دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

صالحین کی محبت کے نفع مند ہونے کے لیے ان جیسے اعمال کرنا شرط نہیں بلکہ ان جیسے اعمال نہ ہونے کے باوجود بھی ان کی معیت نصیب ہوگی ۔ ‘‘ ( [1] ) ’’لیکن ان کی معیت نصیب ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ تمام اشیاء  یعنی مقام و مرتبے اور درجات میں صالحین کے مساوی ہو بلکہ معیت تو محض دخولِ جنت ہی سے نصیب ہوگئی اگرچہ دونوں کے درجات میں تفاوت پایا جائے کیونکہ درجات کی بلندی کا دارو مدار تو اَعمالِ صالحہ پر ہے ۔ ‘‘ ( [2] )

مدنی گلدستہ

’’ مُلْتَزَمْ  ‘‘  کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور

 اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول

(1)   نیک لوگوں سے محبت کرنے والا حشر میں نیکوں کے ساتھ ، بُرے اور بد عقیدہ لوگوں سے محبت کرنے والا بُرے لوگوں کے ساتھ ہوگا ۔

(2)   صالحین سے محبت کرنے والے کو حسنِ نیت کی وجہ سے صالحین کی مثل ثواب دیا جاتا ہے ۔

(3)   اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے محبت کرنے کی علامت یہ ہے  کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے محبت کی جائے ، آپ کی اطاعت کی جائے اور آپ کی سنت پر عمل کیا جائے ۔

(4)   صالحین کی محبت کے نفع مند ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ بعینہٖ ان جیسے سارے اعمال کیے  جائیں بلکہ اعمال میں تقصیر ہونے کے باوجود بھی صالحین کی معیت نصیب ہوگی ۔

(5)   صالحین کی معیت ملنے سے یہ مراد نہیں کہ بندے کو جنت میں ان جیسا درجہ اور مقام عطا ہو بلکہ اس سے مراد ان کے ساتھ جنت میں داخل ہونا اور ان کا قرب نصیب ہونا ہے ۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیک لوگوں سے محبت و عقیدت رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور قیامت کے دن ہمارا حشر صدیقین و صالحین کے ساتھ فرمائے ۔

   

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب !                       صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 369                                                                                                                                                            اللہ و رسول کی محبت نجات کا ذریعہ ہے

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ :  اَنَّ اَعْرَابِيًّا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :  مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :  مَا اَعْدَدْتَ لَهَا؟ قَالَ :  حُبَّ اللهِ وَرَسُوْلِهِ قَالَ :  اَنْتَ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ. ( [3] )   وَفِيْ رِوَايَةٍ لَهُمَا :  مَااَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيْرِ صَوْمٍ وَلَا صَلَاةٍ وَلَا صَدَقَةٍ وَلٰكِنِّيْ اُحِبُّ اللهَ وَرَسُوْلَهُ. ( [4] )

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے سوال کیا : ’’قیامت کب ہوگی؟  ‘‘   آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  ’’تونے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے ؟  ‘‘   عرض کی : ’’اللہتعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت ۔   ‘‘  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :  ’’تو اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھتا ہے ۔   ‘‘ 

 بخاری اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ اس شخص نے عرض کی :  ’’میں نے قیامت کے لیے زیادہ روزے ، نمازیں اور صدقات تو تیار نہیں کیے لیکن میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے محبت کرتا ہوں  ۔   ‘‘ 

رسولِ اکرم کا حکمت بھرا انداز :  

مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ ایک دیہاتی نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی : ’’ حضور قیامت کب آئے گی؟  ‘‘   آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے جوابًا ارشاد فرمایا :  ’’تم نے قیامت کی کیا تیاری کی ہے ؟  ‘‘   حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے یہاں بہت حکمت بھرا ا نداز اختیار فرمایا کیونکہ اس شخص نے قیامت کے وقت کے متعلق سوال کیا تھا اور قیامت اَسرارِ اِلٰہی میں سے ہے ، حضور عَلَیْہِ السَّلَام کو وُقُوعِ قیامت کا علم دیا گیا ہے مگر اظہار کی اجازت نہیں ۔ ‘‘ ( [5] ) ’’تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے حکیمانہ انداز میں سائل کی توجہ اس بات سے ہٹا کر کہ قیامت کب آئے گی؟ اس جانب مبذول کروائی کہ تمہارے لیے اہم بات یہ نہیں کہ قیامت کب آئے گی؟ اہم تو یہ ہے کہ تم نے قیامت کے لیے کیا نیک اعمال تیار کیے ہیں ۔ ‘‘ ( [6] ) اس شخص نے جواب دیا :  میں اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کرتا ہوں ۔  مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یہ صاحب بڑے متقی پرہیزگار عبادت گزار تھے مگر انہوں نے اپنے اعمال کو قیامت کی تیاری قرار نہ دیاکہ یہ سب نیکیاں تو اللہ کی نعمتوں کا شکریہ ہے جو مجھے دنیا میں مل چکیں اور مل رہی



[1]     شرح مسلم للنووی ، کتاب البروالصلۃ والآداب ، باب المرء مع من احب ، ۸ / ۱۸۶ ، الجزء السادس عشر ۔

[2]     دلیل الفالحین ، باب فی زیارۃ اھل الخیر ومجالستھم ۔ ۔ ۔ الخ ، ۲ /  ۲۳۱ ، تحت الحدیث : ۳۶۸ملخصا ۔

[3]     مسلم ، کتاب البروالصلۃ والآداب ، باب المرء مع من احب ، ص۱۴۱۸ ، حدیث : ۲۶۳۹ ۔

[4]      بخاری ، کتاب الادب ، باب علامۃ حب اللہ عزوجل ۔ ۔ ۔ الخ ، ۴ / ۱۴۷ ، حدیث : ۶۱۷۱ ۔

[5]     الخصائص الکبری ، باب اختصاصہ بالنصر بالرعب مسیرۃ شھر امامہ ۔ ۔ ۔ الخ ، ۲ / ۳۳۵ماخوذاً ۔

[6]      عمدۃ القاری ، کتاب البروالصلۃ ، باب ماجاء فی قول الرجل ” ویلک“ ، ۱۵ / ۲۹۹ ، تحت الحدیث : ۶۱۶۷ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن