30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے یہ فرمایا ۔ مگر فرمایا یہ کہ تم صحابہ میں سے جو بھی اُویس کو پائے وہ اپنے لیے اُن سے دعا کرائے ۔ ‘‘ ( [1] )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! واضح رہے کہ اہل سنت کا اس بات پر اجماع ہے کہ انبیاء ورسل بشر و رسل ملائکہ عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے بعد سب سے ا فضل امیر المؤمنین ، خلیفۂ رسول اللہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں ، ان کے بعد امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ، ان کے بعدامیر المؤمنین حضرت سیدنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ، ان کے بعد امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ، ان کے بعدعشرۂ مبشرہ کے بقیہ صحابہ کرام ، ان کے بعد باقی اہل بدر ، ان کے بعد باقی اہل اُحد ، ان کے بعد باقی اہل بیعت رضوان ، پھر تمام صحابہ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ۔ ان کے بعد تابعین ، تبع تابعین ، ائمہ مجتہدین ، غوث ، قطب ، اَبدال ، چاہے وہ کتنا ہی بڑے سے بڑا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ولی ہو ، کتنا ہی بڑے سے بڑا زاہد ہومگر ان کے مقام ومرتبے کو ہرگز نہیں پہنچ سکتا ۔ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جو بعد صدیق اکبر افضل الصحابہ ہیں ، حضرت سیدنا اویس قرنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اپنے لیے دعا کروائی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ افضل کا مفضول سے دعا کروانا جائز ہے ۔ مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’معلوم ہوا کہ افضل بھی مفضول صالح سے دعا کرائے ۔ حضرات صحابہ ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ ) جناب اُویس ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) سے کہیں افضل ہیں ، مگر اِن حضرات کو جناب اویس ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) سے دعا کرانے کا حکم دیا گیا ۔ ایک بار حضور انور ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) نے حضرت عمر ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) سے جب کہ وہ عمرہ کرنے مکہ معظمہ جارہے تھے فرمایا تھا کہ ’’مجھے اپنی دعا میں نہ بھولنا ۔ ‘‘ ( [2] )
سیدنا اویس قرنی مستجاب الدعوات ہیں :
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرت سیدنا اُویس قرنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے دعا کروائی ۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ سیدنا اُویس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے زیادہ فضیلت والے ہیں یا پھر سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مغفرت یافتہ نہیں ۔ بلکہ یہ تو اجماع سے ثابت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بسبب صحابیت سیدنا اُویس قرنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے افضل ہیں اور حضور نبی پاک ، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو سیدنا اُویس قرنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے دعا کروانے کا حکم اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ سیدنا اُویس قرنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مستجاب الدعوات ہیں اور سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا ان سے دعاکروانا خیر و بھلائی میں زیادتی کے لیے تھا ۔ یہ ایسا ہی ہے جیساکہ اللہ1کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ( اذان کے بعد کی دعا میں ) ہمیں اپنے لیے دُعا یعنی صلوٰۃ و سلام اور وسیلہ طلب کرنے کا حکم ارشاد فرمانا ۔ نیز آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس ارشاد میں صالحین سے دعا کروانے کا ثبوت ہے ۔ ‘‘ ( [3] )
حضرت سیدنا اویس قرنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضور نبی اکرم نورِمجسم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا زمانہ مبارک پایا تھا ، مگر اپنی والدہ کی خدمت کے باعث سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ملاقات نہ ہوسکی لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ کے فضائل ومناقب کو بیان فرمایا ۔ اشعۃ اللمعات میں ہے : ’’بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ حضورنبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ بات حضرت سیدنا اُویس قرنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا دل خوش کرنے کے لیے فرمائی اور ان لوگوں کا وہم دُورکیا جنہوں نے خیال کیا کہ سیدنا اُویس قرنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی صحبت یعنی صحابیت کا شرف حاصل نہیں کیا اور وہ پیچھے رہ گئے حالانکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنی والدہ محترمہ کی خدمت اور ان کا خیال رکھنے کی بنا پر یہ سعادت حاصل نہ کرسکے تھے ۔ ‘‘ ( [4] )
مُفَسِّرشہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’بعض بزرگوں کو فرماتے سنا کہ بعض صحابہ نے حضرت اویس ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) سے کہا کہ ’’تم نے حضور انور کا زمانہ پایا مگر زیارت نہ کی ۔ ‘‘ بولے : ’’ کیا تم نے زیارت کی ہے ؟ ‘‘ فرمایا : ’’ہاں ۔ ‘‘ کہا : ’’بتاؤ ! مجبوب ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کے سر ، داڑھی اور ریش بچی میں کتنے کتنے بال سفید تھے ؟ ‘‘ صحابہ نے کہا : ’’ہم نے شمار نہیں کیے ۔ ‘‘ فرمایا : ’’مجھ سے پوچھ لو ! میں نے گن لیے ہیں ، سر شریف میں چودہ بال سفید تھے داڑھی مبارک میں پانچ ریش بچی ( ہونٹ اور ٹھوڑی کے بیچ کے بال ) میں ایک ۔
گو مَیَسَّر نہیں سَالِک کو حضورِ بَدَنی ……… روح حاضر ہے مگر مثل اُویس قرنی
جسم ہِندی ہے مرا جان ہے میری مَدَنی ……… یا خدا دُور کسی طرح ہو بُعدِ بَدَنی“ ( [5] )
علم غیب مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع