  ۹۲۰۹ ۔

[3]     شرح مسلم  للنووی ، کتاب الایمان ، باب بیان  لا ید خل الجنۃالا المومنون ، ۱ / ۳۶ ، الجزءالثانی  ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن