30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آپ اپنے احباب سے ملاقات کے لیے تشریف لے جاتے تھے ۔ ‘‘ ( [1] )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! حدیث پاک کی شرح میں بیان ہوا کہ مسجد قباء کی زیارت کے لیے جانا اور وہاں نماز ادا کرنا مستحب ہے جبکہ احادیث میں حضور عَلَیْہِ السَّلَام نے تین مساجد ( مسجدحرام ، مسجد نبوی ، مسجد اقصیٰ ) کے علاوہ دیگر مساجد کی طرف بالقصد اور اہتمام کے ساتھ جانے سے منع فرمایا ہے تو پھر مسجد قباء میں جانا کیسے مستحب ہوسکتا ہے ؟ علامہ سید محمود احمد رضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’کسی مسجد کے لیے اس نیت سے سفر کرنا کہ وہاں نماز کا ثواب زیادہ ملے گا سوائے مساجد ثلاثہ کے ممنوع ہے ۔ لیکن مطلق کسی نیک کام کے لیے جانا یا کسی بزرگ نے جہاں نماز پڑھی ہے وہاں جاکر نماز پڑھنا یا کسی مزار کی زیارت و فاتحہ کے لیے جانا اور حصول ثواب و برکت کی امید رکھنا ہرگز ہرگز ممنوع نہیں ہے ۔ ‘‘ ( [2] )
عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَال ابو جعفر داؤدی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے حوالے سے نقل فرماتے ہیں کہ ’’حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مسجد قباء میں جانا ا س بات پر دلالت کرتا ہے کہ جو مسجد شہر کے قریب ہو اس میں پیدل یا سوار ہوکر جانے میں کوئی حرج نہیں اور یہ تین مسجدوں کے علاوہ جانے کی ممانعت میں داخل نہیں ۔ ‘‘ ( [3] )
سیدنا عبداللہ بن عمراور متبرک مقامات :
مذکورہ حدیث پاک کے آخر میں یہ بھی بیان ہوا کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی ویسا ہی کیا کرتے تھے جیسا کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرمایا کرتے ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جلیل القدر صحابی ہیں ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی یہ عادت مبارکہ تھی کہ حضور نبی رحمت شفیع امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے منسوب چیزوں اور مقامات کے متعلق معلومات لیتے اور پھر ان کی زیارت کے لیے جاتے ، وہاں نماز وغیرہ ادا فرماتے ۔ چنانچہ تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۸۶۴صفحات پر مشتمل کتاب ’’فیضانِ فاروق اعظم ‘‘ جلداول ، صفحہ ۸۴سے حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی سیرت طیبہ کے چند گوشے پیش خدمت ہیں :
حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ۲ بعثت نبوی میں پیدا ہوئے اور اپنے والد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے ساتھ ہی بچپن میں اسلام قبول فرمایا ۔ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صحابی ہونے کا شرف حاصل کیا ۔ تقریباً دس سال کی عمر میں ہجرت مدینہ بھی اپنے والدین ہی کے ساتھ کی ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی کنیت ابو عبد الرحمٰن ہے ۔ غزوۂ بدر وغزوۂ اُحد کے علاوہ تمام جنگوں میں سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ شریک رہے ۔ عالم باعمل ، مجتہد ، عابد وزاہد ، سنتوں کے پابند ، بدعاتِ قبیحہ سے نفرت کرنے والے اور لوگوں کو وعظ ونصیحت فرمانے والے تھے ۔ شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’عبداللہ بن عمر نیک آدمی ہیں ۔ ‘‘ ( [4] )
یہ بھی کہا جاتاہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اس وقت تک دنیا سے تشریف نہ لے گئے جب تک اپنے والد گرامی کی حیات طیبہ کا مظہر نہ بن گئے ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے خلفاء راشدین سمیت کم وبیش تیس ۳۰صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ایک ہزار چھ سو تیس احادیث مبارکہ روایت کی ہیں ۔ میٹھے میٹھے آقا ، مکی مدنی مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت آپ کی نس نس میں بسی ہوئی تھی ، آپ کے عشق رسول کو علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کچھ یوں بیان فرماتے ہیں : ’’حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُحضورنبی ٔرحمت ، شفیعِ اُمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اتباع کے شیدائی تھے یہاں تک کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجہاں تشریف فرما ہوئے ، یہ بھی وہیں بیٹھتے ، جہاں رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نماز ادا فرمائی ، یہ بھی وہیں نماز ادا فرماتے ، جہاں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اونٹنی باندھی یہ بھی وہیں اپنی اونٹنی باندھتے ۔ ‘‘ ( [5] ) گویا جس چیز کی اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے نسبت ہوجاتی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاس کی بے حد تعظیم وتوقیر فرماتے ۔ علامہ نووی مزید فرماتے ہیں : ’’آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بارے میں یہ بھی منقول ہے کہ ایک بار نورکے پیکر ، تمام نبیوں کے سَروَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک درخت کے نیچے تشریف فرما ہوئے تو بعد میں حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اس کو پانی لگادیا کرتے تھے تاکہ وہ مبارک درخت کہیں خشک نہ ہوجائے ۔ ‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے تقریباًتہتر ۷۳ہجری میں ۸۴سال کی عمر میں وفات پائی ۔ ( [6] )
سیدناعبد اللہ بن عمر کی مدنی تربیت :
[1] عمدۃ القاری ، کتاب فضل الصلاۃ ۔ ۔ ۔ الخ ، باب مسجد قباء ، ۵ / ۵۷۲ ، تحت الحدیث : ۱۱۹۱ملخصًا ۔
[2] فیوض الباری ، ۵ / ۴۵ ۔
[3] شرح بخاری لابن بطال ، ابواب تقصیرالصلاۃ ، باب مسجد قباء ، ۳ / ۱۸۲ ۔
[4] بخاری ، کتاب التعبیر ، باب الاستبرق ودخول ۔ ۔ ۔ الخ ، ۴ / ۴۱۴ ، حدیث : ۷۰۱۶ ۔
[5] تھذیب الاسماء ، حرف العین المھملۃ ، ۱ / ۲۶۲ ۔
[6] الاصابۃ ، عبد اللہ بن عمر ، ۴ / ۱۶۱ ، رقم : ۴۸۵۲ ، تھذیب الاسماء ، عبد اللہ بن عمر ، ۱ / ۲۶۲ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع