دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

علانیہ دو تو وہ کیا ہی اچھی بات ہے ۔  ( [1] )

ریاکاری اعمال کی تباہ کاری کا بڑا سبب :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  کسی بھی نیک عمل کے اندر ریاکاری اس عمل کو تباہ وبرباد کرنے کا بہت بڑا سبب ہے ، ریاکاری نیک عمل کو ایسے کھاجاتی ہے جیسے آگ لکڑی کو ۔  اپنے اعمال کو ریاکاری کی تباہ کاری سے محفوظ رکھیے کیونکہ ریاکاری کی تباہ کاریاں شمار سے باہر ہیں ، ریاکاری سے عمل ضائع ہوجاتاہے ، ریاکاری کرنے والوں کو شیطان کا دوست فرمایا گیا ہے ، جہنم کی ایک وادی ریاکاروں کا ٹھکانہ ہوگی ، ریاکاروں کو کل بروز قیامت بہت حسرت وندامت ہوگی ، ریاکار کا کوئی عمل قبول نہیں ہوتا ، جہنم میں ایک ایسی وادی ہے جس سے خود جہنم بھی  پناہ مانگتا ہے مگر ریاکاروں کو اس وادی میں داخل کیا جائے گا ، کل بروز قیامت ریاکاروں کو ذلت ورسوائی کا عذاب دیا جائے گا ، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ریاکار پر جنت کو حرام فرمایا دیا ہے ، ریاکار تو جنت کی خوشبوبھی نہیں پائے گا ، ریاکار زمین وآسمان دونوں میں ملعون ہے ۔  الغرض ریاکاری اور دکھاوے میں کوئی بھلائی نہیں ہے ، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی راہ میں خرچ کرنا یقیناً باعث اجروثواب ہے لیکن خوب غور کرلیجئے کہ کہیں اس میں ریاکاری کا عنصر تو شامل نہیں ہے ، ایسا نہ ہو کہ اجروثواب کی بجائے ذلت والے عذاب کا سامنا کرنا پڑجائے ، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہمیں اخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے اور یاکاری کی تباہ کاریوں سے محفوظ فرمائے ۔ آمین ( [2] )

چھپا کر صدقہ دینے کی فضیلت :

چھپا کر صدقہ دینے کے احادیث مبارکہ میں بہت فضائل بیان فرمائے گئے ہیں ۔  چنانچہ چھپا کر صدقہ دینے سے متعلق تین فرامین مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے :  ( 1 ) ’’نیکیاں برائی کے دروازوں سے بچاتی ہیں اورپوشید ہ صدقہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے غضب سے بچاتاہے اور صلہ رحمی عمر میں اضافہ کردیتی ہے ۔ ‘‘ ( [3] ) ( 2 ) ’’اللہ عَزَّ  وَجَلَّتین آدمیوں سے محبت فرماتا ہے اورتین کو ناپسند فرماتا ہے ۔ جن لوگوں سے اللہ عَزَّوَجَلَّمحبت فرماتاہے ، ان میں سے ایک شخص تو وہ ہے کہ کسی قوم کے پاس کوئی شخص آیا اور اپنی رشتہ دار ی کے بجائے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے نام پر ان سے سوال کیا لیکن انہوں نے اسے دینے سے منع کردیا ، اس کے بعد اُس کے پیچھے یہ شخص آیا اور چھپا کر اسے کچھ عطا کردیا اور اس کے عطیہ کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس دینے والے کے سوا کوئی نہیں جانتا اورایک قوم رات کو سفرپر نکلی یہاں تک جب نیند ان پر غالب آگئی اور وہ سوگئے تو ان میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اللہتعالیٰ کی بارگا ہ میں گڑگڑانے لگااور میری ( یعنی کلامُ اللہ کی ) آیتیں تلاوت کرنے لگا ، تیسرا وہ شخص جس نے جنگ کے دوران دشمن کا سامنا کیا پھر انہیں شکست ہوئی مگر یہ شخص شہید ہونے یا فتح پانے تک پیچھے نہ ہٹا اور اللہتعالیٰ کے تین ناپسندیدہ شخص یہ ہیں : بوڑھا زانی ، متکبر فقیر اور ظالم مالدار ۔ ‘‘ ( [4] ) ( 3 ) ’’جب اللہ عَزَّوَجَلَّنے زمین کو پیدا فرمایا تو وہ کانپنے لگی اور الٹ پلٹ ہونے لگی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے پہاڑوں کی میخیں اس میں گاڑ دیں تو وہ ساکن ہوگئی ۔ یہ دیکھ کر ملائکہ کو پہاڑوں کی طاقت پر تعجب ہوا اور انہوں نے عرض کیا : ’’ اے رب عَزَّ  وَجَلَّ !  کیا تو نے پہاڑوں سے زیادہ طاقتور کوئی چیز پیدا فرمائی ہے ؟  ‘‘  اللہ عَزَّوَجَلَّنے ارشادفرمایا : ’’ ہاں !  وہ لوہا ہے ۔ ‘‘ پھر فرشتوں نے عرض کیا  : ’’کیالوہے سے قوی چیز بھی پیدا فرمائی ہے ؟  ‘‘  فرمایا : ’’ ہاں !  وہ آگ ہے ۔   ‘‘  پھر ملائکہ نے عرض کیا : ’’آگ سے بھی طاقتور چیز پیدا فرمائی ہے ؟  ‘‘   فرمایا : ’’ ہاں !  وہ پانی ہے  ۔   ‘‘  پھر ملائکہ نے عرض کیا : ’’ کیاپانی سے قوی چیز بھی پیدا فرمائی ہے ؟  ‘‘   فرما یا : ’’ہا ں  ! وہ ہوا ہے ۔   ‘‘  فرشتوں نے پھر عرض کیا : ’’کیاہوا سے قوی چیز بھی پیدا فرمائی ہے ؟  ‘‘   فرمایا :  ’’ ( ہاں ) ابن آدم جب اپنے دائیں ہاتھ سے صدقہ دے اور بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہو ۔ ‘‘ ( [5] )

مِرا ہر عمل بس ترے واسطے ہو                      ………    کر اخلاص ایسا عطا یاالٰہی

 ( 7 ) تنہائی  میں   خوف خدا سے رونا :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک میں جس آخری شخص کا ذکر ہے کہ کل بروز قیامت اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے بھی اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا وہ تنہائی میں ذِکرُ اللہ کرکے خوف خدا کے سبب رونے والا شخص ہے ۔  عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’اس میں خوفِ خدا  سے  رونے کی فضیلت کا بیان ہے ۔ بندے کے لئے مستحب ہے کہ  کچھ نہ کچھ وقت تنہائی میں  گزارے  تاکہ  گناہوں پر  شرمندگی ہو  ، اِخلاص کے ساتھ  اپنے ربّ کریم کی بارگاہ میں گریہ وزاری کرسکے ، اپنی بخشش کے لئے خوب گڑگڑائے    کہ    مضطر کی دعا قبول ہوتی  ہے ۔  یہ نہ ہو  کہ سارا  وقت  صرف اپنی ذات کے لئے غفلتوں میں  صَرف ہو  جیسا کہ جانور وں کی حالت ہوتی ہے جوقیامت اورساری مخلوق کے سامنے حساب کتاب   جیسی ہولناکیوں سے بے خوف ہیں ۔ تو جواِن ہولناکیوں سے محفوظ نہیں اسے چاہیے کہ   خلوت میں خوب روئے ، دنیوی  زندگی  کو قید خانہ  محسوس  کرے  کیونکہ اسی میں گناہ سرزَد ہوتے ہیں ۔  حدیث پاک میں ہے :  ’’ جو مسلماناللہ عَزَّ  وَجَلَّکے خوف سے روئے تو وہ جہنم میں داخل نہ ہوگا یہاں تک دودھ تھنوں میں واپس چلا جائے  ۔ ‘‘ منقو ل ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا داود عَلٰی



[1]     مرآۃ المناجیح ، ۱ / ۴۳۶ ۔

[2]     ریاکاری کی مزید معلومات کے لیے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۱۶۶ صفحات پر مشتمل کتاب’’ریاکاری  ‘‘  کا مطالعہ کیجئے ۔

[3]     معجم کبیر ، ۸ / ۲۶۱ ، حدیث : ۸۰۱۴ ۔

[4]     تر مذی ، کتاب صفۃ الجنۃ ، ۴ / ۲۵۶ ، حدیث : ۲۵۷۷ ۔

[5]     ترمذی ، کتاب التفسیر ، باب۹۵ ، ۵ / ۲۴۲ ، حدیث : ۳۳۸۰ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن