30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1) کسی بھی مسلمان کو ناحق قتل کرنا ناجائز وحرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔
(2) کسی پاک دامن مسلمان مرد یا عورت پر جھوٹی تہمت لگانا بھی گناہ کبیرہ وناجائز وحرام ہے ۔
(3) جھوٹی گواہی دینا شرک کے برابر گناہ ہے ۔
(4) جھوٹی قسم کھانے والا سخت گنہگار ہے اُس پر توبہ و استغفار لازم ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں والدین کی نافرمانی کرنے ، جھوٹی قسمیں کھانے ، ناحق قتل کرنے جیسے بڑے بڑے کبیرہ گناہوں سے محفوظ فرمائے اور ہمیں نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 338 اپنے ماں باپ کو گالی دینے والا انسان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِِ الْعَاصِ اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مِنَ الْكَبَائِرِ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَيْهِ ، قَالُوا : يَا رَسُوْلَ اللهِ ، وَهَلْ يَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ؟ قَالَ : نَعَمْ یَسُبُّ اَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ اَبَاهُ ، وَيَسُبُّ اُمَّهُ فَيَسُبُّ اُمَّهُ. ( [1] ) وَفِیْ رِوَایَۃٍ اِنَّ مِنْ اَکْبَرِ الْکَبَائِرِ اَنْ یَّلْعَنَ الرَّجُلُ وَالِدَیْہِ ، قِیْلَ یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَیْفَ یَلْعَنُ الرَّجُلُ وَالِدَیْہِ؟ قَالَ یَسُبُّ اَبَا الرَّجُلِ ، فَیَسُبُّ اَبَاہُ وَیَسُبُّ اُمَّہُ ، فَیَسُبُّ اُمَّہُ. ( [2] )
ترجمہ : حضرت سیدنا عبداللہ بن عَمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ” کبیرہ گناہوں میں سے یہ بھی ہے کہ کوئی اپنے والدین کو گالی دے ۔ “ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیا کوئی اپنے والدین کو گالی دے سکتا ہے ؟ ‘‘ فرمایا : ” ہاں ! یہ کسی کے باپ کو گالی دے اور وہ اس کے باپ کوگالی دے اور یہ کسی کی ماں کو گالی دے تو وہ اِس کی ماں کو گالی دے ۔ “
ایک دوسری روایت میں ہے : ” کبیرہ گناہوں میں سے ایک بڑا گناہ یہ ہے کہ کوئی اپنے والدین پر لعنت کرے “ عرض کی گئی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کوئی شخص کیسے اپنے ماں باپ پر لعنت کرسکتا ہے ؟ ‘‘ فرمایا : ” یہ کسی کے باپ کو گالی دے اور پھر وہ اِس کے باپ کوگالی دے اور یہ کسی کی ماں کو گالی دے اور پھر وہ شخص اِس کی ماں کو گالی دے ۔ “
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ اگر کوئی شخص کسی چیز کا سبب بنے تو اس چیز کو اس کی طرف منسوب کرنا جائز ہے جبھی تو ماں باپ کو گالی دلوانے کا سبب بننے والے کو عقوقِ والدین ( ماں باپ کی نافرمانی ) میں شمار کیا گیا ہے تاکہ اس سے یہ فائدہ حاصل ہو کہ جس کام سے والدین کو تکلیف محسوس ہو اُس کام کو بھی ہلکا اور معمولی نہ سمجھا جائے ۔ ‘‘ ( [3] )
والدین کو گالی دینا عقلمند کا کام نہیں :
صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا سوال کرنا کہ ” کیا کوئی اپنے والدین کو بھی گالی دے سکتا ہے ۔ “ تعجب کے طور پر تھا کیونکہ کسی ذی عقل و ذی شعور انسان سے ایسا کام متصور نہیں کیونکہ والدین کے حقوق کی معرفت تو اُن کے ساتھ اچھائی کرنے اور انہیں گالی دینے کے بجائے ان کے احسان مند ہونے کی دعوت دیتی ہے ، والدین جیسی عظیم ہستی کو تو ایسا شخص ہی گالی دے سکتا ہے کہ جس کے اندر بالکل اچھائی نہ ہو ، حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ” ہاں“ یعنی کوئی والدین کو براہِ راست گالی نہیں دیتا بلکہ وہ انہیں گالی دینے کا سبب بنتا ہے وہ اس طرح کہ وہ کسی اور کے ماں باپ کو گالی دیتا ہے پھر وہ اِس کے ماں باپ کو گالی دیتا ہے ۔ ( [4] )
والدین کو گالیاں دینے والے بے شرم :
وہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا دور تھا اس وقت کے جاہل عرب اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کردیا کرتے تھے ایسے پتھر دل لوگ بھی اپنے ماں باپ کو گالی نہیں دیتے تھے اسی لیے صحابہ کرام نے پوچھا کہ کوئی اپنے والدین کو گالی کیسے دے سکتا ہے ؟ وہ اس بات کو ناممکن سمجھتے تھے کہ کوئی اپنے والدین کو گالی دے مگر افسوس صد افسوس آج کے دَور میں خود کو مسلمان کہنے والے کئی لوگ اپنے والدین کو بُرا بھلا کہتے ہیں ۔ مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتْ مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ ( حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ) فرمایا : ہاں ، یہ بات عقل کے خلاف ہے کہ کوئی بیٹا اپنے ماں باپ کو گالی دے ۔ سُبْحَانَ اللہ ! وہ زمانہ قدوسیوں کا تھا کہ یہ جرم ان کی عقل میں نہ آتا تھا اب تو کھلم کھلا نالائق لوگ اپنے ماں باپ کو گالیاں دیتے ہیں ذرا شرم نہیں کرتے ۔ خیال رہے کہ سَبٌّ ہر قسم کے برا کہنے کو کہتے ہیں گالی ہو یا اور کچھ ، مگر شَتْمٌ گالی کو کہا جاتا ہے ۔ کبھی سَبٌّ بمعنی شَتْمٌ آتا ہے اور شَتْمٌ بمعنی سَبٌّ ، کسی سے کہا :
[1] مسلم ، کتاب الایمان ، باب الکبائر واکبرھا ، ص۶۰ ، حدیث : ۹۰ ۔
[2] بخاری ، کتاب الادب ، باب لا یسب الرجل والدیہ ، ۴ / ۹۴ ، حدیث : ۵۹۷۳ ، دون فیسب امہ ۔
[3] شرح مسلم للنووی ، کتاب الایمان ، باب الکبائر واکبرھا ، ۱ / ۸۸ ، الجزء الثانی ۔
[4] دلیل الفالحین ، باب فی تحریم العقوق و قطعیۃ الرحم ، ۲ / ۱۸۱ ، تحت الحدیث : ۳۳۹ ماخوذا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع