30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مذکورہ حدیث پاک میں مسجد قباء کی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ قباءمدینہ منورہ سے تین میل دور ایک بستی ہے ، وہاں کی مسجدکانام قباءہے ۔ اسی جگہ حضور عَلَیْہِ السَّلَام نے ہجرت کے دن مدینہ منورہ میں تشریف آوری سے پہلے قیام فرمایا ۔ ہجرت کے بعد اسلام کی پہلی مسجد ہونے کا اعزاز اسی مسجد کو حاصل ہے ۔ نیز اس سے بھی بڑا اعزاز یہ ہے کہ خودحضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کی تعمیر اپنے دست مبارک سے فرمائی ۔ نیز سابقین ، اولین مہاجرین و انصار صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے اس کی تعمیر میں حصہ لیا ۔ سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو دیکھا کہ پیٹھ پر پتھر رکھ کرایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتے تھے اور رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کی بنیاد رکھتے تھے ۔ اگر یہ مسجد کہیں دور دراز اطراف میں ہوتی تو وہاں جانے کے لیے ہم اونٹوں کی مدد لیتے ۔ ‘‘ ( [1] ) حدیث پاک میں اس مسجد میں نماز پڑھنے کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے ۔ چنانچہ حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا : ’’مسجد قباء میں نماز پڑھنا عمرہ کی مثل ہے ۔ ‘‘ ( [2] )
ہفتے کے دن علماء وبزرگان دِین کی زیارت :
سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہفتے کے روز کبھی پیدل اور کبھی سوار ہوکر مسجد قباء تشریف لے جاتے اور دو رکعت تحیۃ المسجد یا اس کے قائم مقام کوئی دوسری نماز ادا فرماتے تھے ۔ عَلَّامَہ طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس سے معلوم ہوا کہ مساجد اورصالحین کے مقامات سے تقرب حاصل کرنا مستحب اور ہفتہ کے دن ان کی زیارت کے لیے جانا سنت ہے ۔ ‘‘ ( [3] ) عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں مقام قباء ، مسجد قباء اور وہاں نماز پڑھنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے ، نیز مسجد قباء کی زیارت کرنا مستحب ہے اور وہاں نماز ادا کرنے میں حضور عَلَیْہِ السَّلَام کی اقتداء ہے اور ہفتے کے دن مسجد قباء کی زیارت کرنا مستحب ہے ۔ ‘‘ ( [4] )
نیک اعمال کے لیے دن مقرر کرلینا :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! حدیث پاک میں اس بات کا واضح بیان ہے کہ کوئی خاص دن کسی کارِ خیر کے لیے مقرر کرنا جائز ہے جیساکہ حضور عَلَیْہِ السَّلَام نے ہفتے کا دن مسجد قباء جانے کے لیے مقرر فرمایا تھا لہذا سوئم ، چہلم ، بزرگان دین و اولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے عرس کی مجالس قائم کرنا اور بارہ ربیع الاول کو جشن عید میلاد النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم منانا بالکل جائز ہے ۔ چنانچہ عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں اس بات کی دلیل ہے کہ بعض ایام کو بعض اعمال صالحہ کے ساتھ خاص کرلینا جائز ہے اور اس پر ہمیشگی اور مداومت اختیار کرنا بھی جائز ہے ۔ ‘‘ ( [5] ) عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں دلیل ہے کہ بعض ایام کو نفلی عبادت کے ساتھ خاص کرلینا جائز ہے ۔ حضرت سیدنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرم نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سترہ ۱۷ رمضان المبارک کی صبح مسجد قباء تشریف لے جاتے تھے ۔ البتہ جن اوقات کو عبادت کے ساتھ خاص کرنے کی واضح ممانعت موجود ہے وہ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جیساکہ شبِ جمعہ کو عبادت کے لیے خاص کرنے اور صرف جمعہ کا روزہ رکھنے سے حضور عَلَیْہِ السَّلَام نے منع فرمایا ہے ۔ ‘‘ ( [6] ) عَلَّامَہ اَبُوزَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’حضور عَلَیْہِ السَّلَام کا ہفتے دن مسجد قباء کی زیارت کو جانا بعض ایام کو زیارت کرنے کے ساتھ خاص کرنے کے جواز پر دلالت کرتا ہے اور یہی بات درست ہے ۔ ‘‘ ( [7] ) مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’معلوم ہوا کہ بزرگوں کی مسجدوں اور ان کے قیام گاہ متبرک ہیں ان کی زیارت ثواب ۔ کیونکہ مسجدقباءانصارکی مسجدہے اور وہ حضرات مقبولینِ بارگاہ تھے ، وہاں پیشانیاں رگڑنا اورسجدے کرنا قبولیت کا ذریعہ ہے ۔ حضور خواجہ اجمیر قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے لاہور آکر حضرت داتا صاحب عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کی پائنتی چلہ کیا وہ اسی حدیث سے ماخوذ تھا ۔ خیال رہے کہ جہاں بزرگوں کے قدم پڑجائیں وہ جگہ تاقیامت متبرک ہوجاتی ہے ۔ اب قباءمیں انصارنہیں لیکن اس کی شرافت وہی ہے ۔ ‘‘ ( [8] )
ہفتے کومسجدقباء جانے کی وجوہات :
حدیث پاک میں بیان ہوا کہ حضور عَلَیْہِ السَّلَام ہفتے کے دن مسجد قباء تشریف لے جاتے ، حضور عَلَیْہِ السَّلَام نے خاص طور پر ہفتے کے دن ہی کو کیوں مقرر فرمایا؟ شارحین حدیث نے اس کی چند وجوہات بیان فرمائی ہیں : ( 1 ) ہجرت کے بعد حضور عَلَیْہِ السَّلَام نے سب سے پہلے مسجد قباء کی بنیاد رکھی پھر اس کے بعد مسجد نبوی بنائی گئی اور یہیں جمعہ کی نماز ہوتی تھی ۔ تو اہل قباء اور مدینہ کے بالائی علاقے کے لوگ مسجد نبوی میں جمعہ ادا کرتے جس کی وجہ سے مسجد قباء جمعہ کے دن نماز سے معطل ہو جاتی تھی تو اسی کی تلافی اور تدارک میں حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہفتے کے دن قباء تشریف لے جاتے تھے ۔ ( 2 ) اہل قباء میں سے بعض حضرات جن پر جمعہ لازم نہیں تھا یا وہ کسی عذر کی وجہ سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہونے اور زیارت کا شرف پانے سے محروم ہوجاتے تھے تو ہفتے کے دن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کرم فرماکر خود قباء تشریف لے جاتے اور انہیں اپنی ملاقات و زیارت کے اعزاز سے نوازتے تھے ۔ ( 3 ) ہفتے کے علاوہ باقی دنوں میں آپ لوگوں کے مسائل کی تدبیر فرمانے میں مصروف ہوتے جبکہ ہفتے کے دن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فارغ ہوتے اسی وجہ سے اس دن
[1] نزہۃ القاری ، ۲ / ۷۱۵ ۔
[2] ترمذی ، ابواب الصلاۃ ، باب ماجاء فی الصلاۃ فی مسجدقباء ، ۱ / ۳۴۸ ، حدیث : ۳۲۴ ۔
[3] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الصلاۃ ، باب المساجد ومواضع الصلاۃ ، ۲ / ۴۰۰ ، تحت الحدیث : ۶۹۵ ۔
[4] عمدۃ القاری ، کتاب فضل الصلاۃ ۔ ۔ ۔ الخ ، باب مسجد قباء ، ۵ / ۵۷۲ ، تحت الحدیث : ۱۱۹۱ ۔
[5] فتح الباری ، کتاب فضل الصلاۃ ۔ ۔ ۔ الخ ، باب اتیان مسجد قباء ماشیاوراکبا ، ۴ / ۶۱ ، تحت الحدیث : ۱۱۹۴ ۔
[6] عمدۃ القاری ، کتاب فضل الصلاۃ ۔ ۔ ۔ الخ ، باب مسجد قباء ، ۵ / ۵۷۳ ، تحت الحدیث : ۱۱۹۱ ۔
[7] شرح مسلم للنووی ، کتاب الحج ، باب فضل مسجد قباء وفضل الصلاۃ فیہ وزیارتہ ، ۵ / ۱۷۱ ، الجزء التاسع ۔
[8] مرآۃ المناجیح ، ۱ / ۴۳۲ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع