دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُؕ- ( پ۱۸ ، النور : ۶۲ )

 ترجمۂ  کنزالایمان  : ایمان والے تو وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر یقین لائے اور جب رسول کے پاس کسی ایسے کام میں حاضر ہوئے ہوں جس کے لیے جمع کیے گئے ہوں تو نہ جائیں جب تک ان سے اجازت نہ لے لیں ۔

امیر المؤمنین سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے عمرے کی اجازت عطا فرمائی اور مغفرت کی دعا سے بھی نوازا ۔ ‘‘ ( [1] )

حضورعَلَیْہِ السَّلَام کی عاجزی :

حضور نبی پاک صاحب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ’’بھائی   ‘‘  فرمایا ۔ مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جو حضرت عمر کو بھائی فرمایا یہ انتہائی کرم کریمانہ ہے جیسے سلطان اپنی رعایا سے کہے :  میں تمہارا خادم ہوں ۔  مگر کسی مسلمان کا حق نہیں کہ حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بھائی کہے ۔ رب تعالیٰ فرماتاہے :

لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًاؕ- ( پ۱۸ ، النور : ۶۳ )

ترجمۂ  کنزالایمان  : رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرالوجیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے ۔

اسی لیے کبھی صحابہ کرام نے حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بھائی کہہ کر نہ پکارا ۔ روایت حدیث میں تمام صحابہ یہی کہتے تھے قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔ ‘‘ ( [2] )

اُمَّتی حضور عَلَیْہِ السَّلَامکے لیے کیا دعا کرے ؟

شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمایا : ’’اے بھائی !  ہمیں دعا میں یاد رکھنا ۔   ‘‘  اس کے تحت مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں :  ” یعنی مکہ معظمہ پہنچ کرہرمقبول دعا میں اپنے ساتھ میرے لیے بھی دعا کرنا ۔ معلوم ہوا کہ حاجی سے دعا کرانا اور وہاں پہنچ کر دعا کرنے کے لیے کہنا سنت ہے ۔ صوفیائے کرام اس جملے کے معنی یہ کرتے ہیں کہ :  اے عمر !  ہر دعا میں ہم پر دُرود شریف پڑھنا ہمارے دُرود کو نہ بھولنا تاکہ اس کی برکت سے تمہاری دعائیں قبول ہوں ۔  حضور کے لیے اعلیٰ درجے کی دعا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درود شریف پڑھنا ہے ۔  کریم کے پیاروں کو دعائیں دینا درحقیقت اس سے مانگنے کی تدبیر ہے ، ہمارا بھکاری ہمارے دروازے پر آکر ہمارے جان و مال اولاد کو دعائیں دیتا ہے ہم سے بھیک پاتا ہے ۔ ہم بھی رب تعالیٰ کے محبوب کو دعائیں دیں رب تعالیٰ سے بھیک لیں ۔ ‘‘ ( [3] )

سب کے لیے دعا کرے :

عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’حضور عَلَیْہِ السَّلَام نے حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے جو دعا کا فرمایا اس سے مقام عبودیت میں خضوع اور عاجزی کا اظہار کرنا مقصود ہے اور آپ نے اپنے اس عمل سے امت کو خدا کے نیک بندوں اور صالحین سے دعا کروانے کی ترغیب دلائی ہے اور اس بات پر تنبیہ فرمائی ہے کہ دعا کرنے والا صرف اپنے لیے دعانہ کرے بلکہ اپنی دعا میں اپنے اقرباء اور چاہنے والوں کو بھی شامل کرلے خاص طور پر ان دعاؤں میں کہ جو مقام قبولیت میں مانگی جائیں ، اور اس سے حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شان و عظمت کا پتا چلتا ہے ۔ ‘‘ ( [4] )

مسافر سے دعا کی درخواست :

عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ارشاد سے ثابت ہوتا ہے کہ مقیم کے لیے مستحب ہے کہ وہ مسافر کو مقامات خیر پر دعا کرنے کی درخواست کرے ۔  اگرچہ مقیم مسافر سے افضل ہو اور اگرچہ اسے یہ بھی معلوم ہو کہ مسافر اس کے لیے دعا کرے گا تب بھی اسے یاد دلانے میں کوئی حرج نہیں ۔  خاص طورپر کہ جب اس کا سفر عبادت کے لیے ہو جیسے حج ، عمرہ اور جہاد وغیرہ تو ایسے سفر پر جانے والے سے لازمی طورپر دعا کی التجا کرے ۔ ‘‘ ( [5] )

ایک اہم بات کی وضاحت :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات بعد اَز خدا تمام کائنات میں بزرگ و برتر ہے ، آپ ہی کے صدقے اہل محشر قیامت کی ہولناکیوں سے نجات پائیں گے ، آپ ہی کی شفاعت سے بے شمار عاصی و گنہگار لوگوں کی مغفرت ہوگی ، آپ ہی سردار انبیاء و رسل ہیں ، آپ ہی خالق کائنات کے محبوب ہیں ، آپ کے فضائل و مناقب بے حد و بے شمار ہیں ۔  اس عظیم الشان مرتبے کے بعد بھی کیا آپ کو کسی کی دعا کی حاجت ہے ؟ کیا آپ اپنے غیر سے دعا کروانے سے مستغنی نہیں؟ تو پھر کیا وجہ ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو اپنے لیے دعا کروانے کا حکم ارشاد فرمایا؟ عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی اِس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ اول تو ہم یہ تسلیم ہی نہیں کرتے کہ کوئی شخص دعا سے مستغنی ہے ۔  ( کیونکہ ضروری نہیں کہ دعا صرف جہنم سے نجات ہی کے لیے ہو بلکہ بعض اوقات بلندئ درجات و اعلیٰ مقام کے لیے بھی دعا مانگی جاتی ہے ۔  ) لیکن اگر ہم یہ تسلیم کربھی لیں کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے غیر کی دعا سے مستغنی ہیں تو پھر سیدنا فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو دعا کا فرمانا



[1]     دلیل الفالحین ، باب فی زیارۃ اھل الخیر ومجالستھم ۔ ۔ ۔ الخ ، ۲ /  ۲۴۱تحت الحدیث : ۳۷۳ملخصا ۔

[2]     مرآۃ المناجیح ، ۳ / ۲۹۹ ۔

[3]     مرآ ۃ المناجیح ، ۳ / ۳۰۰ ۔

[4]      مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الدعوات ، الفصل الثانی ، ۵ / ۲۳ ، تحت الحدیث : ۲۲۴۸ ۔

[5]     دلیل الفالحین ، باب فی زیارۃ اھل الخیر ومجالستھم ۔ ۔ ۔ الخ ، ۲ /  ۲۴۱تحت الحدیث : ۳۷۳ملخصا ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن