دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

فَلْيَسْتَغْفِرْ لَكُمْ.وَفِيْ رِوَايَةٍ لَهُ عَنْ عُمَرَ  رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ :  اِنِّيْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ :  اِنَّ خَيْرَ التَّابِعِيْنَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ اُوَيْسٌ وَلَهُ وَالِدَةٌ وَكَانَ بِهِ بَيَاضٌ فَمُرُوْهُ فَلْيَسْتَغْفِرْ لَكُمْ. ( [1] )

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا اُسَیْر بن عَمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  جنہیں ابن جابر بھی کہا جاتا ہے ، بیان کرتے ہیں کہ  امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا  عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس جب یمنی مددگار مجاہدین کے قافلے آتے تو آپ ان سے دریافت فرماتے : ’’ کیا تم میں اُویس بن عامر ہیں؟  ‘‘  یہاں تک کہ ( ایک قافلے میں ) جب سیدنا اُویس قرنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاُن کے پاس پہنچے توسیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے پوچھا : ’’کیا آپ اُویس  بن عامر ہو؟  ‘‘   انہوں نے کہا :  ’’جی ہاں ۔ ‘‘ فرمایا : ’’کیا آپ قبیلہ مُراد اور قَرَن سے ہیں؟  ‘‘   کہا :  ’’جی ہاں ۔ ‘‘ فرمایا :  ’’کیا آپ کو برص کی بیماری تھی جو ایک درہم کی جگہ کے علاوہ ساری ٹھیک ہوگئی؟  ‘‘   کہا :  ’’جی ہاں ۔ ‘‘ فرمایا :  ’’کیا آپ کی والدہ ہیں؟  ‘‘   کہا :  ’’جی ہاں ۔ ‘‘ سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا :  ’’میں نے حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا  : ” تمہارے پاس یمنی مددگار مجاہدین کے قافلوں کے ہمراہ اُویس بن عامر آئیں گے ، وہ قبیلہ مراد اور ( اس کی شاخ ) قرن سے ہوں گے ، انہیں برص کی بیماری تھی پھر ایک درہم کے برابر جگہ کے علاوہ ٹھیک ہوچکی ہوگی ، اُن کی والدہ بھی ہوں گی اور وہ اُن کے ساتھ نیکی کرنے والے  ہوں گے ، اگر وہ کسی چیز پر اللہتعالیٰ  کی قسم کھالیں تو اللہتعالیٰ ان کی قسم ضرور پوری فرمادے گا ، اگر تم سے ہوسکے تو ان سے اپنے لیے مغفرت کی دعا کروانا ۔ “ لہٰذا آپ میرے لیے بخشش کی دعا کیجیے ۔  چنانچہ حضرت سیدنا اُویس قرنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے لیے دعا مانگی ۔  پھر سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے پوچھا :  ’’اب آپ کہاں جارہے ہیں؟  ‘‘   کہا :  ’’کوفہ ۔ ‘‘ فرمایا : ’’ کیا میں آپ ( کی خدمت ) کے لیے کوفہ کے حکمران کے نام خط نہ لکھ دوں؟  ‘‘   کہا :  ’’مجھے غرباء میں رہنا پسند ہے ۔ ‘‘

پھر آئندہ سال کوفہ کے سرداروں میں سے ایک آدمی حج کے لیے آیا تو اُس کی ملاقات سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ہوئی ، آپ نے اس سے سیدنا اُویس قرنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے متعلق پوچھا تو اس نے جواب دیا کہ میں انہیں شکستہ گھر اور کم سامان کے ساتھ چھوڑ کر آیا ہوں ۔ ‘‘ سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا :  ’’میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ :  ” تمہارے پاس یمنی مددگار مجاہدین کے قافلوں کے ہمراہ اُویس بن عامر آئیں گے ، وہ قبیلہ مراد اور ( اس کی شاخ ) قرن سے ہوں گے ، انہیں برص کی بیماری تھی پھر ایک درہم کے برابر جگہ کے علاوہ ٹھیک ہوچکی ہوگی ، ان کی والدہ بھی ہوں گی اور وہ ان کے ساتھ نیکی کرنے والے  ہوں گے ، اگر وہ کسی چیز پر اللہتعالیٰ  کی قسم کھالیں تو اللہتعالیٰ  اُن کی قسم ضرور پوری فرمادے گا ، اگر تم سے ہوسکے تو ان سے اپنے لیے مغفرت کی دعا کروانا ۔ “ چنانچہ یہ شخص بھی جب سیدنا اُویس قرنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس پہنچا تو ان سے عرض کی : ’’ میرے لیے بخشش کی دعا کر دیجئے ۔   ‘‘  سیدنا اُویس قرنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : ’’تم ایک نیک سفر ( یعنی حج ) سے واپس آرہے ہو ، تم میرے لیے دعا کرو ۔ ‘‘ اس نے پھر آپ سے عرض کی کہ ’’آپ میرے لیے مغفرت کی دعا کر دیجئے ۔ ‘‘ فرمایا :  ’’تم ایک نیک سفر سے واپس آرہے ہو ، تم میرے لیے دعا کرو ۔ ‘‘ پھر سیدنا اُویس قرنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے پوچھا :  ’’کیا تمہاری ملاقات امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ہوئی تھی؟  ‘‘   عرض کی : ’’جی ہاں ۔ ‘‘ پھر سیدنا اُویس قرنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس کے لیے بخشش کی دعا کی ۔  تب لوگوں کو سیدنا اُویس قرنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے مقام ومرتبے کا علم ہوا اور پھر آپ وہاں سے چلے گئے ۔

مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت سیدنا اُسَیر بن جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :  ’’اہل کوفہ کا ایک وفد  امیر المؤمنین سَیِّدُنا  فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خدمت میں حاضر ہوا ، وفد میں ایک ایسا آدمی بھی تھا جو سیدنا اُویس قرنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مذاق کرتا تھا ۔ سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا :  ’’کیا قبیلہ قرن کا کوئی آدمی یہاں ہے ؟  ‘‘   تو وہی آدمی حاضر ہوا ۔  سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے فرمایا : ’’رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا تھا کہ :  ” تمہارے پاس یمنی مددگار مجاہدین کا ایک شخص آئے گا جسے اُویس کہا جاتا ہوگا ، یمن میں اس کی والدہ کے سوا کوئی نہیں ہوگا ، اسے برص کی بیماری ہوگی ، پھروہ اللہتعالیٰ سے دعا کرے گا تو اللہتعالیٰ ایک درہم یا ایک دینار کے سوا باقی داغ اس سے دور فرمادے گا ، پس تم میں سے جس شخص کی اس سے ملاقات ہووہ ان سے اپنے لیے مغفرت کی دعا کروائے ۔   ‘‘ 

مسلم ہی کی ایک روایت میں یوں ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ : ’’میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا کہ : ’’تابعین میں سے بہترین آدمی وہ ہوگا جسے اُویس کہا جائے گا ، اس کی والدہ بھی ہوگی ، وہ برص کی بیماری میں مبتلا رہا ہوگا ، ا س سے کہنا وہ تمہارے لیے بخشش کی دعا مانگے ۔   ‘‘ 

حدیث پاک کی باب سے مناسبت :

اس حدیث پاک میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ایک نیک بندے اور ولی یعنی حضرت سیدنا اویس قرنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی زیارت اور سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی اُن سے ملاقات کا ذکر خیر ہے ، یہ باب بھی نیک لوگوں کی زیارت اور اُن سے ملاقات وغیرہ کا ہے اس لیے علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اس حدیث پاک کو اس باب میں بیان فرمایا ہے ۔

صحابی کا تابعی سے دعا کروانا :

امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حکم پر عمل کرتے ہوئے حضرت سیدنا اُویس قرنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اپنے لیے دعا کروائی ،  یعنی ایک صحابی رسول نے ایک تابعی سے اپنے لیے دعا کروائی ۔  حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بظاہر سیدنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے خطاب فرمایا تھا لیکن سیدنا اویس قرنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے دعا کروانے والا خطاب ان تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے تھاجو اُن کو پالیں ۔ مرآۃ المناجیح میں ہے :  ’’چونکہ حضرت اُویس قرنی ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) حضرت عمر ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) کے زمانہ ہی میں حج کو آنے والے تھے ، اس لیے اس علیم و خبیر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت عمر ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) ہی



[1]     مسلم ، کتاب فضائل الصحابۃ ، باب من فضائل اویس القرنی  رضی اللہ عنہ ، ص۱۳۷۵ ، حدیث : ۲۵۴۲ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن