دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

’’ اُویس قرنی  ‘‘  کے 8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور

 اس کی وضاحت سے ملنے والے 8مدنی پھول

(1)   حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عطا سے غیب کا علم رکھتے ہیں ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جیسا فرمایا تھا ویسا ہی ہوا ، نیز یہ آپ کا ایک عظیم معجزہ بھی ہے ۔

(2)   صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے علم غیب پر بہت پختہ یقین رکھتے تھے یہی وجہ ہے کہ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ارشاد کے بعد سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عہدرِسالت ، عہدِ صدیقی اور اپنے عہدخلافت تینوں میں حضرت سیدنا اویس قرنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کوتلاش کرتے رہے ۔

(3)   حضرت سیدنا اُویس قرنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نہایت ہی مقام ومرتبے والے تابعی ہیں ، آپ کے فضائل ومناقب خود اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بیان فرمائے ۔

(4)   نیک لوگوں کو تلاش کرنا اور ان سے دعا کروانا مستحب ہے جیساکہ سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سیدنا اُویس قرنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو یمنی قافلوں میں تلاش کرتے تھے ۔  نیز افضل مفضول سے بھی دعا کروا سکتا ہے ۔

(5)   والدین خصوصاً والدہ کی خدمت واطاعت کا اسلام میں بہت ترغیب دلائی گئی ہے ۔ سیدنا اُویس قرنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے حضور عَلَیْہِ السَّلَام کا زمانہ پایا لیکن اپنی والدہ محترمہ کی خدمت و دیکھ بھال کی وجہ سے حضور عَلَیْہِ السَّلَام کی بارگاہ میں حاضر نہ ہوسکے ، مگر آپ کو یہ شرف حاصل ہوا کہ آپ کے اس مبارک وصف یعنی والدہ کی اطاعت وفرمانبرداری کو خود اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بیان فرمایا ۔

(6)   امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُقطعی جنتی صحابی اور سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بعد اس امت میں سب سے افضل ہیں ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے سیدنا اویس قرنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اپنی خیر و بھلائی میں اضافہ کرنے کے لیے دعا کروائی ۔

(7)   صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اپنے بعد میں آنے والے تمام لوگوں سے افضل ہیں ، ان کے بعد کوئی بھی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا نیک بندہ  چاہے وہ کسی بھی مقام و مرتبے والا ہو ، مگر وہ صحابی کے درجے کو نہیں پہنچ سکتا ۔

(8)   حج ، جہاد یا کسی بھی نیک سفر سے واپس ہونے والے شخص سے دعا کروانی چاہیے کہ اس کی دعا قبول ہونے کی امید بہت زیادہ ہے ۔

اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیک لوگوں کو تلاش کرنے ، ان کی زیارت کرنے اور ان سے دعائیں کروانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں صالحین کی تعظیم کرنے اور ان سے محبت کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے ۔   

٭…٭…٭…٭

حدیث نمبر : 373                                                                                                                                                           نیک سفرپرجانے والے سے دعاکروانا

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ :  اِسْتَاْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُمْرَةِ فَاَذِنَ لِيْ وَقَالَ :  لَا تَنْسَنَا يَا اُخَيَّ مِنْ دُعَائِكَ فَقَالَ : كَلِمَةً مَا يَسُرُّنِيْ اَنَّ لِيْ بِهَا الدُّنْيَا.وَفِیْ رِوَایَۃٍ قَالَ : اَشْرِكْنَا يَا اُخَيَّ فِي دُعَائِكَ. ( [1] )

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا  عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :  میں نے حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عمرہ کرنے کی اجازت مانگی تو آپ نے مجھے اجازت عطا فرمائی اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا : ” اے بھائی !  مجھے اپنی دعا میں نہ بھولنا ۔ “سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’حضور تاجدار رسالت شہنشاہ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس مبارک فرمان سے مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ اگر اس کے بدلے مجھے ساری دنیا بھی مل جائے تو اتنی خوشی نہ ہوتی ۔   ‘‘  ایک روایت میں ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یوں ارشادفرمایا : ’’اے بھائی !  ہمیں بھی اپنی دعا میں شریک کرنا ۔   ‘‘ 

استاد یاپیرصاحب سے سفرکی اجازت مانگنا :

مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا  عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضور سیدعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عمرہ کرنے کی اجازت چاہی ۔  اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسلام سے پہلے عمرہ کی نذر مانی تھی جو پوری نہ کرسکے تھے کہ مسلمان ہوگئے ۔ پھر حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مسئلہ پوچھا تو فرمایا  : ’’نذر پوری کر و ۔ ‘‘ تب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عمرہ کے لیے حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اجازت سے روانہ ہوئے ۔  ( [2] )

 عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :  ’’اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شاگرد اور مرید کے لیے مناسب ہے کہ ہر کام میں اپنے استاد اور شیخ سے اجازت طلب کریں ۔  خاص طور پر ان نیک کاموں میں ضرور اجازت طلب کریں جو باہم اجتماعیت کے ساتھ کیے جاتے ہیں تاکہ شاگرد یا مرید کی غیر موجود گی اُستاد اور شیخ کے ذہن میں ہو ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :

 



[1]     ابو داود ، کتاب الوتر ، باب الدعا ، ۲ / ۱۱۴ ، حدیث : ۱۴۹۸ ۔

[2]     مرآۃ المناجیح ، ۳ / ۲۹۹ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن