30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَنْ اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ.
وَفِيْ رِوَايَةٍ : قِيْلَ لِلنَّبِيِِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَلرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ؟ قَالَ : اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ. ( [1] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولِ اَکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھتا ہے ۔ ‘‘
ایک روایت میں ہے کہ سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پوچھا گیا کہ ایک آدمی ایک قوم سے محبت رکھتا ہے لیکن وہ ابھی تک ان سے ملا نہیں ۔ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھتا ہے ۔ ‘‘
اولیاء سے محبت کرنے کی فضیلت :
مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ ایک شخص نے حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام سے عرض کیا کہ ایک آدمی ایک قوم سے محبت رکھتا ہے لیکن وہ ان سے ملا نہیں ۔ یعنی نہ ان کی صحبت میں بیٹھ سکا ، نہ ان جیسے اعمال کیے ، نہ ان جیسا علم حاصل کیا اور نہ انہیں دیکھ سکا تو ایسے شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے یعنی اس کا حشر اس کے محبوب کے ساتھ ہوگا اور اسے اپنے پسندیدہ لوگوں کی رفاقت و معیت نصیب ہوگی ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے :
وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىٕكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَۚ- ( پ۵ ، النساء : ۶۹ )
ترجمۂ کنزالایمان : اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اُسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ ۔ ( [2] )
شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضور نبی پاک ، صاحب لَولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمان : ” آدمی اُسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھتا ہے ۔ “ ان لوگوں کے لیے خوشخبری ہے جو صالحین ، علماء ، متقین اور اولیاء کے ساتھ محبت رکھتے ہیں ۔ امید ہے کہ یہ انہی لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے ۔ ‘‘ ( [3] ) نیز عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’حدیث پاک کا ظاہر عموم پر دلالت کرتا ہے کہ ہر شخص کا حشر اس کے محبوب کے ساتھ ہوگا ۔ یعنی نیک لوگوں سے محبت کرنے والے کا نیکوں اور فاسق وبدکار لوگوں سے محبت کرنے والے کا فاسقوں کے ساتھ ۔ اس کی تائید یہ حدیث پاک بھی کرتی ہے کہ : ” آدمی اپنے دوست کے دِین پر ہوتا ہے ۔ “ تو اِس حدیث پاک میں علماء صلحاء اور بزرگانِ دِین کے ساتھ محبت کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور فاسق و بدعقیدہ لوگوں سے محبت رکھنے والوں کے لیے اس میں تنبیہ و وعید ہے ۔ ‘‘ ( [4] )
مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ آدمی جس سے محبت کرتا ہے اسی کے ساتھ ہوگا ۔ محبت کی دو صورتیں ہیں : ( 1 ) بندے کا اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرنا ۔ ( 2 ) بندے کا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے نیک بندوں سے محبت کرنا ۔ عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَال فرماتے ہیں : ’’ ( 1 ) بندے کی اللہ عَزَّوَجَلَّ سے محبت کی علامت یہ ہے کہ بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے محبت کرے ، ان کے طریقے پر چلے اور ان کی سنت کی اقتدا کرے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ ( پ۳ ، آل عمران : ۳۱ )
ترجمۂ کنزالایمان : اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہکو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ اللہتمہیں دوست رکھے گا ۔
( 2 ) جو شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے کسی نیک بندے سے محبت کرے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان دونوں کو جنت میں جمع فرمادے گا اگرچہ اس کے عمل میں تقصیر ( کمی ) ہو کیونکہ جب بندہ صالحین سے اس لیے محبت رکھے کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت کرتے ہیں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّایسے شخص کو اُس کی اچھی نیت کی بنا پر انہی جیسا ثواب عطا فرماتا ہے کیونکہ محبت دل کا عمل ہے اور اس کا تعلق نیت سے ہے اور نیت ہی تمام اَعمال کی اصل ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے فضل سے جس کو چاہے عطا فرماتا ہے ۔ ‘‘ ( [5] )
صالحین کی معیت سے کیا مرادہے ؟
عَلَّامَہ اَبُوزَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ان روایات میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور صالحین و اہل خیر سے محبت رکھنے کی فضیلت معلوم ہوتی ہے خواہ وہ حیات ہوں یا نہ ہوں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے محبت کا افضل درجہ یہ ہے کہ ان کے اوامر یعنی جن باتوں پر عمل کرنے کا انہوں نے حکم دیا ہے ان پر عمل کیا جائے اور نواہی یعنی جن باتوں سے بچنے کا حکم دیا ہے ان سے اجتناب کیا جائے اور مستحباتِ شرعیہ پر عمل کیا جائے ۔ نیز
[1] بخاری ، کتاب الادب ، باب علامۃ حب اللہ عزوجل ۔ ۔ ۔ الخ ، ۴ / ۱۴۷ ، حدیث : ۶۱۷۰ ۔
[2] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الآداب ، باب الحب فی اللہ ومن اللہ ، ۸ / ۷۴۰ ، تحت الحدیث : ۵۰۰۸ ۔
[3] اشعۃ اللمعات ، کتاب الآداب ، باب الحب فی اللہ و من اللہ ، ۴ / ۱۴۴ ۔
[4] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الآداب ، باب الحب فی اللہ ومن اللہ ، ۸ / ۷۴۰ ، تحت الحدیث : ۵۰۰۸ ۔
[5] شرح بخاری لابن بطال ، کتاب الادب ، باب علامۃ الحب فی اللہ ۔ ۔ ۔ الخ ، ۹ / ۳۳۲ملخصا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع