30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حدیث نمبر : 376 سایۂ عرش کسے ملے گا؟
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبيّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللهُ في ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ اِلاَّ ظِلُّهُ : اِمَامٌ عَادِلٌ وَشَابٌّ نَشَاَ في عِبَادَةِ اللهِ عَزَّوَجَلَّ وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسَاجِدِ وَرَجُلاَنِ تَحَابَّا فِي اللهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وتَفَرَّقَا عَلَيْهِ وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَاَةٌ ذَاتُ حُسْنٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ : اِنِّي اَخَافُ اللهَ وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَاَخْفَاهَا حَتَّى لَاتَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ. ( [1] )
ترجمہ : حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ دو عالم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’سات آدمی ایسے ہیں جنہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس دن اپنے عرش کے سائے میں رکھے گا جس دن اس کے عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا : ( 1 ) عادل حکمران ( 2 ) وہ نوجوان جس کی جوانی عبادت الٰہی میں گزری ( 3 ) و ہ شخص جس کادل مساجد میں لگا رہے ( 4 ) وہ دو شخص جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے محبت کریں ، ا سی کی محبت پر ایک دوسرے سے ملیں اور جدا ہوں ۔ ( 5 ) وہ شخص جسے حسن وجمال والی عورت ( برائی کے لئے ) بلائے تووہ کہہ دے کہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرتا ہوں ۔ ( 6 ) وہ شخص جو اس طرح چھپا کرصدقہ کرے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو پتا ہی نہ چلے کہ دائیں ہاتھ نے راہ خدا میں کیاخرچ کیا ۔ ( 7 ) جو تنہائی میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کرے اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجائیں ۔ ‘‘
( 1 ) عدل وانصاف کرنے والا حکمران :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! عدل و انصاف وہ خوبی ہے جس سے ایک بہترین معاشرے کانظام بنتا ہے ، حقوق کی حفاظت اورجرائم کی روک تھام ہوتی ہے ، امن وامان اوراتحاد کی فضا قائم ہوتی ہے ، دشمنوں پر ہیبت طاری ہوتی ہے ، آپس کے جھگڑو ں اور بگاڑ سے حفاظت رہتی ہے ۔ الغرض جہاں عدل وانصاف سے کام لیا جائے وہ جگہ امن وسلامتی کاگہوارہ بن جاتی ہے ۔ عادِل بادشاہ مخلوق پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت ہے جس کے سائے میں مخلوق آرام پاتی ہے ، وہ اپنی رعایا کے لئے مہربان والد کی طرح ہے اس کا احترام لازم ہے ۔ احادیث مبارکہ میں عدل وانصاف کرنے والے حکمرانوں کے بہت سے فضائل بیان فرمائے گئے ہیں ۔ چنانچہ فرمانِ مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : ’’بروزِ قیامت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ پیار ا اورسب سے زیادہ قُرب حاصل کرنے والا عادِل بادشاہ ہوگا اور سب سے زیادہ نا پسنداورسب زیادہ بعد یعنی دُوری حاصل کرنے والا ظالم بادشاہ ہوگا ۔ ‘‘ ( [2] )
عادِل حکمران نورکے منبروں پر :
عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’جودو یا دو سے زیادہ لوگوں پر حاکم بنا اور اس نے ان کے درمیان عدل وانصاف سے کام لیا تو اسے یہ فضیلت حاصل ہوگی ۔ حدیث پاک میں ہے : تم سب نگہبان ہو اور تم سے تمہارے ماتحتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ ایک اور حدیث پاک میں ہے : جو اپنی رعایااور اہل وعیال میں عدل و انصاف کریں وہ بروزِ قیامت رحمٰن عَزَّ وَجَلَّ کے دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے ۔ ‘‘ ( [3] )
( 2 ) جوانی میں عبادت کی فضیلت :
واضح رہے کہ عبادت ہر عمر میں فضیلت والی اور باعث اَجروثواب ہے لیکن جوانی میں عبادت کی بہت اہمیت بیان کی گئی ہے کیونکہ جوانی میں عبادت بہت مشکل اورنفس پر بہت گراں ہوتی ہے ، اس وقت گناہوں کے مواقع کثیر ہوتے ہیں ، شہوت اور برائی کی طرف ابھارنے والی قوت کا غلبہ ہوتا ہے ۔ تو جواِن تمام رُکاوٹوں کے باوجوداپنی جوانی کو رضائے الٰہی والے کاموں میں صرف کرے اور اس کی بارگاہ میں تائب ہو تو وہ واقعی اعلیٰ فضیلت کا مستحق ہے ۔
زمین وآسمان کے درمیان ستر قندیلیں :
مبلغ اسلام شیخ شعیب حریفیش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندے سے محبت اس وقت ہوتی ہے جبکہ وہ جوانی میں توبہ کرنے والا ہو کیونکہ نوجوان تراور سرسبزٹہنی کی طرح ہوتاہے ۔ جب وہ اپنی جوانی اور ہر طرف سے شہوات ولذات سے لطف اُٹھانے اوران کی رغبت پیدا ہونے کی عمرمیں توبہ کرتا ہے اوریہ ایسا وقت ہوتاہے کہ دُنیا اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے ۔ اس کے باوجود محض رضائے الٰہی کے لئے وہ ان تمام چیزوں کوترک کردیتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت کامستحق بن جاتاہے اوراس کے مقبول بندوں میں اس کا شمار ہونے لگتا ہے ۔ منقول ہے کہ ’’ایک نوجوان جب توبہ کرکے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف رجوع کرتاہے تواس کے لئے زمین وآسمان کے درمیان ستر 70 قندیلیں روشن کی جاتی ہیں اورملا ئکہ صف بستہ ہو کر بلند آوازسے تسبیح تقدیس کرتے ہوئے اسے مبارک باد دیتے ہیں ۔ جب ابلیسِ لعین اس کو سنتا ہے تو کہتا ہے : ’’کیا خبرہے ؟ ‘‘ آسمان سے ایک منادی ندا دیتا ہے : ’’ایک بندے نے اللہ عَزَّ وَجَلَّسے صلح کرلی ہے ۔ ‘‘ تو ابلیس ملعون اس طرح پگھلتا ہے جس طرح نمک پانی میں پگھلتاہے ۔ ‘‘ ( [4] )
بارگاہِ الٰہی کا پسندیدہ نوجوان :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع