30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تعلیم اُمَّت کے لیے ہے یا پھر سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی عظمت بیان کرنے اور آپ کا دل خوش کرنے کے لیے ہے ۔ ‘‘ ( [1] )
حضرت عمرکے لیے ایک جملہ تمام دنیاسے افضل :
دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جب امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمایا : ” اے بھائی ! ہمیں اپنی دعا میں یاد رکھنا ، بھول نہ جانا ۔ “ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے یہ مبارک کلمات سن کر سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بہت خوش ہوئے ، فرماتے ہیں کہ : ” اِس مبارک فرمان سے مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ اگر اس کے بدلے مجھے ساری دنیا بھی مل جائے تو اتنی خوشی نہ ہوتی ۔ “عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو سیِّد عالم ، نور مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جن کلمات سے خوشی ہوئی وہ یاتو یہ ہیں : ” ہمیں اپنی دعا میں شریک کرنا یااے بھائی ! ہمیں نہ بھولنا اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقت آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے کچھ اور فرمایا ہو لیکن یہاں حدیث پاک میں وہ الفاظ فخر یا آفت نفس سے بچنے کے لیے بیان نہ فرمائے ہوں ۔ “ ( [2] ) نیز حضرت عمر کا یہ فرمان فخریہ نہیں بلکہ شکریہ کے طور پر ہے یعنی حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے بھائی کے خطاب سے نوازا ۔ معلوم ہوا کہ میں دنیا وآخرت میں صحیح مؤمن ہوں پھر مجھے حکم دعا کہ حضور کو دعائیں دوں ۔ معلوم ہوا کہ میرا منہ حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دعا کے لائق ہے ، پھر فرمایا مجھے بھولنا نہیں ۔ معلوم ہوا کہ میرا دل کاشانۂ یار بننے کے لائق ہے ، یہ ایسی بشارتیں ہیں کہ تمام دنیا کی نعمتیں ان پرقربان ہیں ۔ ‘‘ ( [3] )
مدنی گلدستہ
” سیدنا عمر“کے 8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 8مدنی پھول
(1) اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اپنے مختلف اُمور میں حضور نبی اکرم نور ِمجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اِجازت طلب کیا کرتے تھے ۔
(2) امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بارگاہِ رسالت میں نہایت ہی بلند مقام و مرتبہ تھاکہ حضور نبی رحمت ، شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خود آپ کو اپنی دعاؤں میں شمولیت کا ارشاد فرماتے ہیں ۔
(3) شاگرد اور مرید کے لیے مستحب ہے کہ ہر کام سے پہلے اپنے استاد اور شیخ سے اجازت حاصل کرلے ۔
(4) سرکار دوعالم ، نور مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بھائی فرمانا کریمانہ انداز ہے لیکن کسی مسلمان کا یہ حق نہیں کہ وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنا بھائی کہے ۔
(5) اُمتی کی طرف سے حضور عَلَیْہِ السَّلَام کے لیے اعلیٰ دعا آپ پر درود شریف پڑھنا ہے ۔
(6) حضور عَلَیْہِ السَّلَام کو اپنی دعا میں شامل کرنے سے دعا قبولیت کے قریب ہوجاتی ہے ۔
(7) کسی بھی نیک سفر پر جانے والے سے دعا کی درخواست کرنا مستحب ہے ۔
(8) دعا مانگتے ہوئے فقط اپنے لیے دعا نہ مانگی جائے بلکہ عزیز و اقرباء کو بھی اپنی دعا میں شامل کیاجائے ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے بزرگوں کا احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 374 مسجد قباء کی زیارت کرنا
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُوْرُ قُبَاءَ رَاكِبًا وَمَاشِيًا فَيُصَلِّي فِيْهِ رَكْعَتَيْنِ.وَفِيْ رِوَايَةٍ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَاْتِيْ مَسْجِدَ قُبَاءَ كُلَّ سَبْتٍ رَاكِبًا وَمَاشِيًا وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ. ( [4] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ’’حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سوار ہوکر اور پیدل مسجد قباء کی زیارت کے لیے تشریف لے جاتے اور وہاں دو رکعت نفل ادا فرماتے ۔ ‘‘ اور ایک روایت میں ہے کہ نبی رحمت شفیع امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہر ہفتے کے دن سوار ہوکر اور پیدل مسجد قباء تشریف لے جاتے تھے اور جلیل القدر صحابی رسول حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بھی اسی طرح کیا کرتے تھے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع