30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہیں ، آخرت کی تیاری صرف یہ ہے کہ مجھے حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام سے محبت ہے ۔ ‘‘ ( [1] ) عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’اس شخص نے اپنی نظر میں اپنے اَعمال کو معمولی سمجھ کر ایک جانب رکھا اور دل میں موجود اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت کو حضور کی خدمت میں پیش کردیا ۔ ‘‘ ( [2] )
اللہ ورسول کی محبت تمام اعمال سے بڑھ کرہے :
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’اس شخص نے آخرت کی تیاری کے زمرے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت کے علاوہ کسی بھی قلبی ، بدنی اور مالی عبادت کا ذکر نہیں کیا کیونکہ اَعمال تو محبت کی فرع ہیں اور یہ محبت ہی سائرین و طائرین کے مقامات میں سے اعلیٰ مقام ہے اور جو شخص اللہ سے محبت کرتا ہے اللہ بھی اُس سے محبت فرماتا ہے ، ارشاد باری تعالیٰ ہے :
یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤۙ- ( پ۶ ، المائدۃ : ۵۴ ) ترجمۂ کنزالایمان : وہ اللہ کے پیارے اور اللہ ان کا پیارا ۔
لیکن یہ بات بھی معلوم ہونی چاہیے کہ اللہ و رسول سے محبت کے ساتھ اُن کی متابعت بھی ضروری ہے اطاعت کے بغیر محض محبت کا دعویٰ بے فائدہ ہے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ ( پ۳ ، آل عمران : ۳۱ )
ترجمۂ کنزالایمان : اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ اللہتمہیں دوست رکھے گا ۔
جب حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے اس دیہاتی کا جواب ملاحظہ کیا تو فرمایا : تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے محبت کرتے ہو ۔ مطلب یہ کہ جب کسی کی اُلفت ومَوَدَّت اِنسان کے نفس ، مال اور اَہل و عیال کی محبت پر غالب آجائے تو وہ اُسی کے ساتھ ملحق و منسلک ہوجاتا ہے اور محبت صادقہ کی علامت یہ ہے کہ بندہ وہی کام کرے جو اُس کے محبوب کو پسند ہو اور جس کام کا محبوب حکم دے اور ہر اُس کام سے اجتناب کرے جس سے محبوب منع کرے ۔ ‘‘ ( [3] ) لہٰذا اگر کوئی اللہ عَزَّوَجَلَّ سے محبت کا دعویدار ہے تو اُس پر لازم ہے کہ اپنے عقیدے ، قول ، فعل اور عمل سے اُس بات کو ثابت بھی کرے بایں طور کہ فرائض و واجبات پر عمل پیرا ہو اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا و خوشنودی والے کاموں میں دلچسپی لے اور اس کی نافرمانی سے گریزاں ہو ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! حدیث پاک میں بیان ہوا کہ جو جس سے محبت رکھتا ہے وہ اسی کے ساتھ ہوگا ۔ یہاں ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے محبت کرتے ہیں انہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی معیت کیسے حاصل ہوگی؟ کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تو جسم سے پاک ہے ۔ تو اس کے جواب میں عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’انسان کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی معیت اس کی مدد و نصرت اور توفیق کی صورت میں حاصل ہوگی ۔ ‘‘ ( [4] )
مدنی گلدستہ
سیدنا’’عثمان ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1) اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کو قیامت کا علم عطا فرمایا ہے اور اسے مخفی رکھنے کا حکم دیا ہے ۔
(2) صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے بے حد اُلفت و محبت رکھتے تھے اور اس محبت ہی کو اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتے تھے ۔
(3) جو شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ سے محبت کرتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ بھی اس سے محبت فرماتا ہے ۔
(4) اللہ ورسول سے محبت کادعوی کرنے والے پر لازم ہے کہ اُن کی اطاعت و فرمانبرداری کرے ۔
(5) جو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے محبت کرتے ہیں انہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی معیت اُس کی نصرت و توفیق کی صورت میں حاصل ہوگی ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے قلوب کو اپنی اور اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت سے منور فرمائے اور آخرت میں ہمیں اپنی اور اپنے حبیب کی معیت عطا فرمائے ۔
[1] مرآ ۃ المناجیح ، ۶ / ۵۸۹ملخصًا ۔
[2] دلیل الفالحین ، باب فی زیارۃ اھل الخیر ومجالستھم ۔ ۔ ۔ الخ ، ۲ / ۲۳۲ ، تحت الحدیث : ۳۶۹ ۔
[3] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الآداب ، باب الحب فی اللہ ومن اللہ ، ۸ / ۷۴۰ ، تحت الحدیث : ۵۰۰۹ملخصًا ۔
[4] دلیل الفالحین ، باب فی زیارۃ اھل الخیر ومجالستھم ۔ ۔ ۔ الخ ، ۲ / ۲۳۲ ، تحت الحدیث : ۳۶۹ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع