دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب !                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 366                                                                                                                                                                                                                                      مُؤمن ہی کو دوست بناؤ

عَنْ اَبيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ :  لَا تُصَاحِبْ اِلَّا مُؤْمِنًا وَلَا يَاْكُلْ طَعَامَكَ اِلَّا تَقِيٌّ. ( [1] )

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید خُدْرِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  ’’مؤمن کے سوا کسی کو دوست نہ بناؤ اور پرہیزگار کے علاوہ تیرا کھانا کوئی نہ کھائے ۔   ‘‘ 

مؤمن سے کون مراد ہے ؟

مذکورہ حدیث پاک کے دو جز ہیں ۔  پہلے جز میں مؤمن ہی کو دوست بنانے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ دوسرے جز میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ تمہاری کمائی متقی و پرہیزگار لوگوں پر ہی خرچ ہونی چاہیے اور تمہارا کھانا پرہیزگار ہی کھائیں ۔  مؤمن ہی کو دوست بنانے کے حوالے سے عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’یہاں مؤمن سے مراد یا تو خاص کامل مؤمن ہے جو فاسق کے مقابلے میں بولاجاتا ہے یعنی کامل مسلمان ہی کو اپنا ہم نشیں بناؤ اور گناہ گار و فاسق لوگوں سے کنارہ کش رہو یا مؤمن سے مراد عام مسلمان ہے جو کفار و منافقین کے مقابلے میں بولاجاتا ہے یعنی اپنی رفاقت مسلمانوں ہی کے ساتھ رکھو اور کفار و منافقین کی دوستی سے بچو کیونکہ اُن کی مصاحبت دِین میں نقصان کا سبب ہے ۔ ‘‘ ( [2] )

عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :  ’’مؤمن ہی کو دوست بنانے کے حکم میں اس بات کی دلیل ہے کہ حضور نبی پاک ، صاحب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کفار سے میل جول ، الفت و محبت اور رفاقت و مُصَاحَبَت رکھنے سے منع فرمایا ہے ۔  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ  ( پ۲۸ ، المجادلۃ : ۲۲ )

ترجمۂ  کنزالایمان  :  تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی ۔  ( [3] )

بدمذہبوں سے اِختلاط جائزنہیں :

صَدرُ ا لا فاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْھَادِی اس آیت کے تحت فرماتے ہیں : ’’ یعنی مؤمنین سے یہ ہوہی نہیں سکتا اور ان کی یہ شان ہی نہیں اور ایمان اس کو گوارا  ہی نہیں کرتا کہ خدا اور رسول کے دشمن سے دوستی کرے ۔ مسئلہ :  اس آیت سے معلوم ہوا کہ بددینوں اور بدمذہبوں اور خداو رسول کی شان میں گستاخی اور بے ادبی کرنے والوں سے مَوَدَّت و اختلاط جائز نہیں ۔ ‘‘ ( [4] )

مخلص مومن کی صحبت کی فضیلت :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! حدیث پاک میں نیک متقی وپرہیزگار لوگوں کی رفاقت و ہم نشینی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے کہ ان کی صحبت کے طفیل اللہ عَزَّ  وَجَلَّ عام مسلمانوں پر بھی رحم و کرم فرماتا ہے ۔  اگر ہم دنیا میں نیک لوگوں سے اُلفت و محبت کا رشتہ قائم کریں گے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت سے امید ہے کہ وہ آخرت میں ہمارا حشر ان کے ساتھ فرمائے گا ۔   مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں :  ’’ا گرچہ محب کے اعمال محبوب جیسے نہ ہوں مگر محبت کی بنا پر اللہتعالیٰ اسے محبوب سے جدا نہ کرے گا ، پھول کے ساتھ گھاس بندھ جاوے تو گلدستہ میں اس کی بھی عزت ہوجاتی ہے ، اگر کسی گنہگار کو حضور احمد مختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے محبت نصیب ہوجاوے تو اِنْ شَآءَاللہحضور ہی کے ساتھ ہوا ۔  ( لہٰذا ) مخلص مومنوں کی خصوصًا ان کی کہ جو تم کواپنی صحبت میں کامل مکمل کردے ، تم کو اللہ رسول کے رنگ میں رنگ دے ان کی ہمراہی ان کے ساتھ رہنا ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اختیار کرو ۔ ‘‘ ( [5] )

متقی کو کھانا کھلانے کے دومعنٰی :

مذکورہ حدیث پاک کے دوسرے جز میں اس بات کا بیان ہے کہ تمہارا کھانا متقی کے علاوہ کوئی نہ کھائے ۔  حدیث پاک کے اس جملے کے دو معنیٰ ہو سکتے ہیں :  ( 1 ) روزی حلال ذریعے سے حاصل کرو تاکہ نیک و پرہیزگار مسلمانوں کے کھانے کے قابل ہو ۔  عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’یعنی تو حرام روزی کمانے سے اعراض کر کہ متقی حرام نہیں کھاتے اور ایسی کمائی سے بچ جس سے پرہیزگار لوگ متنفر ہوتے ہیں ۔  حاصل کلام یہ ہے کہ تو کسب حلال کر تاکہ مطیع و فرمانبردار لوگ ہی تیرے صاحب و خلیل ہوں ۔  ( [6] ) ( 2 ) حضورنبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فرمان کا دوسرا معنی یہ ہے کہ تم اپنا مال نیک لوگوں ہی پر خرچ کرو اور پرہیزگاروں ہی کو کھانا کھلاؤ ۔  مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں :  ’’یہ فرمان بہت جامع ہے یعنی روزی حلال کماؤ تاکہ نیک لوگوں کے لائق بنو اور کوشش کرو کہ تمہاری روزی کفار و فساق منافقین نہ کھائیں ،



[1]     ابو داود ، کتاب الادب ، باب من یؤمران یجالس ، ۴ / ۳۴۱ ، حدیث : ۴۸۳۲ ۔

[2]      مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الآداب ، باب الحب فی اللہ ومن اللہ ، ۸ / ۷۵۰ ، تحت الحدیث : ۵۰۱۸ملخصًا ۔

[3]     دلیل الفالحین ، باب فی زیارۃ اھل الخیر ومجالستھم ۔ ۔ ۔ الخ ، ۲ /  ۲۲۹ ، تحت الحدیث : ۳۶۶ ۔

[4]     تفسیرخزائن العرفان ، پ۲۸ ، المجادلۃ ، تحت الآیۃ : ۲۲ ۔

[5]     مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۵۹۸ملتقطا ۔

[6]      مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الآداب ، باب الحب فی اللہ ومن اللہ ، ۸ / ۷۵۱ ، تحت الحدیث : ۵۰۱۸ملخصًا ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن