30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی : ’’ا ے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! جوتیرے خوف سے روئے یہاں تک کہ آنسو اس کے چہرے پر بہہ جائیں تو تُو اسے کیا اجر عطا فرمائے گا ؟ ‘‘ ارشاد ہوا : ’’میں اس کے چہرے کو جہنم کی لپٹ سے محفوظ رکھوں گا اور اسے گھبراہٹ والے دن ( یعنی قیامت ) سے امن عطافرماؤں گا ۔ ‘‘ ( [1] )
امیر اہلسنتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی مایہ ناز تصنیف ’’نیکی کی دعوت ‘‘ سے رونے کے چند فضائل پیش خدمت ہیں : ’’میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو ! خوفِ خدا عَزَّ وَجَلَّ اورعشق مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں رونا ایک عظیم الشّان ’’نیکی ‘‘ ہے ، اِس لئے حُصولِ ثواب کی نیّت سے اِس نیکی کی ترغیب پر مبنی نیکی کی دعوت پیش کرتے ہوئے رونے کے فضائل بیان کئے جاتے ہیں ۔ کاش ! کہیں ہم بھی سنجیدَگی اپنانے اورخوفِ خدا عَزَّ وَجَلَّ وعشق مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں آنسو بہانے والے بنیں ۔
رونے والی آنکھیں مانگو رونا سب کا کام نہیں ……… ذِکرِ مَحَبَّت عام ہے لیکن سوزِ مَحَبَّت عام نہیں
( 1 ) فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے : ’’جس مُؤمِن کی آنکھوں سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خوف سے آنسو نکلتے ہیں اگرچِہ مکھی کے سرکے برابر ہوں ، پھر وہ آنسو اُس کے چہرے کے ظاہِر ی حصّے کو پہنچیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے جہنم پر حرام کر دیتا ہے ۔ ‘‘ ( [2] ) ( 2 ) فرمان مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : ’’وہ شخص جہنم میں داخِل نہیں ہوگا جو اللہتعالیٰ کے ڈر سے رویا ہو ۔ ‘‘ ( [3] ) ( 3 ) امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں : ’’جب تم میں سے کسی کوخوفِ خداسے رونا آئے تو وہ آنسوؤں کو کپڑے سے صاف نہ کرے بلکہ رُخساروں پر بہہ جانے دے کہ وہ اِسی حالت میں ربّ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضِر ہو گا ۔ ‘‘ ( [4] ) ( 4 ) حضرت سیدنا کعب احبار رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’جو شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ڈر سے روئے اور اُس کے آنسوؤں کا ایک قطرہ بھی زمین پر گرجائے تو آگ اُس ( رونے والے ) کو نہ چُھوئے گی ۔ ‘‘ ( [5] ) ( 5 ) حضرت سیدنا عبداللہ بن عَمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خوف سے آنسو کا ایک قطرہ بہنا میرے نزدیک ایک ہزار دینار صَدَقہ کرنے سے بہتر ہے ۔ ‘‘ ( [6] ) ( 6 ) ’’حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیم خلیلُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جب نَماز کے لئے کھڑے ہوتے تو خوفِ خدا کے سبب اِس قَدَرگِریہ و زاری فرماتے ( یعنی روتے ) کہ ایک مِیل کے فاصِلے سے ان کے سینے میں ہونے والی گڑگڑاہٹ کی آواز سنائی دیتی ۔ ‘‘ ( [7] ) ( 7 ) حضرتِ سَیِّدُنا یحیی عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامجب نَماز کے لئے کھڑے ہوتے تو ( خوفِ خدا سے ) اِس قَدَر روتے کہ دَرَخت اور مِٹّی کے ڈَھیلے بھی ساتھ رونے لگتے حتی کہ آپ کے والِدِ مُحترم حضرتِ سَیِّدُنا زَکَرِ یّا عَلَیْہِ السَّلَامبھی دیکھ کر رونے لگتے یہاں تک کہ بے ہوش ہو جاتے ۔ مسلسل بہنے والے آنسوؤں کے سبب حضرتِ سَیِّدُنا یحیی عَلَیْہِ السَّلَام کے رُخسارِ مبارَک ( یعنی با بَرَکت گالوں ) پر زَخم ہوگئے تھے ۔ ( [8] ) ( 8 ) حضرت سیدنا یحیی عَلَیْہِ السَّلَامنے اپنے والد گرامی حضرت سیدنا زکریا عَلَیْہِ السَّلَام کے حوالے سے فرمایا : ’’جنَّت اور دوزخ کے درمِیان ایک گھاٹی ہے جسے وُہی طے کر سکتاہے جو بَہُت رونے والا ہو ۔ ‘‘ ( [9] )
جی چاہتا ہے پھوٹ کے روؤں تِرے ڈر سے
اللہ ! مگر دل سے قَساوَت نہیں جاتی
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں بھی اپنے خوف اور عشق رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں رونا نصیب فرمائے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! واضح رہے کہ مذکورہ بالا حدیث پاک میں فقط سات ایسے افراد کا ذکر ہے جنہیں کل بروزِ قیامت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا ، لیکن ان سات افراد کے علاوہ بھی کئی ایسے افراد ہیں جنہیں کل عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائی جائے گی ۔ ان تمام افراد کی تفصیلات کے لیے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۸۸صفحات پر مشتمل امام جلال الدین سیوطی شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی کتاب ” تَمْھِیْدُ الْفَرْش فِی الْخِصَالِ الْمُوْجِبَۃِ لِظِلِّ الْعَرْش“ ترجمہ بنام’’سایۂ عرش کس کس کو ملے گا؟ ‘‘ کا مطالعہ کیجئے ۔
مدنی گلدستہ
[1] شرح بخاری لابن بطال ، کتاب المحاربین ، باب من فضل ترک الفواحش ، ۸ / ۴۲۶ ۔
[2] شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ تعالی ، ۱ / ۴۹۱ ، حدیث : ۸۰۲ ۔
[3] شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ تعالی ، ۱ / ۴۸۹ ، حدیث : ۷۹۸ ۔
[4] شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ تعالی ، ۱ / ۴۹۳ ، حدیث : ۸۰۸ ۔
[5] درۃ الناصحین ، المجلس الخامس والستون فی بیان البکاء ، ص۲۵۳ ۔
[6] شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ تعالی ، ۱ / ۵۰۲ ، حدیث : ۸۴۲ ۔
[7] احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ، بیان احوال الانبیاء والملائکۃ علیھم الصلاۃ والسلام فی الخوف ، ۴ / ۲۲۴ ۔
[8] خوف خدا ، ص۴۵ ۔
[9] شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ تعالٰی ، ۱ / ۴۹۳ ، حدیث : ۸۰۹ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع