30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسے بھی سیدنا اویس قرنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے دعا کروانے کی ترغیب دلائی ۔ وہ شخص جب سیدنا اویس قرنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ملا تو دعا کی درخواست کی ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’تم میرے لیے دعا کرو ۔ ‘‘ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ آپ نے اس شخص سے دعا کرنے کے لیے اس وجہ سے کہا کہ جو شخص جہاد ، حج یا کسی نیک سفر سے واپس آئے تو اس کی دعا قبول ہونے کی امید ہوتی ہے ، یہ شخص بھی حج سے واپس آرہا تھا اور حدیث پاک میں وارد ہے کہ : ” جب تم حاجی سے ملاقات کرو تو اس سے دعا کا کہوتاکہ وہ تمہارے لیے مغفرت طلب کرے ۔ “ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ : ” اللہ عَزَّوَجَلَّ حاجی کی مغفرت فرما دیتا ہے اور اس کی بھی جس کے لیے وہ مغفرت طلب کرے ، یہاں تک کہ وہ گھر لوٹ آئے ۔ “ اسی بنا پر آپ نے اس شخص سے دعا کا کہا ۔ لیکن اس نے آپ سے پھر دعا کی درخواست کی ، آپ نے پھر وہ ہی بات دہرائی کہ تم میرے لیے دعا کرو ۔ لیکن وہ آپ سے دعا کروانے پر بضد رہا ۔ پھر آپ نے اس سے پوچھا : ’’کیا تمہاری سیدنا فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ملاقات ہوئی؟ ‘‘ اس نے کہا : ’’جی ہاں ۔ ‘‘ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سمجھ گئے کہ سیدنا فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اِسے میرے بارے میں آگاہ فرما دیا ہے اور اب یہ دعا کروائے بغیر یہاں سے جانے والا نہیں ۔ لہذا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اس کے لیے دعا فرمادی ۔ اس کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے نفس پر فتنے کا خوف اور لوگوں میں مشہور ہونے کے فتنے سے بچتے ہوئے مخلوق سے روپوش ہوگئے تاکہ رب تعالیٰ کی طرف توجہ میں کمی واقع نہ ہو ۔ ‘‘ ( [1] )
برص کا نشان باقی رہنے کی وجہ :
مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ جب سرکارِ دوعالَم نورِ مجسم شاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدنا اویس قرنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے مختلف اَوصاف بیان فرمائے تو ان میں یہ بھی بیان فرمایا کہ انہیں برص کی بیماری تھی پھر ایک درہم کے برابر جگہ کے علاوہ ٹھیک ہوچکی ہوگی ۔ ‘‘ سیدنا اویس قرنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی ساری بیماری دور ہوگئی لیکن ایک درہم کے برابر جگہ کیوں رہ گئی؟ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’برص کا یہ باقی ماندہ نشان بھی حضرت سیدنا اُویس قرنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی دعا کی وجہ سے تھا کہ انہوں نے دعا مانگی تھی کہ : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میرے جسم میں کچھ سفیدی چھوڑ دے تاکہ اس کے ذریعے میں تیری نعمت کو یاد کرتا رہوں کہ تونے مجھے اس بُرے مرض سے نجات عطا فرمائی ۔ ‘‘ ( [2] )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک میں حضرت سیدنا اویس قرنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی حضور نبی پاک صاحب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک صفت یہ بھی بیان فرمائی کہ وہ اپنی والدہ کے فرمانبردار ہیں ، نیز بعض روایات کے مطابق وہ اپنی والدہ کی خدمت واطاعت ہی کی وجہ سے شرف صحابیت سے سرفراز نہ ہوسکے ۔ لیکن انہیں یہ شرف حاصل ہوا کہ خود اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کے مبارک اوصاف بیان فرمائے ۔ اس سے والدین خصوصاً والدہ کی اطاعت وفرمانبرداری کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ مگرافسوس ! آج ہماری اکثریت والدین کی خدمت واطاعت تو دُور کی بات اُن کے ساتھ نہایت ہی بدتمیزی سے پیش آتے اور بدسلوکی کرتے ہیں ۔ کاش ! ہم بھی سیدنا اُویس قرنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی سیرتِ طیبہ پر عمل کرنے والے بن جائیں ۔ اپنے والدین خصوصاً والدہ کی اطاعت وفرمانبرداری کرنے والے بن جائیں ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حقوق کے بعد بندے پر سب سے پہلا حق اس کی والدہ کا ہے ۔ والدہ کے حقوق سے متعلق تین فرامین مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پیش خدمت ہیں : ( 1 ) ’’ماں کی خدمت کواپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ جنت اس کے قدم کے پاس ہے ۔ ‘‘ ( [3] ) ( 2 ) ’’ماں کی خدمت میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت کرو جب تم ایساکرلو گے تو تم حاجی ، مُعْتَمِر ( یعنی عمرہ کرنے والے ) اور مجاہد کا مرتبہ پالو گے ۔ ‘‘ ( [4] ) ( 3 ) ’’مرد پر سب سے زیادہ حق اس کی ماں کاہے ۔ ‘‘ ( [5] )
سیدنا اُویس قرنی افضل التابعین :
حدیث پاک کی تیسری روایت میں اس بات کا ذکر ہے کہ اللہ1کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ تابعین میں سے بہترین آدمی وہ ہوگا جسے اُویس کہا جائے گا ۔ ‘‘ عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ ارشاد بالکل واضح ہے کہ افضل تابعی حضرت سیدنا اُویس قرنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں جبکہ سیدنا امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے نزدیک حضرت سیدنا سعید بن مُسَیّب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ افضل تابعی ہیں ۔ ان دونوں اقوال میں تطبیق دینا ممکن ہے کہ حضرت سیدنا سعید بن مُسَیّب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ علوم شرعیہ یعنی تفسیر ، حدیث اور علم فقہ میں افضل تابعی ہیں اور حضرت سیدنا اُویس قرنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اللہتعالیٰ کے یہاں کثرت ثواب میں افضل تابعی ہیں ۔ ‘‘ ( [6] )
مدنی گلدستہ
[1] دلیل الفالحین ، باب فی زیارۃ اھل الخیر ومجالستھم ۔ ۔ ۔ الخ ، ۲ / ۲۳۷ ، ۲۳۸تحت الحدیث : ۳۷۲ملخصًا ۔
[2] اشعۃ اللمعات ، کتاب الفتن ، باب ذکرالیمن والشام وذکراویس القرنی ، ۴ / ۷۴۹ ۔
[3] مسند امام احمد ، حدیث معاویۃ بن جاھمۃ ، ۵ / ۲۹۰ ، حدیث : ۱۵۵۳۸ ۔
[4] معجم اوسط ، ۲ / ۱۷۱ ، حدیث : ۲۹۱۵ ۔
[5] مستدرک حاکم ، کتاب البروالصلۃ ، باب بِرّاُمّک ۔ ۔ ۔ الخ ، ۵ / ۲۰۸ ، حدیث : ۳۲۶ ۷ ۔
[6] شرح مسلم للنووی ، کتاب فضائل الصحابۃ ، باب فضائل اویس القرنی رضی اللہ عنہ ، ۸ / ۹۵ ، الجزء السادس عشر ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع