دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

انسانوں کی مختلف صفات :

مذکورہ حدیث پاک کے دو2 جزء ہیں ۔  پہلے جز ءمیں لوگوں کو سونے اور چاندی کی کانوں سے تشبیہ دی گئی ہے اور یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ زمانہ ٔکفر میں عزت و شرف کے حامل تھے وہ اِسلام لانے کے بعد بھی شرف و اِکرام کے لائق ہیں ۔  حدیث پاک کے دوسرے جُزء میں روحوں کی ایک دوسرے سے نسبت و تعلق کو بیان کیا گیا ہے ۔  حدیث پاک کی شرح میں ابتداءً پہلے جُزء کی تفصیل بیان ہوگی اور آخر میں دوسرے جُزء سے متعلق بیان ہوگا ۔  حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا :  ’’لوگ سونے اور چاندی کی کانوں کی طرح ہیں ۔ ‘‘ مرآۃ المناجیح میں ہے : ’’ یعنی صورت میں تمام انسان یکساں ہیں مگر سیرت ، اَخلاق اور صفات میں مختلف جیسے ظاہری زمین یکساں اس میں کانیں مختلف ، نیک سے نیکی ظاہر ہوگی اور بد سے بدی ۔ ‘‘ ( [1] ) شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’یعنی لوگ عُمدہ اَخلاق اور مَحاسِن صفات میں اپنی قابلیت اور شرافت ذات کے لحاظ سے مُتَفَرِّقْ ہیں جیسے ایک کان وہ ہوتی ہے جو اپنے اندرلعل و یاقوت پیدا کرنے کی استعداد رکھتی ہے اور ایک کان سونا ، چاندی پیدا کرنے کی قابلیت رکھتی ہے اور ایک کان وہ ہوتی ہے جو لوہا ، تانبہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور ایک کان وہ ہوتی ہے جس میں سے سُرمہ اور چُونا وغیرہ پیدا ہوتا ہے ۔ ‘‘ ( [2] )  ایسے ہی انسانوں میں مختلف صفات پائی جاتی ہیں کوئی سخی ہے تو کوئی بخیل ، کوئی شجاع ہے تو کوئی بُزدِل ، کوئی حُسنِ اَخلاق سے آراستہ ہے تو کسی میں کجی کا غلبہ ہے ۔

عزت و شرف والے پانچ شخص :

حضورنبی اکرم ، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے لوگوں کو سونے اور چاندی کی کانوں سے تشبیہ دینے کے بعد فرمایا کہ جو لوگ زمانہ ٔکفر میں شریف یعنی عزت دار تھے وہ اِسلام لانے کے بعد بھی شرف و فضیلت کے مستحق ہیں ۔  شارِحِینِ حدیث نے حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کے اِس فرمان کے پانچ 5 معنیٰ بیان کیے ہیں : ’’ ( 1 ) جو شخص زمانہ ٔجاہلیت یعنی کفر کے زمانے میں خصالِ محمودہ یعنی نرمی اور بُردباری سے متصف تھا اور اسلام لانے کے بعد بھی ان صفات سے متصف رہا تو وہ باعزت ہے ۔  ( 2 ) جو شخص زمانہ ٔجاہلیت میں تو شریف نہ تھا لیکن اِسلام لانے کے بعد باعزت بھی تھا اور علمِ دِین بھی حاصل کیا تو اس کا مقام و مرتبہ اس شخص سے بڑھ کر ہے جو زمانہ ٔجاہلیت اور زمانہ ٔاسلام میں عزت دار تو ہے لیکن اس نے علمِ دِین حاصل نہیں کیا کیونکہ علم دِین ہی اصل میں انسان کو شرف و اکرام کا مستحق بناتا ہے ۔  علماء فرماتے ہیں :  بے قدر عالِم دِین باعزت جاہل سے بہتر ہے کیونکہ علم ایسی شے ہے جو پست کو بالا کردیتی ہے ۔  ( 3 ) جو شخص زمانہ ٔجاہلیت اور زمانہ ٔاسلام دونوں میں شریف ہے اور اس نے علم دِین بھی حاصل کیا تو اس کا مرتبہ مذکورہ بالا دونوں افراد سے بلند ہے ۔ ‘‘ ( [3] ) ( 4 ) شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ جو شخص زمانہ ٔجاہلیت میں نیک ، قبائل میں برگزیدہ ، اپنے ہم عصروں پر فائق اور اچھی عادات و صفات سے آراستہ تھا ، دِین اسلام میں آنے کے بعد بھی اس سے حمیدہ اَوصاف اور برگزیدہ اَفعال وجود میں آتے ہیں لیکن زمانہ ٔجاہلیت میں وہ ظلمت و کفر میں چھپا ہوا تھا جس طرح سونا چاندی کان میں مٹی سے ملا ہوا ہوتا ہے اور جب انہیں بھٹی میں ڈال کر تپایا جاتا ہے تو یہ صاف ہو کر پوری آب و تاب سے چمکنے لگتے ہیں ۔  اسی طرح جس شخص کی اچھی صفات کفر کے اندھیروں میں چھپی ہوئی ہوتی ہیں ، اسلام میں آنے اور ریاضت و مجاہدات کی بھٹی میں تپنے کے بعد اس سے ہر قسم کی مٹی اور گندگی دور ہوجاتی ہے اور وہ علم و معرفت کے نور سے روشن و منور ہوکر لوگوں پر فوقیت و برتری حاصل کرلیتا ہے ۔ ‘‘ ( [4] )  ( 5 ) مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’جو لوگ زمانہ ٔکفر میں اپنے قبیلوں کے سردار تھے جب وہ مسلمان ہو کر علم سیکھ لیں تو مسلمانوں میں سردار ہی رہیں گے ، اسلام سے عزت بڑھتی ہے گھٹی نہیں ۔  اس سے معلوم ہوا کہ نو مسلموں کو حقیر جاننا بہت بُرا ہے اور کفار کا سردارمسلمان ہوکر مسلمانوں کا سردار ہی رہے گا اسے گرایا  نہ جائے گا ۔ ‘‘ ( [5] )

رُوح کیا ہے ؟

مذکورہ حدیث پاک کے دوسرے جزء میں بیان کیا گیا کہ عالَمِ اَرواح میں جو روحیں آپس میں متعارف تھیں وہ دنیا میں بھی ایک دوسرے سے اُلفت رکھتی ہیں اور جو وہاں اجنبی تھیں وہ یہاں اختلاف کرتی ہیں ۔  رُوح وہ جوہر ہے جو جسم کے ساتھ قائم ہے اور اسی کی وجہ سے جسم میں حیات ہے ، اَرواح کی تخلیق جسم سے دوہزار سال پہلے ہوئی تھی ۔  یعنی یہ اَجسام سے پہلے موجود ہیں اور اَجسام کے فنا ہونے کے بعد بھی باقی رہتی ہیں ۔  اِس کی تائید اِس حدیث پاک سے ہوتی ہے کہ  ” اُحُد کے شہداء کی رُوحیں سبز پرندوں کے پوٹوں میں ہیں ۔ “ ( [6] )

اَرواح کے تعارف وتنافر سے کیا مراد ہے ؟

حدیث پاک میں بیان ہوا کہ رُوحِیں عالَمِ اَرواح میں ایک دوسرے سے متعارَف و ناآشنا ہونے کی وجہ سے دنیا میں مُوافق و مخالف ہوتی ہیں ۔  شارِحِینِ حدیث نے حضور عَلَیْہِ السَّلَام کے اِس فرمان کی چند صورتیں بیان فرمائی ہیں :  ( 1 ) علامہ خطابی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :  ’’عالَمِ اَرواح میں جن رُوحوں کی فطرت میں خیر و صَلاح ہو وہ اپنی مثل کی طرف اور جن میں شر و فساد ہو وہ اپنی نظیر کی طرف مَیلان رکھتی ہیں ۔  اَرواح کا آپس میں متعارف و اجنبی ہونے سے یہی مراد ہے ، اسی طرح جب یہ دنیا میں آتی ہیں تو نیک اہل خیر کی طرف مائل ہوتی ہیں



[1]     مرآۃ المناجیح ، ۱ / ۱۸۷ ۔

[2]     اشعۃ اللمعات ، کتاب العلم ، الفصل الاول ، ۱ / ۱۶۴ ۔

[3]     فتح الباری ، کتاب احادیث الانبیاء ، باب ﴿ام کنتم شھداء اذ حضر یعقوب الموت ۔ ۔  ۔ الخ﴾ ، ۶ / ۳۳۹ ، تحت الحدیث : ۳۳۷۴ملخصا ۔

[4]     اشعۃ اللمعات ، کتاب العلم ، الفصل الاول ، ۱ / ۱۶۴ملخصًا ۔

[5]     مرآ ۃ المناجیح ، ۱ / ۱۸۸ملخصًا ۔

[6]     عمدۃ القاری ، کتاب احادیث الانبیاء ، باب الارواح جند مجندۃ ، ۱۱ / ۱۹ ، تحت الحدیث : ۳۳۳۶ملخصًا ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن